Ultimate magazine theme for WordPress.

عمران خان پر فائرنگ اور ہمارے منفی اجتماعی رویے

تحریر: ڈاکٹر شاہ فیض

343

عمران خان پر فائرنگ اور ہمارے منفی اجتماعی رویے

وَإِذَا جَآءَهُمْ أَمْرٌ مِّنَ ٱلْأَمْنِ أَوِ ٱلْخَوْفِ أَذَاعُواْ بِهِۦ ۖ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى ٱلرَّسُولِ وَإِلَىٰٓ أُوْلِى ٱلْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ ٱلَّذِينَ يَسْتَنۢبِطُونَهُۥ مِنْهُمْ ۗ وَلَوْلَا فَضْلُ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُۥ لَٱتَّبَعْتُمُ ٱلشَّيْطَٰنَ إِلَّا قَلِيلًا (النساء 33)

ترجماہ: اور جب ان کے پاس امن یا ڈر کی کوئی خبر پہنچتی ہے تو اسے مشہور کر دیتے ہیں، اور اگر اسے رسول اور ذمہ دار اصحاب تک پہنچاتے تو وہ اس کی تحقیق کرتے جو ان میں تحقیق کرنے والے ہیں، اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو البتہ تم شیطان کے پیچھے چل پڑتے سوائے چند لوگوں کے۔

إِن جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَإٍۢ فَتَبَيَّنُوٓاْ أَن تُصِيبُواْ قَوْمًۢا بِجَهَٰلَةٍۢ فَتُصْبِحُواْ عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَدِمِينَ (الحجرات 06)

اگر کوئی فاسق تمہاے پاس کوئی سی خبر لائے تو اس کی تحقیق کیا کرو کہیں کسی قوم پر بے خبری سے نہ جا پڑو پھر اپنے کیے پر پشیمان ہونے لگو۔

وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَـاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓى اَلَّا تَعْدِلُوْا ۚ اِعْدِلُوْا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى ۖ (المائدہ8)

کسی قوم کی دشمنی کے باعث انصاف کو ہرگز نہ چھوڑو، انصاف کرو کہ یہی بات تقویٰ کے زیادہ نزدیک ہے۔

کل عمران خان نیازی صاحب پر وزیر آباد پر فائرنگ ہوئی اور حسب اطلاعات ان سیمت 13 افراد زخمی ہوئے اور ایک ہلاک ہوا۔

عمران خان پر فائرنگ کس نے کی؟ کیوں کی؟ کیسے ہوئی؟

ان تفصیلات سے قطع نظر یہ ایک المناک حادثہ تھا کہ اس کے بعد سوشل میڈیا پر حسب معمول گالم گلوچ دشنام طرازی اور تہمتوں اور الزام تراشیوں کا باازار گرم کر دیا گیا۔

سوشل میڈیا پر اس واقعہ کے حوالے سے سنجیدہ بنیادوں پر تبصرہ کرنا یا سوالات اٹھانا کی حد تک تو قابل برداشت تھا لیکن پھر اس کے بعد جو کچھ ہونا شروع ہوا۔

جلاو ، گھیراو، مارو ، مر جاو ، انتقام لو، بدلہ لو، کسی کو نہ چھوڑو

ابھی واقعہ ہوئے کچھ منٹ ہی ہوئے تھے کہ اسد عمر صاحب نے خان صاحب کی ہدایات کی پیش نظر ایک پریس کانفرنس میں ملزمان کا تعین بھی کر دیا ، موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف، رانا ثناء اللہ، میجر فیصل۔

ایک طرف سے ڈرامہ بازی اور پری پلان منصوبہ کے الزامات تھے تو دوسری جانب قاتلانہ حملہ کے الزامات تھے۔

سچ تو یہ ہے کہ ایک بے ہنگم ریوڑ کا رد عمل تھا کسی سلجھی ہوئی قوم کا رد عمل نہ تھا۔ جس دین میں بار بار یہ کہا گیا کہ کوئی بات سنو اسے کنفرم کرو متعلقہ اداروں سے رابطہ کرو تاکہ کنفرمیشن ہوجائے پھر نشر کرو۔
لیکن یہاں تو کنفرم کرنا تو دور کی بات ہے۔

اپنی حکومت، اپنی پولیس، اپنی سیکیورٹی، اپنے مارچ پلان، ایک دن قبل اپنی ہی جماعت کے سینٹر نے قاتلانہ حملہ کی خبر بھی دے دی، سیکیورٹی تھریٹس بھی موجود تھے پھر بھی اس حادثہ کا رونما ہونا۔

مجرم کو موقع پر ہی پکڑ لیا گیا اپنی ہی پولیس نے اقبال جرم کا بیان ریکارڈ کر کے سوشل میڈیا پر وائرل بھی کر دیا لیکن پھر بھی گورنر ہاوس لاہور پر حملے جلاو گھیراو۔، پشاور کور کمانڈر کے گھر پر حملے جلاو گھیراو، ملک کے مختلف حصوں میں اسی طرح کی صورتحال تھی۔

کیا یہ سیاسی طرز عمل ہے ، اس سے قبل سانحہ بے نظیر پر بھی منظم انداز میں پورے سندھ کو آگ لگا دی گئی تھی بے شمار قیمتی اور معصوم جانیں ،۔۔۔۔۔ بلکہ کراچی کی حد تک تو یہ خبر بھی ہے کہ ادویات کی ایک فیکٹری سے لڑکیاں چھٹی پر نکلی تھیں وہ آج تک لاپتہ ہیں۔

میں اس واقعہ پر تبصرہ کر کے مزید گالم گلوچ کا نشانہ نہیں بننا چاہتا لیکن اس واقعہ کے حوالے سے اپنی قوم کے ان منفی اور جارحانہ رویوں کی نشاندہی کرنا چاہتا ہوں کہ اس کا سدباب کون کرے گا؟

اساتذہ:

میں ملک کے ایک موقر تعلمیمی ادارہ میں تدریسی فرائض انجام دیتا ہوں وہاں سینئیر اساتذہ کے تبصرہ اس قدر منفی اور ۔۔۔۔۔۔۔۔ تھے کہ استغفراللہ

پولیس:

محکمہ پولیس اس سے توقع کرنا ،،، شاید سورج مغرب سے نکل آئے لیکن ۔۔۔۔۔

پولیس اس بگاڑ پر قابو پانے میں اپنا کردار ادا کرے ناممکن ہے ۔ اس میں پولیس کو سیاسی طور پر آلودہ کر دینا کا بھی بہت بڑا حصہ ہے۔

سیاستدان:

سیاستدان جو آپس میں لڑ جھگڑ رہے ہیں جن کا مقصد صرف اور صرف طبقہ اشرافیہ کی چوھدراہٹ کو قائم رکھنا ہے خواہ پی ٹی آئی ہو یا ن لیگ یا پی پی یا کوئی اور سیاسی جماعت۔۔۔۔۔

مذہبی عناصر:

مذہبی جماعتیں اور ان کے کارکنان جو بھیڑ بکریوں کے ریوڑ کی طرح ، انہیں جس طرف ہانکا جاتا ہے وہ چلے جاتے ہیں۔ ان کا اپنا تشخص صرف مذہبی بنیادوں پر مذہبی مسائل میں ایک دوسرے کے سا تھ محاذ آرائی کرنا ہے سوائے اہل تشیع کے وہ کسی بھی جماعت میں ہوں ایک بن کر رہتے ہیں۔

اسٹیبلشمنٹ:

اسٹیبلشمنٹ کی بات تو سچ کہیں کہ بطور آرمی ہمیں ان سے محبت ہے لیکن ان کی سیاسی مداخلت اور عدم مداخلت کی باتوں پر کسی بھی سیاسی جماعت کے کارکنان کو قطعا اعتبار نہیں ہے کیونکہ چار بڑی سیاسی جماعتیں (ن لیگ، پی پی، پی ٹی آئی ، ایم کیو ایم،، وغیرہ) کی اصل پہچان سٹبلشمنٹ کا سیاسی چہرہ ہونے کا ہی ہے۔ موجودہ حالات میں ان کا بھی کردار ہے۔

میڈیا:

ہمارا میڈیا طوائفوں سے بدتر کردار ادا کر رہا ہے اس سیاسی آلودگی اور عدم برداشت میں جتنے پتلی تماشے روز میڈیا میں لگائے جاتے ہیں اس کے بعد عوام کی اپنی کوئی رائے رہتی ہی نہیں، کوئی گلوکار ، اداکار وغیرہ مر جائے تو سارا دن مرثیہ پڑھتے رہتے ہیں لیکن اسلام کے نام پر قائم مسلمانوں کے ملک میں اسلام کے نام لیوا کے لیے کوئی پروگرامز نہیں حد تو یہ ہے کہ رمضان میں طوائفوں اور مراثیوں کو بٹھا کر اسلام کو بدنام کیا جاتا ہے اور اسے اسلام کا نام دیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ یہ اغلب رویے کی بات کر رہا ہوں وگرنہ ہر فیلڈ میں اچھے لوگ بھی موجود ہیں اور اپنی بساط بھر وہ کام بھی کر رہے ہیں الحمدللہ شاید انہی چند خوبصورت لوگوں کی وجہ سے ہمارا معاشرہ بچا ہوا ہے وگرنہ اجتماعی طور پر تو ہم نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.