Ultimate magazine theme for WordPress.

جہلم کا سمپورن، ادب کا گلزار: ناصر بیگ چغتائی کا کالم

361
ناصر بیگ چغتائی کا کالم
ناصر بیگ چغتائی

جہلم کا جاٹ، ادب کا گلزار: ناصر بیگ چغتائی کا کالم

اپنے جہلم بک کارنر والے گگن اور امر شاہد بھی عجیب لوگ ہیں  دل میں تو اتر چکے تھے اب دل کی باتیں بھی پڑھنے لگے۔ گلزار صاحب کو پسند کرنے والے بہت ہیں لیکن شاید ان کو پتہ چل گیا کہ میں ان سے محبت بھی کرتا ہوں  تو بھیج دیا گلزار صاحب  کو میرے گھر، مجھے گھر میں گل و گلزار کی خبر ملی تو باہر تھا۔

ہھر سیلابی مصروفیات آڑے آئیں لکھ نہ سکا کہ گلزار صاحب وصول پائے ۔۔ گھر مہک اٹھا۔ گگن شاہد کا بہت شکریہ کے یہ  نادر مجموعہ بھیجا جس میں پاکستان کی بھی مٹھاس ہے اور بھارت کی بھی۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ جہلم اور جنم بھومی دینہ گلزار صاحب میں رچے بسے ہیں، یہ کتاب پڑھتے جائیں اور اپنے آس پاس دیکھتے رہیں کہ ہمارے ارد گرد  ہی کی تو بات ہے۔ یہ دیکھیں!

پرچیاں بٹ رہی ہیں گلیوں میں

اپنے قاتل کا انتخاب کرو

وقت یہ سخت ہے چناو کا

ایسی ظالم  ثلاثہ یا ہائیکو گھاو  ڈال  جاتی ہے لیکن ہم پھر بھی قاتل کا انتخاب کرتے ہیں۔

اب میرا یہ مقام ہی نہیں کہ میں انداز بیان اردو نثری نظم  ۔۔ نظم غزل ۔۔۔نثر فلموں کی ہدایت کار  پروڈکشن  یا ان کی اسکرپٹنگ  پر تبصرہ کروں۔ یہ کام ” علاموں ” کا ہے۔ میں  تو صرف حوالے دوں گا جو اس کتاب  گلزار میں  مجھے پھر سے شاداں کرگئے۔

صرف سوچیں گلزار صاحب لتا اور ہیمنت کمار۔

ہم نے دیکھی  ہے ان آنکھوں  کی مہکتی خوشبو

بات ہی ختم۔

آنکھوں کی مہکتی  خوشبو  کی اصطلاح شاید پہلے کبھی اتنی سچائی کے ساتھ استعمال نہیں  ہوئی ہوگی ۔۔۔ شاید ہوئی ہی نہیں ۔۔۔ گگن شاہد اور امر نے بہت سے دیوان شائع کئے ہیں۔ وہی بتادیں لیکن اس اصطلاح  سے محبوب  کی محبت کی مہک سے لبریز آنکھیں آپ کی نظروں میں بس جاتی ہیں۔

ناصر بیگ چغتائی کا کالم

فیض و فراز بہت کچھ دے گئے گلزار صاحب نے بھی ان سے استفادہ کیا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ وہ خود بھی آگے بڑھتے رہے۔ کائنات 3 پڑھیں۔ کتنے فخر سے سورج  کو بونا کہہ ریے ہیں اور کتنا ناز ہے اپنی کائنات پر ۔۔۔ پھر اس کے آخری دو مصرعے۔

زمیں سے اس طرح باندھا گیا ہوں

گلے سے ” گریویٹی”  کا دائمی  پٹہ نہیں کھلتا !!

گلزار صاحب کی خاص بات پاکستان سے غیر مشروط محبت اور انسانیت کا احترام  ہے ۔ آنکھوں کو ویزا نہیں لگتا۔۔۔پڑھ جائیں۔۔ مہدی حسن فراز سب انہیں یاد ہیں اور پھر گلوگیر آواز میں کہتے ہیں

بند آنکھوں سے اکثر سرحد پار چلا جاتا ہوں

آنکھوں  کو ویزا نہیں لگتا

سپنوں کی سرحد نہیں ہوتی

پھر جب آپ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں  مقتولین کا ذکر  پڑھتے ہیں تو خود بھی گلزار صاحب کے ساتھ رو رہے ہوتے ہیں

گلزار صاحب نے شاعری میں رومانس کو عروج پر ہی نہیں پہنچایا بلکہ  تاریخ بھی سپرد قلم  کرتے چلے گئے ہیں  ۔۔ وہ دینے سے آوازیں بھی  منگوانے کے لئے بے کل رہتے ہیں

اندھیرا چھٹنے سے پہلے

فجر کی جب اذاں ہوتی ہے

تو پہرے دار شب کا ، آخری پھیرا لگا کر

گلی میں لاٹھی کی : ٹھک ٹھک بجاتا لوٹتا تھا وہ

وہ ٹھک ٹھک گونجتی تھی دور تک اپنی گلی میں

( اگر آوازوں کے آویزے بن سکتے )

مرتب گل شیر بٹ نے درست لکھا ہے کہ اگر دینہ گلزار کی زندگی سے نکل جائے تو کیا ہو ہھر وہ اس وابستگی کا ثبوت دیتے ہیں

میرے شہر دینہ۔۔۔۔

میرا نواسا ، سمئے گلزار سندھو

کبھی آئے تو اسے میرا گھر دکھا دینا

گلزار صاحب پر میں کیا لکھوں۔ بھرتی کرتا نہیں  ۔  بس یہ کہہ سکتا ہوں  کہ ان سے ملاقات کبھی نہیں ہوئی ۔ جوش  فیض فراز  بشیر بدر پروین شاکر۔۔۔۔سب سے ملا۔۔۔اس دور میں کچھ ہی ہیں جن سے ملنے  کی خواہش ہے۔

کوئی سوال جواب  ادب ثقافت شاعری۔۔۔محبت انقلاب۔۔۔ سرحد  کسی پر گفتگو کے لئے نہیں بلکہ  سفید کرتے پائجامہ میں  بیٹھے  اس شخص کو صرف بولتا سننے کے لئے  جس نے کتنے نئے اسلوب دیئے

کھلی کتاب کے صفحے الٹتے ریے

ہوا چلے نہ چلے ، دن پلٹتے رہے

گگن شاہد اور امر ۔۔۔گلزار صاحب وصول پائے گھر کے چھوٹے سے چمن کی کافی ٹیبل پر وادی کشمیر سنا ریے ہیں

بڑی اداس ہے وادی

گلا دبایا ہوا ہے کسی نے انگلی سے

یہ سانس لیتی رہے ، پر یہ سانس لے نہ سکے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.