Ultimate magazine theme for WordPress.

یومِ اقبال اور کلامِ اقبال کی بے حرمتی

زیادہ تر نے علامہ اقبال کی بجائے کسی "اقبال مستری" کے اشعار پوسٹ کیے، جو افسوسناک اور شرمناک ہے

433

صبح سے لے کر اب تک ڈھیروں سٹیٹس واٹس ایپ اور فیس بک پر دیکھ لیے۔ شاذ ہی کسی نے اصلی اقبال کا شعر پوسٹ کیا۔

زیادہ تر عوام نے اقبال مستری کے ٹھوکے ہوئے اشعار کو اصلی علامہ اقبال کی تصویر پر ٹھوک کر ڈاکٹر صاحب کی روح کو خراج تحسین پیش کیا۔

سہل پسندی کا حد سے گزر جانا دیکھئیے اور اندازہ لگائیے کہ عوام کی اکثریت نے اقبال صاحب کی کتاب تو دور انکے وہ اشعار تک پڑھنا اور یاد کرنا تک گوارا نہ کیے جو پی ٹی وی پر شام کو بلا ناغہ سنائے جاتے تھے۔ شائد آج بھی چھ یا سات بجے کے خبر نامہ سے پہلے پڑھے جاتے ہوں۔

پہلے ہر کوئی کہتا رہا کہ اقبال کے فلسفہ اور اشعار کو سمجھنا آسان نہیں ۔ پھر اسکا حل یہ نکالا کہ جس نے قافیے سے قافیہ جوڑ لیا اور بیچ میں "اقبال” ٹانک دیا، بس سوچے سمجھے بغیر یہی اشعار زبان زدِ عام ہو گئے۔

کسی شعر میں اقبال سجدے میں کافر ہونے کی نوید سنا دیتے ہیں تو کہیں پڑھائی کو کوستے ہوئے نظر آتے ہیں اور یہ کام وہ انتہائی سستے الفاظ میں کرتے ہیں۔

ہمیں بھی اقبال شناس ہونے کا کوئی بڑا دعویٰ نہیں لیکن کسی حد تک اقبال کا اسلوب پہچان لیتے ہیں اور ایسی کوتاہی سے حتی امکان گریز کرتے ہیں۔

جہاں کہیں کبھی بھی شک کا احتمال بھی ہوا، گوگل نے مدد کی اور حقیقت تک جا پہنچے۔

حد یہ ہے کہ آج انٹر نیٹ ہر کسی کی پہنچ میں ہونے کے باوجود حقائق جاننے کی بجائے انہیں مسخ کر کے زیادہ خوشی محسوس کی جاتی ہے اور ایسا شخص خود کو عالم سے کم محسوس نہیں کرتا۔ اگر آپ غلطی سے کسی کی تصحیح بھی کردیں گے تو آپ کو ناقدانہ نظروں سے دیکھا جائے گا ۔ اور خود کو غلط ماننے سے انکار کر دیا جائے گا۔

اب دو ہی صورتیں بچتی ہیں یا تو خاموش تماشائی بن جائیے اور اقبالیات کا تیا پانچہ ہوتے دیکھیے۔ اور انتظار کیجئے کہ اگلی نسل کے ہاتھ میں جو اقبال لگے گا، اس سے بہتر اشعار وہ خود کہہ رہے ہوں گے۔

یا نقار خانے میں طوطی کی سی آواز لگاتے جائیے، تمام لوگ نہ بھی سنیں تو بھی ہزاروں میں سے چند افراد ضرور سنیں گے اور یوں آپکی آواز کا حق ادا ہو جائے گا ۔

فیس بک پر چند اچھے صفحات کلام اقبال کی ترویج اور غلط اشعار کی نشاندہی کا کام بخوبی انجام دے رہے ہیں ۔ اور اچھی خاصی فین فالونگ رکھتے ہیں۔

ایسے افراد کی وجہ سے یہ امید باقی ہے کہ بہت سارے احمقانہ اشعار کے ساتھ ساتھ اقبال کا اصل پیغام بھی چند افراد تک پہنچتا ہو گا۔ اور کسی نہ کسی پر اثر بھی کرتا ہو گا ۔ورنہ یہ تو اقبال نے فرما ہی دیا
پھول کی پتی سے کَٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مردِ ناداں پر کلامِ نرم و نازک بے اثر

1 Comment
  1. Misbah says

    👏👍🏻

Leave A Reply

Your email address will not be published.