Ultimate magazine theme for WordPress.

طبِ نبوی ﷺ میں دردِ دل اور امراض قلب کا علاج

مدینہ کی کھجوروں میں اللہ تعالی نے امراض قلب اور دیگر بیماریوں کی شفاء رکھی ہے

79

دل انسانی جسم کا سب سے اہم عضو ہے۔ اگر انسان کا دل کام کرنا چھوڑ دے تو انسان کے سارے دیگر اعضاء بھی کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں ۔۔۔۔ مختلف وجوہات کی بنا پر آج کل دل کے مختلف امراض بھی بہت زیادہ ہیں ۔۔۔۔ جن کے علاج کیلئے لوگ اسپتالوں، حکیموں اور ڈاکٹروں کے کلینکوں پر مارے مارے پھرتے ہیں ۔۔۔۔ ہزاروں لاکھوں روپے خرچ کرنے کے بعد بھی اکثر مریض لاعلاج رہتے ہیں ۔۔۔۔ امراض قلب کوئی آج کے دور میں شروع نہیں ہوئے ۔۔۔۔۔ بلکہ یہ اتنے ہی پرانے ہیں ۔۔۔ جتنا خود انسان پرانا ہے۔ آئیے ! اس مضمون میں ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ حضوؐر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم امراض قلب کا علاج کیسے فرمایا کرتے تھے ۔۔۔۔۔

مدینہ کی 7 کھجوریں، امراض قلب کا علاج

ابوداؤد روایت کرتے ہیں کہ "ایک مرتبہ میں بیمار ہوا تو حضوؐر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کیلئے تشریف لائے ۔۔۔۔ حضوؐر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک میرے سینے پر رکھا جس کی فرحت اور ٹھنڈک میں نے اپنے قلب میں محسوس کی ۔۔۔۔ حضوؐر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے دل میں درد ہے، اس لیے تمہیں چاہیے کہ حارث بن کلاہ کے پاس جاؤ کیونکہ وہ لوگوں کا علاج کرتا ہے ۔۔۔۔ حارث کو چاہیے کہ وہ مدینے کی 7 کھجوریں لے کر انہیں گُٹھلی سمیت کوٹ لے ۔۔۔۔ اور کوٹی ہوئی 7 کھجوریں تمہیں کھلادے” ۔۔۔۔ اللہ تعالی اس سے شفاء عطا فرماتے ہیں۔

علمائے طب کی تشریح

علمائے طب نے اس کی تشریح اس طرح کی ہے کہ اللہ تعالی نے مدینہ المنورہ کی کھجوروں میں خاص خاصیت رکھی ہے ۔۔۔۔ مدینہ کی کھجوریں دل کا درد ختم کیلئے بہت مفید ہوتی ہیں ۔۔۔۔۔ جہاں تک 7 کھجوروں کی بات ہے ، یعنی کھجوروں کی تعداد جو حضوؐر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ۔۔۔۔ تو اس کی حکمت کے بارے میں سوائے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے کوئی نہیں جانتا ۔۔۔۔ اس مقام پر پہنچ کر دنیا کے تمام حکماء خود کو عاجز محسوس کرتے ہیں ۔۔۔۔ کیونکہ اس معاملے (کھجوروں کی تعداد) کا تعلق وحی الٰہی سے ہے ۔۔۔۔۔ بعض احادیث میں یہ بھی روایت کیا گیا ہے کہ جو شخص مدینہ النبی کی 7 کھجوریں روزانہ نہار منہ کھالیا کرے گا تو ۔۔۔۔ اس پر زہر اور جادو کبھی اثر نہیں کرے گا ۔۔۔۔

دل و دماغ کی قوت

مسروقؓ فرماتے ہیں کہ "ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے پاس حاضر ہوا تو میں نے دیکھا کے ۔۔۔۔ حضرت عائشہ کے قریب ایک نابینا شخص بیٹھا ہوا ہے ۔۔۔۔۔ اور حضرت عائشہؓ ترنج (بڑے چکوترے یا لیموں کا ٹکڑا) شہد میں لگاکر نابینا شخص کو کھلا رہی ہیں ۔۔۔۔ شارحین اس واقعہ کے متعلق لکھتے ہیں کہ نہار منہ شہد کے ساتھ ترنج (چکوترہ، لیموں، سنگترہ، کینو وغیرہ) کھانا دل و دماغ کیلئے بہت مفید ہے ۔۔۔۔۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.