Ultimate magazine theme for WordPress.

Joe Biden Life History and Politics Career

ایک وقت میں خود کشی تک کا سوچنے والا جو بائیڈن اب امریکی تاج سر پر سجانے کو ہے

147

Joe Biden Life History –  Trump vs Biden who will win in US Election 2020

joe biden life history

سابق ڈیلویئر سینیٹر جو  بائیڈن صدر باراک اوباما کے ساتھ پہلی مرتبہ سال 2008 میں 47 ویں امریکی نائب صدر منتخب ہوئے، جس کے بعد وہ 2012 میں دوبارہ باراک اوبامہ کے ساتھ نائب صدر منتخب ہوئے۔ 2020 میں ڈیموکریٹس نے انہیں صدارتی امیدوار نامزد کیا۔

جوبائیڈن کون ہیں؟ Joe Biden Life History

جو بائیڈن نے سیاست کا رخ کرنے سے پہلے مختصرا. وکیل کی حیثیت سے کام کیا۔ وہ تاریخ کے پانچویں کم عمر ترین امریکی سینیٹر ہونے کے ساتھ ساتھ ڈلاوئر کیلئے سب سے طویل عرصہ تک سینیٹر بھی بنے۔ جو بائیڈن 2008 سے 2016 تک صدر باراک اوبامہ کے ساتھ امریکہ کے نائب صدر بھی رہے۔  2017 میں اوباما نے بائیڈن کو صدارتی تمغہ برائے آزادی بخشا۔

پیدائش اور ابتدائی حالات زندگی Joe Biden Childhood Life

بیس نومبر 1942 کو پیدا ہونے والے جو بائیڈن ملک کے اعلی ترین دفتر (وائٹ ہاوس) میں پہنچنے سے بہت پہلے، شمال مشرقی پنسلوینیا ریاست کے شہر سکرانٹن میں پلے بڑھے۔ ان کے والد ، جوزف بائیڈن سینئر، بھٹیوں کی صفائی کا کام اور بطور استعمال شدہ کار کی خریدوفروخت کا کام کرتے تھے۔ جو بائیڈن کی والدہ کا نام کیترین یوجینیا "جین” فننیگن ہے۔

والدین کی تربیت کا اثر Joe Biden Family

جو بائیڈن اپنے اندر بہادری، محنت اور استقامت کا جذبہ پیدا کرنے کا سہرا اپنے والدین کو دیتے ہیں۔ جو بائیڈن اپنے والد کو بار بار یہ کہتے ہوئے یاد کرتے ہیں کہ "چیمپئین، آدمی کا پیمانہ یہ نہیں ہوتا ہے کہ اسے کتنی بار نیچے گرادیا جاتا ہے، بلکہ وہ کتنی جلدی اُٹھ جاتا ہے۔”

جو بائیڈن بتاتے ہیں کہ "ایک بار عمر سے بڑے لڑکے نے اُن سے سخت بدتمیزی اور برا برتاو کیا تو ماں نے کہا اُسے مزا چکھاؤ تاکہ تم اگلے دن فخر سے گلی میں چل سکو”۔”

ابتدائی تعلیم Joe Biden Education

جو بائیڈن نے سکریٹن میں سینٹ پال کے ایلیمنٹری اسکول میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ 1955 میں ، جب جو بائیڈن 13 سال کے تھے، تو ان کے خاندان نے فیلڈ مے فیلڈ ، ڈیلاویر منتقل ہونے کا فیصلہ کرلیا۔ جو تیزی سے بڑھتی ہوئی درمیانی طبقے کی کمیونٹی تھی۔

بچپن کی ہکلاہٹ

بچپن میں جو بائیڈن کو سخت جدوجہد کرنا پڑی، بچے ان کی ہکلاہٹ کا مزاق اڑاتے اور انہیں "ڈیش” قرار دیتے۔ جو بائیڈن نے آخرکار طویل اشعار کو حفظ کرکے اور آئینے کے سامنے اونچی آواز میں گفتگو کرکے اپنی ہکلاہٹ پر قابو پالیا۔

کھڑکیاں دھونے سے مزدوری تک Joe Biden Life History

جو بائیڈن نے سینٹ ہیلینا اسکول میں تعلیم حاصل کی، اسی دوران "آرچمیر اکیڈمی” میں ان کا داخلہ ہوگیا، لیکن اِس ادارے کی ٹیوشن فیس کی ادائیگی کیلئے جو بائیڈن  کو کھڑکیاں دھونے سے لے کر باغات میں ہیلپر تک کا کام کرنا پڑا۔

جو بائیڈن نے اس ادارے میں جانے کا طویل عرصہ سے خواب دیکھا تھا، جسے وہ "میری گہری خواہش کا مقصد” قرار دیتے ہیں۔ آرچمیر میں  جو بائیڈن اپنے چھوٹے قد کے باوجود فٹ بال ٹیم کے ایک زبردست کھلاڑی ثابت ہوئے۔ اُن کا کوچ اب بھی یاد کرتا ہے "وہ ایک دُبلا پتلا بچہ تھا، لیکن اس کے باوجود وہ ایک زبردست کھلاڑی تھا” جو بائیڈن نے 1961 میں آرک مائر سے گریجویشن مکمل کی۔

کالج میں شب و روز Joe Biden College Life

جو بائیڈن نے اعلیٰ تعلیم یونیورسٹی آف ڈیلاور سے حاصل کی، جہاں جو بائیڈن نے تاریخ اور سیاسیات کا مطالعہ کرنے کے علاوہ فٹ بال بھی کھیلا۔ بعد میں وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ انہوں نے کالج کے اپنے پہلے دو سال تعلیم پر توجہ دینے کی بجائے فٹ بال کھیلنے، لڑکیوں سے دوستیاں کرنے اور پارٹیوں میں زیادہ دلچسپی لینے میں گزارے۔

انہی برسوں میں جو بائیڈن نے سیاست میں بھی شدید دلچسپی پیدا کرلی تھی، جس کا ایک حصہ 1961 میں جان ایف کینیڈی کے متاثرکن افتتاح کے بعد ہوا۔

پہلی نظر میں محبت Joe Biden Wife Name

کالج کے ابتدائی سال کے دوران بہاماس کے موسم بہار کی چھٹیوں کے دن تھے، جب میں جو بائیڈن کی ملاقات نیلیا ہنٹر نامی سائراکیز یونیورسٹی کی ایک طالبہ سے ہوئی۔ جو بائیڈن خود کہتے ہیں کہ "یہ پہلی نظر کی محبت تھی” اپنی نئی محبت سے حوصلہ پاکر جو بائیڈن نے ساری توجہ تعلیم پر مرکوز کردی۔ 1965 میں ڈیلاوئر سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد جو بائیڈن نے سائراکیز یونیورسٹی لا اسکول میں داخلہ لے لیا۔ جہاں جو بائیڈن اور ہنٹر نے اگلے سال یعنی 1966 میں شادی کی۔

ذاتی لاء فرم اور سیاست کا آغاز Joe Biden Politics

1968 میں لاء اسکول سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد جو بائیڈن ایک قانون ساز کمپنی میں پریکٹس شروع کرنے کیلئے ڈیلاویئر کے شہر ولیمنگٹن چلے گئے۔ یہیں جو بائیڈن نے سیاست میں باقاعدہ دلچسپی لینا شروع کی اور جلد وہ ڈیموکریٹک پارٹی کے ایک فعال رکن بھی بن گئے۔ 1970 میں وہ نیو کیسل کاؤنٹی کونسل میں منتخب ہوئے۔ کونسلر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے ہوئے 1971 میں جو بائیڈن نے اپنی ایک لا فرم شروع کردی۔

بچوں کی پیدائش Joe Biden Children

جو بائیڈن کی مصروف پیشہ ورانہ زندگی تو تھی ہے، لیکن اس کے علاوہ ان کے تین بچے بھی تھے۔ بڑا بیٹا جوزف بائیڈین 1969 میں پیدا ہوا۔ بیٹی ہنٹر بائیڈن 1970 میں پیدا ہوئی جبکہ دوسرا بیٹا نومی بائیڈن 1971 میں پیدا ہوا۔ بائیڈن کہتے ہیں کہ "اس وقت میری زندگی میں سب کچھ توقع سے جلدی اور بڑی تیزی سے ہورہا تھا”۔

سینیٹر کا پہلا انتخاب Joe Biden as a Senetor

سال 1972 میں ڈیلاویئر کی ڈیموکریٹک پارٹی نے 29 سالہ جو بائیڈن کو ریاستہائے متحدہ کی سینیٹ کیلئے ریپبلکن کے مقبول امیدوار جے کالیب بوگس کے خلاف انتخاب لڑنے کی ترغیب دی۔ جو بائیڈن نے ایک انتھک مہم چلائی ، جس میں ان کے خاندان کے افراد بھی شامل تھے۔

ان کی بہن، ویلری بائیڈن اوونس اس مہم کی منیجر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دے رہی تھیں۔ جو بائیڈن کے والدین بھی روزانہ انتخابی مہم چلاتے تھے۔ یوں اُس نومبر میں، ایک زبردست ٹرن آؤٹ کے ساتھ اور ایک سخت انتخابی دوڑ میں جو بائیڈن نے زبردست اور حیران کن کامیابی حاصل کی۔ وہ امریکی تاریخ میں منتخب ہونے والے پانچویں کم عمر کے امریکی سینیٹر بن گئے۔

حادثے میں سارے خاندان کی تباہی

ایک جانب اگر جو بائیڈن کے تمام بڑے خواب پورے ہوتے دکھائی دے رہے تھے، تو دوسری جانب وہ ایک تباہ کن سانحہ کی زد میں بھی آگئے۔ یہ دسمبر  1972 کا سرد مہینہ تھا، جب کرسمس سے ایک ہفتہ پہلے کرسمس ٹری کی خریداری کے دوران جو بائیڈن کی اہلیہ اور تین بچے کار کے ایک خوفناک حادثے کا شکار ہوگئے۔ اس حادثے میں ان کی بیوی اور بیٹی کی موت ہوگئی اور ان کے دونوں بیٹے بائو اور ہنٹر شدید زخمی ہوگئے۔

جب جو بائیڈن نے خودکشی کا ارادہ کرلیا

یہ وہ صدمہ تھا، جس نے جو بائیڈن جیسے ناقابل تسخیر کو خود کشی کے بارے میں سوچنے پر مجبور کردیا۔ وہ یاد کرتے ہیں "میں نے سمجھنا شروع کردیا کہ مایوسی نے لوگوں کو صرف پیسہ کمانے پر مجبور کیا ہے، خودکشی صرف ایک آپشن نہیں بلکہ ایک عقلی آپشن تھا، مجھے لگا کہ خدا نے مجھ سے ناراض ہوکر یہ سب کچھ کیا ہے”۔ لیکن خاندان اور حلقہ کے عوام کی حوصلہ افزائی بہت جلد جو بائیڈن کو دوبارہ زندگی کی شاہراہ پر لے آئی۔

جو بائیڈن نے واشنگٹن میں نئے سینیٹرز کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی بجائے اپنے بیٹوں کے اسپتال کے کمرے سے اپنے عہدے کا حلف لیا۔ وہ زیادہ وقت اپنے بچوں کے ساتھ گزارنے لگے، جہاں سے ہر روز وہ ٹرین سے واشنگٹن جاتے اور اجلاس میں شرکت کرکے واپس اجاتے۔ یہ سلسلہ انہوں نے سینیٹ میں اپنے پورے طویل عرصے کے دوران برقرار رکھا۔

جو بائیڈن کا سینیٹ کا 37 سالہ کیریر اور خدمات

سال 1973  سے سال 2009 تک جو بائیڈن کا سینیٹ کا کیری بڑا شاندار رہا۔ سینیٹ میں اپنے وقت کے دوران ، جو بائیڈن نے کئی برس تک خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دیں۔ خارجہ پالیسی کے ان کے بہت سارے عہدوں کے دوران ان کی جانب سے سوویت یونین کے ساتھ اسٹریٹجک ہتھیاروں کی حدود کی وکالت کرنا، بلقان میں امن و استحکام کو فروغ دینا شامل تھا

ان کی خدمات میں نیٹو کی سابقہ سوویت بلاک اقوام کو شامل کرنے اور خلیج کی پہلی جنگ کی مخالفت بھی شامل ہیں۔ آئندہ برسوں میں جو بائیڈن نے دارفور میں نسل کشی کے خاتمے کیلئے امریکی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ جو بائیڈن نے صدر جارج ڈبلیو بش کی عراق جنگ سے نمٹنے کیخلاف اور 2007  میں عراق میں فوجیوں کے اضافے کے فیصلے کی مخالفت کی۔

جو بائیڈن کے سیاسی نظریات Joe Biden Policies

خارجہ پالیسی کے علاوہ جو بائیڈن جرائم کے خاتمے کیلئے سخت قوانین کے بھی واضح طور پر حامی تھے۔ 1987 میں سپریم کورٹ کے نامزد امیدوار رابرٹ بورک کی تصدیق موصول نہ ہونے پر جو بائیڈن نے سخت پوچھ گچھ کی گئی تھی۔ جو بائیڈن اُس وقت سینیٹ کی عدلیہ کمیٹی کے چیئرمین تھے۔

سال 1994 میں، جو بائیڈن نے ایک لاکھ پولیس افسران کو بھرتی کرنے اور متعدد جرائم کی سزائوں میں اضافے کیلئے "وائلنٹ کرائم کنٹرول اینڈ لا انفورسمنٹ ایکٹ” کی بھی حمایت کی۔

صدر بننے کی جو بائیڈن کی پہلی خواہش

واشنگٹن کے ممتاز جمہوری قانون ساز ادارے سینیٹ میں کئی برس تک کام کرنے کے بعد، سال 1987 میں جو بائیڈن نے امریکی صدر کے عہدے کیلئے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم "ڈیموکریٹک پرائمری” کی جانب سے انہیں انکار کردیا گیا۔ لیکن جب ان کے صدر کا انتخاب لڑنے کی خبریں منظر عام پر آئیں تو انہوں نے کہا کہ "ان کی تقریر کا کچھ حصہ سرقہ کیا گیا ہے”۔

جو بائیڈن کو اس مہم کے دوران شدید سر درد کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ سال 1988 میں ان کے دستبردار ہونے کے فورا بعد ہی، ڈاکٹروں کو پتہ چلا کہ اس کے دو جان لیوا دماغی مسائل ہیں۔ اس کے بعد دماغی سرجری سے متعلق پیچیدگیاں ان کے پھیپھڑوں میں خون کے جمنے کا سبب بنیں، جس کے نتیجے میں انہیں بعد مین ایک اور سرجری بھی کروانا پڑی۔

بیس برس بعد صدر بننے کی دوسری خواہش

اپنی پہلی ناکام صدارتی خواہش کے بیس سال بعد، 2007 میں جو بائیڈن نے ایک بار پھر امریکی صدر کے عہدے کا انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا۔ سینیٹ میں اُن کے گزرے برسوں کے تجربے کے باوجود ، جو بائیڈن کی انتخابی مہم ہیلری کلنٹن اور باراک اوباما کے سامنے زیادہ رفتار پکڑنے میں ناکام رہی۔ اہم آئیووا کاکیسیز میں 1 فیصد سے بھی کم ووٹ حاصل کرنے کے بعد جو بائیڈن اس دستبردار ہوگئے۔

تاہم ، کئی مہینوں کے بعد ، اوباما نے ڈیموکریٹک نامزدگی حاصل کرنے کے بعد جو بائیڈن کو اپنا ساتھی یعنی نائب صدر کا امیدوار منتخب کرلیا۔ محنت کش طبقے میں اپنی جڑیں ہونے کی وجہ سے جو بائیڈن نے باراک اوبامہ کی صدارتی مہم میں معاشی بحالی کے اپنے پیغام کو اوہائیو اور پنسلوینیا جیسی سوئنگ ریاستوں کیلئے انتہائی ووٹروں تک پہنچانے میں بڑی مدد دی

1 Comment
  1. […] Joe Biden Life History – Political Career and Policies. Joe Biden Life History – Political Career and Policies. جلد یہ لوگ دیکھیں کہ کس کی ٹانگیں کانپتی ہیں، عمران خان – رائٹ پاکستان. جلد یہ لوگ دیکھیں کہ کس کی ٹانگیں کانپتی ہیں، عمران خان – رائٹ پاکستان. پارلیمنٹ حملہ کیس، عمران کیخلاف الزامات کے شواہد ناکافی ہیں، تحریری فیصلہ – رائٹ پاکستان. پارلیمنٹ حملہ کیس، عمران کیخلاف الزامات کے شواہد ناکافی ہیں، تحریری فیصلہ – رائٹ پاکستان. پیک آور ختم، صنعتوں کو اضافی بجلی آدھی قیمت پر ملے گی – رائٹ پاکستان. عدم برداشت کا بڑھتا رجحان ، گستاخی اور ہمارا معاشرہ No withdrawal. یہ آنکھیں پوچھتی ہیں !! – رائٹ پاکستان. صفحہ اول – رائٹ پاکستان. Mulberrry Feel – MulberryFeel. Mulberryfeel Black Friday 2020 – Sales, Deals – MulberryFeel. […]

Leave A Reply

Your email address will not be published.