Ultimate magazine theme for WordPress.

ایتھنز یونان میں 180 سال بعد نئی مسجد کا افتتاح

1829 میں سلطنت عثمانیہ سے آزادی کے بعد یونان نے مساجد شہید کردیں اور نئی مسجد پر پابندی لگادی تھی

81

ایتھنز یونان (رائٹ پاکستان نیوز) تمام تر پراپیگنڈے اور منفی تعصبات کے باوجود اسلام تیزی سے پھیلنے والے مذہب بن چکا ہے، جس کا ایک ثبوت یونان میں 180 سال بعد قائم ہونے والی پہلی مسجد بھی ہے۔

یہ مسجد خلافت عثمانیہ کے ختم ہونے کے ایک سو سال بعد قائم ہوگئی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق انچاس سالہ سالہ ذکی محمد نے منگل کو نماز کی امامت کراکے مسجد کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ ذکی محمد مراکشی نژاد یونانی شہری ہیں۔

ساڑھے تین سو نمازیوں کی گنجائش والی یہ مسجد یونانی حکومت کی نگرانی میں قائم ہوئی ہے، اس مسجد کا کوئی مینار یا گنبد نہیں۔ یہ مسجد الیونائے کے صںعتی علاقے میں اس جگہ تعمیر کی گئی ہے، جو پناہ گزین کیمپ کے قریب واقع ہے۔

مسجد کا اندروانی منظر، تصویر ڈی ڈبلیو

ایتھنز کو اس لیے بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا تھا کہ دارالحکومت ہونے کے باوجود اس میں کوئی مسجد نہ تھی۔ یہاں اباد مسلمانوں نے پچھلے سال ایتھنز میں مسجد قائم کرنے کی کوششیں تیز کردی، جس کا نتیجہ منگل کو سامنے آگیا۔

کورونا وائرس کے باعث مسجد میں سماجی فاصلے اور دیگر حفاظتی اقدامات اور ہدایات (ایس او پیز) پر عمل کرتے ہوئے نماز ادا کی گئی۔

ایتھنز (یونان) سال 1829 تک سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھا، اس سے پہلے ایتھنز اور یونان کے دیگر شہروں میں بھی کئی مساجد قائم تھیں، جنہیں 1829 کی آزادی کے بعد شہید کردیا گیا تھا، اور نئی مساجد کی تعمیر پر پابندی لگادی گئی تھی۔

2006 میں 10 لاکھ ڈالر کی لاگت سے ایتھنز میں مسجد قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، لیکن یونانی افسر شاہی اور یونان کی شدت پسند تنظیموں کے احتجاج کے بعد یہ منصوبہ شروع نہ کیا جاسکا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.