Ultimate magazine theme for WordPress.

پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم ٹاکرا: سیاسی چالوں اور داؤ پیچ کا استعمال

4

پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم ٹاکرا: سیاسی چالوں اور داؤ پیچ کا استعمال

ایک دوسرے پر برتری حاصل کرنے کیلئے سیاسی داؤ پیچ کا استعمال اپنے عروج پر ہے ۔۔۔۔ عمران خان نے قومی اسمبلی میں واپسی کا عندیہ دیا تو حکومت نے پی ٹی آئی ارکان میں سے 34 کے استعفے منظور کرلیے ۔۔۔۔۔ ان سیاسی چالوں کی مدد سے کون بازی جیتے گا اور کون ہارے گا؟ آئیے اس خصوصی رپورٹ میں جائزہ لیتے ہیں۔

حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کو سیاسی میدان میں چاروں شانے چت گرانے کیلئے پورا زور لگارہی ہیں۔

اس مقصد کیلئے سیاسی چالیں بھی چلی جارہی ہیں اور داؤ پیچ بھی بھرپور استعمال کیے جارہے ہیں۔

عمران خان نے ایک جانب اگر وفاقی حکومت پر دباؤ بڑھانے کیلئے پنجاب اسمبلی تحلیل کروائی ۔۔۔۔ تو دوسری جانب نگران سیٹ اپ کے قیام میں اپنا کردار ادا کرنے کیلئے قومی اسمبلی میں واپسی کا عندیہ بھی دے دیا۔

اس کے علاوہ پی ٹی آئی نے وزیراعظم کو اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کے فیصلے کی منظوری بھی دے دی۔

پی ٹی آئی کی جانب سے ان سہہ طرفہ سیاسی حملوں پر وفاقی حکومت نے یقینا دباؤ محسوس کیا ہوگا۔

اسی لیے تو اگلے ہی روز اسپیکر قومی اسمبلی نے پی ٹی آئی کے مزید 34 ارکان اور شیخ رشید کے قومی اسمبلی سے استعفے منظور کرلیے۔

اس حوالے سے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ارکان کو ڈی نوٹی فائی کرنے کا نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا ہے۔

اس سے قبل بھی اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کچھ ارکان کے استعفے منظور کیے تھے۔

تاہم بقیہ استعفے منظور نہیں کیے تھے اور منظوری کیلئے ارکان کو فرداً فرداً پیش ہونے کا کہا تھا۔

جن ارکان کے استعفی منظور کیے گیے ہیں، ان میں مراد سعید، عمر ایوب، اسد قیصر، پرویز خٹک اور شہریار آفریدی شامل ہیں۔

علی امین گنڈا پور، اسد عمر، غلام سرور خان، فواد چوہدری، حماد اظہر، شاہ محمود قریشی، زرتاج گل، شیخ رشید اور دیگر کے استعفے بھی منظور کرلیے گئے ہیں۔

حکومت کی اس سیاسی چال پر وزیر داخلہ رانا ثنا للہ خان نے کہا کہ اسپیکر نے پی ٹی آئی کے اُن اراکین قومی اسمبلی کے استعفے منظور کیے جو بڑے لیڈر بننے کی کوشش کرتے ہیں۔

جن ارکان کے استعفے منظور نہیں ہوئے وہ واپس آئیں ہم انہیں خوش آمدید کہیں گے۔

رانا ثناء اللہ خان نے کہا کہ پی ٹی آئی کے اراکین اگر سمجھتے ہیں کہ اُن کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تو وہ بیان حلفی جمع کرادیں اور بتائیں کہ وہ استعفے دینے کے خواہش مند نہیں تھے۔

حکومت کے اس سیاسی وار کے جواب میں پی ٹی آئی کے فواد چودھری نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف خالی ہونے والی 33 نشستوں پر الیکشن لڑے گی اور اس کے امیدوار عمران خان ہوں گے۔

اس سے قبل بھی جو سیٹیں خالی ہوئیں تھیں، ان میں 9 پر اکیلے عمران خان نے الیکشن لڑا تھا اور زیادہ تر سیٹیں عمران خان نے جیت بھی لی تھیں۔

عمران خان کی اس فتح کو پی ٹی آئی نے اپنی شاندار مقبولیت سے تعبیر کیا تھا۔

جواب میں پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اعلان کیا ہے کہ ان کا اتحاد خالی ہونے والی 35 نشستوں پرالیکشن میں حصہ نہیں لے گا۔

مولانا نے کہا کہ پی ڈی ایم الیکشن میں حصہ کیوں نہیں لے گی اس کی وجہ بعد میں بتائیں گے۔

مولانا وجہ بتائیں یا نہ بتائیں لیکن تجزیہ کار جانتے ہیں کہ حکومت موجودہ صورتحال میں درجنوں سیٹوں پر الیکشن ہار کر پی ٹی آئی کو مقبولیت کا دعویٰ کرنے کا موقع نہیں دینا چاہتی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ عام انتخابات تک دونوں اطراف سے اسی طرح سیاسی چالوں اور داؤ پیچ استعمال کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.