Ultimate magazine theme for WordPress.

ق لیگ پی ٹی آئی میں ضم: یہ انضمام کیا رنگ لائے گا؟

4

ق لیگ پی ٹی آئی میں ضم: یہ انضمام کیا رنگ لائے گا؟

عمران خان نے پرویز الہٰی سے (ق) لیگ کو تحریک انصاف میں ضم کرنے کی خواہش کا اظہار کردیا ۔۔۔۔۔ دونوں جماعتوں کا یہ انضمام کیا رانگ لائے گا؟ یہ رپورٹ آپ کو یہی بتائے گی۔

زمانہ کیا کیا رنگ دکھاتا ہے؟ اس کا اندازہ پاکستانی سیاست میں حالیہ دنوں میں ہونے والی سیاسی پیشرفت سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔
ایک زمانہ تھا کہ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان مسلم لیگ ق کے چودھری پرویز الٰہی کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو قرار دیتے نہیں تھکتے تھے۔
پھر ایک وقت وہ بھی آیا جب عمران خان پنجاب میں اپنی حکومت بنانے کیلئے اسی پرویز الٰہی کا دروازہ کھٹکھٹانے پر مجبور ہوگئے۔
عمران خان نے ساڑھے تین سال تک اُسی پرویز الٰہی کی حمایت سے اپنی پارٹی کے عثمان بزدار کو وزارت اعلیٰ کی کرسی پر بٹھائے رکھا۔
اور پھر وہ وقت بھی آیا جب عمران خان کو پنجاب میں اپنا اقتدار برقرار رکھنے کیلئے دس سیٹوں والے اِسی چودھری پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ بھی بنانا پڑگیا۔
دونوں جماعتوں کے ساڑھے 4 سالہ اتحاد کے دوران عمران خان اور چودھری خاندان کے درمیان کئی بار سردی گرمی بھی ہوئی۔
لیکن اپنے اپنے مفادات کیلئے دونوں نے ایک دوسرے کا ساتھ نہ چھوڑا۔

ق لیگ پی ٹی آئی میں ضم: یہ انضمام کیا رنگ لائے گا؟

ق لیگ پی ٹی آئی میں ضم
ق لیگ پی ٹی آئی میں ضم

مگر اب دونوں سیاسی حلیف اس قدر شیر و شکر ہوچکے ہیں کہ عمران خان نے چوہدری پرویز الہٰی سے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ مسلم لیگ ق کو تحریک انصاف میں ضم کردیا جائے اور یہ کہ (ق) لیگ کے تمام امیدوار بلے کے نشان پر الیکشن لڑیں۔
معلوم ہوا ہے کہ چوہدری پرویز الہٰی نے اس حوالے سے مشاورت کیلئے (ق) لیگ کا اعلی سطح اجلاس طلب کرلیا ہے۔
ذرائع کے مطابق عمران خان نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ ق لیگ اور تحریک انصاف ایک ہوجائیں، اس کے ساتھ ساتھ عمران خان مونس الہٰی کے سیاسی تدبر اور وفاداری سے کافی خوش ہیں۔
ظاہر ہے کہ عمران خان خوش کیوں نہ ہوں؟ چودھری مونس الٰہی کے اسی تدبر کی وجہ سے پی ٹی آئی سارے کھیل سے نکلتی نکلتی بچی تھی اور دوبارہ ملکی سیاست میں اپنے پاؤں جمانے میں کامیاب ہوسکی تھی۔
معلوم ہوا ہے کہ مونس الٰہی کے اسی سیاسی تدبر کا پھل انہیں پی ٹی آئی میں بڑا عہدہ دینے کے وعدے کی صورت میں بھی کیا گیا ہے۔
تحریک انصاف میں مونس الہٰی کو اہم عہدہ دینے کی پیشکش کے جواب میں پرویز الہٰی کا کہنا تھا کہ اس موقع پر اگر عہدہ لیا گیا تو لوگ سمجھیں گے کہ شاید ہم نے بار گین کی ہے، اس لیے ہمیں کوئی عہدہ نہیں لینا ہے۔
پرویز الہٰی کا یہ بھی کہنا تھا کہ تحریک انصاف میں ضم ہونے کیلئے پارٹی رہنماؤں کا اعلی سطح اجلاس طلب کرلیا ہے۔
اس اجلاس میں ق لیگ کے تمام سابق اراکین اسمبلی، عہدیداران، سینیٹر کامل علی آغا اور دوسرے رہنما شریک ہوں گے۔
اس اجلاس میں اپنی علیحدہ شناخت برقرار رکھنے یا تحریک انصاف میں ضم ہونے کے حوالے سے حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
اگرچہ بعض سیاسی تجزیہ کار عمران خان کی اس خواہش نما پیشکش کو ان کی چال قرار دے رہے ہیں۔
لیکن دوسری جانب یہ بھی کہا جارہا ہے کہ چودھری پرویز الٰہی نے کبھی کچی گولیاں نہیں کھیلیں۔
اگر ان کے ساتھ کوئی چال چلنے کی کوشش کی گئی تو وہ اپنے مخالفین کو دھوبی پٹکا مارنا بخوبی جانتے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.