Ultimate magazine theme for WordPress.

نگورنوکاراباخ پر آذربائیجان اور آرمینیا میں لڑائی پھر شروع

ایسی بڑی جنگ روکنا چاہتے ہیں، جس میں ترکی بھی شامل ہوجائے، صدر ٹرمپ

126

آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان ایک مرتبہ پھر نگورنوکاراباخ میں جھڑپیں شروع ہوگئی ہیں ۔ دونوں ممالک کے درمیان تازہ جھڑپیں متنازع علاقے پر لڑائی کے خاتمے کیلئے واشنگٹن امریکہ میں ہونے والے مذکرات کے ایک دن بعد ہی گزشتہ شب شروع ہوگئیں۔ آذربائیجان کی وزارت دفاع نے تصدیق کی ہے کہ نگورنو کاراباخ کے باہر اور اندر دونوں ممالک کی فوجوں میں لڑائی ہورہی ہے۔ آرمینین حکام نے الزام عاید کیا ہے کہ آذربائیجانی فوجیں نگورنو کاراباخ کے بڑے شہر "سٹپاناکرٹ” کی عمارتوں پر بمباری کررہی ہیں تاہم آذربائیجان نے اس الزام کو مسترد کردیا ہے۔ روس کے صدر ولادی میرپیوتن کے مطابق نگورنو کاراباخ کی اس لڑائی میں اب تک 5 ہزار افراد مارے جاچکے ہیں۔

آذربائیجان کی افواج کا دعوی ہے کہ اس جنگ میں انہیں زمین پر کامیابی حاصل ہوئی ہے، اور آذربائیجان نے ایران سے ملحقہ سرحد کا مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے، لیکن آرمینیا نے اس کی تردید کی ہے۔ دوسری جانب نگورنو کاراباخ کی آرمینین انتظامیہ نے بھی آذبائیجانی حملے پسپا کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ آذربائیجان کے صدر الہام علی اوف نے ایک انٹرویو میں کہا کہ آذربائیجان مذاکرات کیلئے تیار ہے۔ صدر الہام علی اوف نے کہا کہ اس جنگ کی وجہ علاقے میں آرمینین فوج کی کارروائیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ” ہم اس جنگ  کو آج ہی روکنے کیلئے تیار ہیں، لیکن آرمینیا نے جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی کی ہے۔ اگر آرمینیا باز نہ آیا تو آذربائیجان اپنے مقبوضہ علاقے آزاد کروانے کے آخری حد تک جانے سے گریز نہیں کرے گا”۔ دوسری جانب ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان نے استنبول میں میڈیا سے گفتگو میں امید ظاہر کی کہ  "انقرہ اور ماسکو اس لڑائی کو بند کروانے کیلئے مل کر کام کر سکتے ہیں”۔ اس لڑائی کی وجہ سے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ ترکی کہ تعلقات  دباؤ کا شکار ہوچکے ہیں۔

امریکی سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو نے تازہ جھڑپوں سے ایک روز قبل واشنگٹن میں آرمینین اور آذربائیجانی وزراء خارجہ سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان لڑائی بند کرانا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلے پر اچھی پیشرفت کی نوید سناتے ہوئے کہا کہ "عالمی طاقتیں ایسی بڑی جنگ روکنا چاہتی ہیں، جس میں ترکی بھی شامل ہوجائے، جس نے اس معاملے پر آذربائیجان اور روس کی واضح حمایت کی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ پومپیو نے "آگے جانے والا درست راستہ تلاش کیا جاسکتا ہے” تاہم صدر الہام علی اوف نے پرامن حل کو مشکل قرار دیا ہے اور دوسری جانب آرمینین وزیراعظم نکول پشی نیان نے بھی اس مرحلے پر لڑائی کے کسی سفارتی حل کے حوالے سے مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

اصل قضیہ اور حل کی امید؟

واضح رہے کہ آذربائیجان کا مؤقف ہے کہ آرمینیا نے نگورنوکاراباخ پر غیرقانونی قبضہ کیا ہوا ہے اور اس لیے اس کا کنٹرول واپس ملنا چاہیے۔ عالمی برادری بھی آذر بائیجان کے موقف کی حمایت کرتی ہے۔ تاہم آرمینیا نگورنوکاراباخ کو تاریخی طور پر اپنا حصہ سمجھتا ہے۔ اس سے قبل آذربائی جان اور آرمینیا کے درمیان سال سوویت یونین سے علیحدگی کے بعد 1991 سے سال 1994 تک نگورنوباخ پر لڑائی جاری رہی۔ اس لڑائی میں 30 ہزار لوگ مارے گئے تھے۔ مبصرین کے مطابق 27 ستمبر سے نگورنوکاراباخ پر چھڑنے والی جنگ ختم ہونے کا امکان بہت کم ہوچکا ہے۔ قابل ازیں روس نے بھی دو مرتبہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کرائی، لیکن پھر لڑائی شروع ہوگئی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.