Ultimate magazine theme for WordPress.

موسم خزاں جو بہار سے زیادہ حسین ہے – Autumn Season in Pakistan

خزاں کے موسم میں پاکستان سیاحوں کی جنت کا روپ دھار لیتا ہے

422

خزاں اپنے ساتھ صرف پت جھڑ ہی نہیں لاتی، بلکہ اداسی کا گہرا احساس بھی لے کر آتی ہے۔ کتنا عجیب موسم ہے جو اجاڑ رستوں پر چلتے ہوئے قدموں تلے پتوں کی آواز کی چرچراہٹ ہی نہیں سناتا بلکہ ہجر کی غم آمیز موسیقی بھی اس موسم میں ہمیشہ سے زیادہ بے رحم لگنے لگتی ہے۔

اجتبیٰ رضوی کے مطابق کہا جاسکتا ہے کہ "افسردگی اور تابندگی دونوں میں حسن ہے، تمہیں اگر بہار نے حسین بنایا ہے تو ہمیں یہی خوبصورتی خزاں نے بخشی ہے”۔

پتوں کے رنگ بدلنے کا موسم

پتوں نے رنگ بدلنا شروع کر دیا ہے، اور درختوں نے برہنہ سر ہونے کی تیاری کر رکھی ہے ۔ خزاں کی آمد آمد ہے ۔ کوئی دن جاتا ہے کہ راستے خشک پتوں سے اٹّا اٹّ بھر جائیں گے ۔ اور ایندھن تلاشنے والے انکو سمیٹتے نظر آئیں گے۔ بہار اگر عشق و محبت کا استعارہ ہے تو خزاں کا موسم بھی رومانویت سے خالی نہیں ۔ اس تاثر کو شکیل بدایونی بھی فراموش نہ کرسکے۔ بدایونی لکھتے ہیں کہ "مجھے زندگی کا کوئی غم نہیں ہے، اس لیے میری زندگی پر مت مسکراو، کیونکہ وہ دکھ جو تم سے ملا ہو، وہ بالکل اسی طرح ہے جیسے خزاں بہار سے زیادہ خوبصورت ہو”۔

پاکستان میں خوبصورت قدرتی نظارے

 

موسم خزاں

اللّٰہ کی قدرت ہے کہ پیارے ملک پاکستان کو جہاں اور بہت سی نعمتیں عطا کیں اور معدنیات کی دولت سے مالا مال کیا، وہیں چاروں موسموں جیسی خوبصورت رحمت سے بھی نواز دیا۔ گو کہ گرمی کا موسم کچھ طوالت اختیار کیے ہوئے ہے لیکن ناگوار ہرگز نہیں ۔اپریل سے لے کر جون تک کے مہینے کی گرمی اگر جسم کا تمام خون پسینہ ایک کر دیتی ہے تو وہیں اوائل جولائی سے شروع ہونے والے مون سون میں برسات بھی خوب چھب دکھلاتی ہے۔

نومبر کے آخر سے شروع ہو کر فروری تک رہنے والی گرمی تو ایک طرف، صرف تین ماہ کی مختصر مہمان سردی بھی بدن کے تمام کڑاکے نکال دیتی ہے ۔ ان دونوں موسموں کی شدت کے درمیان ملنے والے بہار کے مختصر ترین وقفوں کا وجود غنیمت بھی ہے اور خوشگوار بھی۔

بہار کا موسم

بہار کا موسم جو فروری سے اپریل اور اکتوبر سے نومبر تک رہتا ہے، وہی درختوں اور پودوں کی جان ہے، بلکہ ساتھ ہی ساتھ انسانوں پر بھی خوشگوار اثرات مرتب کرتا ہے ۔ درخت نیا لباس پہن لیتے ہیں نئے پتے، شاخیں اور نئے پرندے دنیا میں جنم لے رہے ہیں کیونکہ بہار کے بعد شدید گرمی آئے گی جس میں ہر شخص کو سائے کی تلاش ہو گی لہٰذا درختوں پر نئے پتوں اور شاخوں کا انتظام قدرت نے بخوبی کر رکھا ہے ۔

گرمیاں ختم ہوں گی تو بھیگے بھیگے سخت سرد دسمبر سے لے کر اوائل فروری تک خزاں کا راج ہو گا ۔ کیسا خوبصورت قانون قدرت ہے کہ سردیوں میں ہر کوئی دھوپ کا متلاشی ہے اور چھاؤں کی کوئی ضرورت نہیں، لہٰذا درختوں نے پتوں کا بوجھ اتار پھینکا ہے۔

خشک میوہ جات کی "بہار”

صرف موسمی احساسات پر ہی کیا موقوف ؟ خزاں کی آمد کے ساتھ ہی خشک پھلوں کی مانگ میں بے حد اضافہ ہو جاتا ہے، جو اپنے ذائقے اور تاثیر میں کوئی ثانی نہیں رکھتے ۔ چلغوزے کے مالکان کے نخرے چلغوزے کی قیمت کی طرح آسمان پر پہنچ جائیں گے جب کہ بھنتی ہوئی گرم مونگ پھلی کی خوشبو پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ کہیں اخروٹ توڑے جا رہے ہیں تو کہیں پستوں سے انصاف جاری ہے.

خشک پھل ایک طرف، تازہ کینوبھی کسی سے کم نہیں جو اپنی منفرد خوشبو اور ذائقے کے ساتھ ہر طرف چھا جائے گا۔ خزاں کے موسم میں پاکستان سیاحوں کی جنت کا روپ دھار لیتا ہے ۔ کے ٹو، نانگا پربت اور ایسی تمام چوٹیاں برف سے ڈھک جاتی ہیں ۔ مالم جبا کا حسن اپنے جوبن پر ہوتا ہے اور یوں دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ پاکستان پر مرکوز ہو جاتی ہے ۔

مقامی اور عالمی سیاح اپنے ذوقِ کے مطابق ہائکنگ یا کوہ پیمائی کا انتخاب کرتے ہیں ۔ اور اپنے شوق کی تسکین کرتے ہیں۔ عاشق اس سرد موسم میں ٹھنڈی آہیں بھر کر خزاں کو خزاں تربنانے کی کوششیں کرتے ہیں جبکہ عام لوگ چائے اور قہوے کی گرمائش سے لطف اندوز ہوتے ہیں ۔ موسموں کا یہ تغیر و تبدّل انسانی احساسات پر اپنی گہری چھاپ چھوڑتا ہوا ہمیشہ سے جاری ہے ۔ خزاں کا اداس حُسن اپنی جگہ لیکن دعا ہے کہ ہر انسان کی زندگی میں موسم بہار ٹھہر جائے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.