Ultimate magazine theme for WordPress.

سال 2022 کی دوسری سہ ماہی: پاک سعودی تجارتی حجم 4.2 ارب ڈالر رہا

317

سال 2022 کی دوسری سہ ماہی کے دوران پاک سعودی تجارتی حجم 4.2 بلین ڈالر رہا

2022 کی دوسری سہ ماہی کے دوران سعودی اور پاکستانی تجارتی تبادلے کا حجم 4.2 بلین ڈالر رہا: مبشر الشہری اسلام آباد میں سعودی سفارت خانے کے کمرشل اتاشی، مبشر الشہری نے انکشاف کیا کہ سن 2022 کی دوسری سہ ماہی کے دوران مملکت سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان تجارتی تبادلے کا حجم 4.2 بلین ڈالر تھا۔
یہ بات سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان اقتصادی سرمایہ کاری سے متعلق سروے کے جواب میں سامنے آئی ہے۔

الشہری نے مزید کہا کہ مملکت کی جانب سے ایک بلین ڈالر کی امداد، جسے خادم حرمین شریفین نے منظور کیا ہے، اس مضبوط اسٹریٹجک اور تاریخی تعلقات کی توسیع ہے جو سعودی عرب کو اس کے برادر اسلامی جمہوریہ پاکستان سے جوڑے ہوئے ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مملکت نے اپنے قیام سے لے کر آج تک اس نقطہ نظر پر عمل کیا ہے، اس بات پر یقین رکھتے ہوئے کہ وہ پاکستانی بھائیوں کے ساتھ ہے اور ہر وہ چیز فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو پاکستانی معیشت کے استحکام اور خوشحالی کے لیے اہم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلاشبہ اس امداد سے معاشی عشاریوں پر مثبت اثر پڑے گا، اور غیر ملکی کرنسیوں کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی شرح مبادلہ میں بہتری کے علاوہ، زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا ملے گا، جس سے حکومت کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے ساتھ ساتھ ٹیکسوں میں، جن میں اس سال کے دوران نمایاں طور پر اضافہ ہوا ہے، اس کی سطح کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی، اور یہ کہ یہ معیشت کی بحالی کا باعث بنے گی اور افراد کی قوت خرید میں اضافہ کرے گی، ساتھ ہی کمپنیوں کی پیداوار کی صلاحیت کو بڑھانے میں معاون ثابت ہوگی۔

پاکستانی بھائیوں کے ساتھ کام کرنے پر خوشی ہے: سعودی کمرشل اتاشی

سعودی قومی دن

کمرشل اتاشی، مبشر الشہری نے واضح کیا کہ پاکستان کے ساتھ سعودی شراکت داری دونوں ممالک کی حکومتوں کے لیے انتہائی دلچسپی کی حامل ہے اور تجارتی تبادلے کے عشاریوں میں اضافہ ایک اسٹریٹجک ہدف ہے جس پر دونوں ممالک کے تمام متعلقہ شعبے تجارت کے حجم کو بڑھانے کے لیے اور تمام رکاوٹوں پر قابو پانے کے لئے کام کر رہے ہیں، اور آزاد تجارتی معاہدے کی فائل میںجی سی سی ممالک کے ساتھ اس وقت جو کام ہو رہا ہے وہ اس کا ثبوت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم جنرل اتھارٹی فار فارن ٹریڈ میں اور اسلام آباد اتاشی کے ذریعے سعودی سرمایہ کاروں اور آپریٹ کرنے والی کمپنیوں کو تعاون اور مدد فراہم کرنے اور سعودی برآمدات کو پاکستانی منڈیوں تک رسائی فراہم کرنے کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان وژن کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے پاکستانی بھائیوں کے ساتھ کام کرنے پر خوش ہیں۔

اپنی طرف سے، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے متعدد اقتصادی عہدیداروں نے مملکت کی جانب سے اقتصادی تعاون پر اپنے خیالات کا اظہار کیا، اپنی طرف سے سابق وزیر مملکت اور حکومت پاکستان میں بورڈ آف انوسٹمنٹ مینجمنٹ کے چیئرمین، جناب محمد اظفر احسن نے کہا کہ خادم حرمین شریفین کی منظوری، اللہ ان کی حفاظت کرے، کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے، سعودی عرب کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے نقطہ آغاز کے طور پر ایک اچھا قدم ہے، میں دیکھ رہا ہوں کہ سعودی عرب پاکستان میں 8 سے 10 شعبوں میں بھاری سرمایہ کاری کر سکتا ہے، اور یہ سرمایہ کاری دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہو گی، اور کہا کہ سعودی عرب کے حوالے سے پاکستان کی سوچ میں بنیادی تبدیلی آنی چاہیے۔

ولی عہد محمد بن سلمان سعودی عرب میں بہترین یونیورسٹیز کا قیام چاہتے ہیں: مبشر الشہری

سعودی کا 92 واں قومی دن

انہوں نے کہا کہ مدد کرنے کے بجائے پاکستان کو سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، میں نے سعودی حکام اور سرمایہ کاروں کے ساتھ ایک درجن سے زائد ملاقاتوں میں شرکت کی اور ان ملاقاتوں سے ظاہر ہوا کہ سعودی پبلک سیکٹر پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے بہت سنجیدہ ہے اور پاکستان کو اس منصوبے کی تیزی سے منظوری کی حکمت عملی اپنانا ہو گی، رکاوٹیں دور کرنا ہوں گی، کیونکہ سعودی عرب پاکستانی معیشت میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے، ایک رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں تقریباً 11 لاکھ پاکستانی روزگار اور کام کے مقاصد کے لیے مقیم ہیں، اور مالی سال 2021-22 میں ان کی ترسیلات زر 4 ارب 44 کروڑ ڈالر تھیں، اس کے علاوہ سعودی عرب نے پاکستان کو ہر مشکل وقت میں نقد مالی امداد بھی فراہم کی۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں سعودی سرمائے کے لیے زرعی سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ وہ ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان کے وژن 2030 کو بہت اہمیت دیتے ہیں، کیونکہ ولی عہد شہزادہ سعودی عرب کے معاشرے کو ایک مضبوط بڑھتی ہوئی معیشت، اور ایک متحرک ملک بنانا چاہتے ہیں، جس میں سعودی مملکت کے معاشی نظام میں نجی شعبے کی ترقی شامل ہے، وہ سعودی عرب میں دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں کی تعمیر سمیت چھوٹے اور درمیانے کاروبار کو فروغ دینا چاہتے ہے۔

افراط زر میں اضافے کی وجہ سے مدد کی ضرورت ہے: زبیر موتی والا

اپنی طرف سے بزنس مین گروپ کے چیئرمین اور کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق چیئرمین انجینئر زبیر موتی والا نے کہا کہ کراچی کی تجارتی اور صنعتی برادری معیشت کو سہارا دینے کے لیے پاکستان میں 1 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کے سعودی عرب کے منصوبے کا پرتپاک خیرمقدم کرتی ہے اور اسے سراہتی ہے، خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب ملک کو نقصانات کی وجہ سے واقعی ایک مشکل صورتحال کا سامنا ہے، تباہ کن سیلاب کی وجہ سے، پاکستان معاشی بحران سے گزر رہا ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں، امریکی ڈالر کے مقابلے روپے کی تاریخی گراوٹ، اور افراط زر کی شرح میں تاریخی اضافہ ہوا ہے، اس لیے ہمیں مدد کی اشد ضرورت ہے، خاص طور پر اپنے برادر ملک مملکت سعودی عرب سے سرمایہ کاری کی صورت میں، اور ہم آپ کی جانب سے اظہار یکجہتی اور مملکت سعودی عرب کی طرف سے ہر ممکن مدد کی بہت سراہتے ہیں جس نے ہمیشہ پاکستان کا ہر مشکل وقت میں غیر مشروط طور پر ساتھ دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس سپورٹ کے پاکستانی معیشت پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ سعودی عرب کی جانب سے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری یقیناً معاشی اور صنعتی سرگرمیوں کو مزید فروغ دے گی، بیرونی شعبے کے دباؤ کو کم کرنے کے علاوہ روزگار کے بہت سے مواقع بھی پیدا ہوں گے، جبکہ غیر ملکی سرمائے کا موجودہ خرچ کم سے کم ہے، میں اس بات پر پختہ یقین رکھتا ہوں کہ سعودی عرب کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو وسعت دینے کی صلاحیت کاروبار کے لیے سازگار ماحول کی روشنی میں بہت زیادہ ہے۔

اس مشکل وقت میں سعودی عرب کی طرف سے فراہم کی جانے والی حمایت اور تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارا ملک معاشی بحرانوں سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ زندہ رہنے کی جدوجہد بھی کر رہا ہے۔غیر معمولی سیلاب سے ہونے والی تباہی کی وجہ سے جس میں تقریباً 30 فیصد زرعی شعبہ تباہ ہو گیا ہے، بلاشبہ یہ پاکستان کی بقاء کا معاملہ ہے اور سعودی عرب نے ایک بار پھر دکھایا ہے کہ وہ پاکستان کے لیے ایک برادر ملک سے بڑھ کر ہے اور ہماری مدد کے لیے ہمہ وقت موجود ہے تاکہ ہماری پہلے سے مشکلات کی شکار معیشت پر پڑنے والے بوجھ کو کچھ حد تک کم کیا جا سکے۔

تجارت اور سرمایہ کاری میں نئے امکانات کی تلاش کی ضرورت پر زور

انہوں نے مزید کہا کہ میری رائے میں زرعی شعبے کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے سعودی سرمایہ کاری کی پیشکش کا فائدہ اٹھایا جانا چاہیے تاکہ فی ایکڑ زرعی پیداوار جو کہ پاکستان میں بہت کم ہے، 80 فیصد تک بڑھا کر علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر لایا جا سکے، زرعی تجارت کے جدید ذرائع سے پیداوار، اس سلسلے میں جدید بیج، کیڑے مار ادویات اور ڈرپ ایریگیشن سسٹم کے استعمال کو فروغ دیتے ہوئے سیڈ بینک قائم کیے جائیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی شراکت داری کو بڑھانے کے لیے حکومت کو بین الاقوامی معیار کے مطابق سنگل ونڈو کی سہولت دے کر کاروبار کرنے میں آسانی کو یقینی بنانا چاہیے، حکومتوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ اس پر خصوصی توجہ دی جائے کہ کاروبار سے کاروباری روابط اور عوامی روابط کو مضبوط بنایا جائے تاکہ دونوں برادر ممالک موجودہ تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو نئے افق تک مضبوط بنانے کے مشترکہ مقصد کو حاصل کر سکیں، مزید برآں، تجارت اور سرمایہ کاری کے تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کے لیے تجارتی وفود کا متواتر تبادلہ بھی ضروری ہے، جب کہ تجارت کی راہ میں حائل نان ٹیرف رکاوٹوں کو اولین ترجیح کے ساتھ مؤثر طریقے سے حل کیا جانا چاہیے تاکہ دونوں برادر ممالک کے درمیان براہ راست تجارت کو بڑھایا جا سکے، جوکہ دونوں کے لئے مفید ہو۔

سعودی عرب کو مضبوط برادر ملک کے طور پر دیکھتے ہیں: جنید ماکڈا

اپنی طرف سے پاکستان سعودی کمرشل کونسل کے چیئرمین اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی انٹرنیشنل افیئر کمیٹی کے چیئرمین جنید ماکڈا صاحب نے سعودی عرب کا شکریہ ادا کیا، اور مزید کہا کہ پوری پاکستانی عوام اس سعودی تعاون پر اطمینان کا اظہار کرتے ہیں، مالی تعاون، موخر ادائیگی کی بنیاد پر تیل کی گرانٹس، اور ایک بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے، اور میں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ ہم اس تعاون کو اپنی معیشت کے دھارے کو درست کرنے کی فوری ضرورت کے لیے ایک مضبوط تعاون کے طور پر دیکھتے ہیں، سرمایہ کاری کے لیے ہماری ضروریات کو پورا کرنے کے علاوہ یہ تعاون پاکستان کی معیشت اور برآمدات کو تقویت دیتا ہے، کیونکہ سعودی عرب کی ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری دوسرے ممالک کی توجہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے مبذول کرنے اور راہ ہموار کرنے کا سبب بنے گی، تاکہ ملک میں مزید غیر ملکی سرمایہ کاری آئے، ہم اس تعاون کو پاکستان کے ساتھ مسلسل سعودی تعاون کے سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر بیان کر سکتے ہیں، اور پاکستان کے ساتھ یہ سعودی تعاون، ان شاء اللہ، دونوں برادر ممالک کے درمیان محبت کو مزید تقویت دینے کا سبب بنے گا، کیونکہ پاکستانی عوام مملکت سعودی عرب کو ایک مضبوط اور مستحکم برادر ملک کے طور پر دیکھتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس تعاون سے پاکستانی معیشت اور بالخصوص پاکستانی برآمدات پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے، اور اس کے علاوہ اس تعاون سے مزید غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی راہیں کھلیں گی، اور اس طرح پاکستان دنیا کے نقشے پر سرمایہ کاری کے لئے ایک موزوں ملک کے طور پر سامنے آئے گا۔

جنید ماکڈا صاحب نے اپنی بات کے اختتام میں تجویز پیش کی کہ پاکستان کے شمالی علاقوں میں ریلوے کے شعبے میں، پارکس کی تعمیر، اور ہوٹلوں اور موٹلز کی تعمیر کے لیے چھوٹی صنعتوں میں سرمایہ کاری کی جائے کیونکہ اس سرمایہ کاری کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے، دونوں ممالک کی معیشتوں پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے، اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے آزاد تجارتی معاہدے Free Trade Agreement – FTA یا ترجیحی تجارتی معاہدے Preferential Trade Agreement – PTA پر دستخط کیے جائیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ سعودی سرمایہ کاری سے پاکستانی نوجوانوں کے لیے روزگار کے مزید مواقع پیدا ہوں گے، اور پاکستانی معیشت کو تقویت ملے گی، میں دیکھ رہا ہوں کہ انسانی وسائل کا دونوں ممالک کی معیشت میں اہم کردار ہے، پاکستان میں پیشہ آور اور غیر پیشہ آور نوجوانوں کی ایک بڑی افرادی قوت موجود ہے، اور اس وقت 2.2 ملین سے 2.5 ملین پاکستانی پیشہ آور اور غیر پیشہ آور افراد سعودی عرب میں اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں، اس طرح 18% سے 20% پاکستانی ملک سے باہر مقیم ہیں، اور چونکہ سیلاب نے پاکستانی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ آپ پاکستانی انسانی وسائل کا حصہ 40% سے بڑھا کر 50% سے زیادہ کریں گے، جو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہوگا۔

پاکستان انوسٹمنٹ بورڈ کے سابق وزیر، محمد اظفر صاحب، نے کہا کہ ایک ارب امریکی ڈالر کی یہ سرمایہ کاری پاکستان میں ہونے والے واقعات میں ایک اہم موڑ پر آتی ہے، اور یہ نہ صرف سعودی عرب کی خیر سگالی کی سفارش ہے، بلکہ چیلنجز سے گزرنے والے ملک کے لئے برادر مسلم ملک کی حمایت کی ایک مضبوط علامت ہے، ہمیشہ کی طرح، پاکستان، ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان، اقتصادی اور ترقیاتی امور کی کونسل کے چیئرمین، سیاسی اور سلامتی کے امور کے لیے حمایت اور سرپرستی کا شکریہ ادا کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ سرمایہ کاری مستقبل کی کامیابی کے لیے ایک اچھی آزمائش ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ پاکستان کی ترقی اور تجارت کے امکانات سے انکار نہیں کیا جا سکتا، تاہم، اپنے لیے سیاسی فریم ورک کا فقدان نقصان دہ رہا ہے، آگے بڑھنے کا ایک اچھا طریقہ سرمایہ کاری اور ایسے منصوبوں کی نشاندہی کرنا ہے جو پاکستان کو مستقبل میں مزید سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے ایک بنیاد بنانے میں مدد دے سکتے ہیں، آٹھ سے دس اچھے منصوبوں کی نشاندہی کی جا سکتی ہے جنہیں فوری طور پر شروع کیا جا سکتا ہے، پاکستان کو اپنی ذہنیت کو امداد سے ہٹا کر سرمایہ کاری، منافع اور دوطرفہ تعلقات کی طرف تیزی سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے، تاکہ پاکستانی زراعت، بشمول ڈیری، ٹیکسٹائل اور بہت کچھ، سعودی عرب کے لیے پریمیم اور تیار مصنوعات فراہم کر سکے، اس سرمایہ کاری کو مثالی طور پر ملک کے اعلیٰ ترین دفاتر کی جانب سے نگرانی کی جانی چاہیے اور اس کے نتائج پوری دنیا کو نظر آنا چاہیے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتا ہے، سعودی عرب میں اس وقت تقریباً 11 لاکھ پاکستانی افرادی قوت کا حصہ ہیں، صرف جولائی 2022 میں ان کی ترسیلات زر 821.6 ملین ڈالر تھیں، تاہم دو طرفہ تجارت سے حاصل ہونے والی آمدنی مطلوبہ حد تک نہیں ہے، پاکستان کو پائیدار انفراسٹرکچر اور پالیسی فریم ورک کی فراہمی پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے، سن 2020-2021 کا مالی سال پاکستان کو موصول ہونے والی غیر ملکی سرمایہ کاری صرف 6 ملین امریکی ڈالر کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ سعودی ویلتھ فنڈ نے گوگل اور ایمازان، ویزا، مائکروسافٹ، اوبر، پیپال، ڈزنی، اور دیگر اداروں میں اپنی سرمایہ کاری میں اضافہ کیا ہے اور ان کا پبلک انویسٹمنٹ فنڈ 2000 بلین ڈالر کے حیران کن اعداد و شمار کا منتظر ہے، دوسری جانب سعودی عرب سے پاکستان کی درآمدات کی لاگت 1.57 بلین ڈالر رہی جبکہ برآمدات بمشکل 450 ملین ڈالر پر رہی، یہ ایک بہت بڑا خلا ہے، پاکستان اپنی قابلیت ثابت کر سکتا ہے اور بڑھتی ہوئی علاقائی معیشت کا حصہ بن سکتا ہے۔

اپنی بات کے اختتام پر انہوں نے یہ تجویز دی کہ فوجی فاؤنڈیشن جیسے ادارے کام کرنے کے لیے ایک اچھا پارٹنر بن سکتے ہیں، اسی طرح سعودی پاکستان انڈسٹریل اینڈ ایگریکلچرل انویسٹمنٹ جیسے ادارے کو مضبوط کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.