Ultimate magazine theme for WordPress.

بادشاہ بہادر شاہ ظفر اور ملکہ الزبتھ دوم: بیگ راج کا کالم

321
بیگ راج

بادشاہ بہادر شاہ ظفر اور ملکہ الزبتھ دوم: بیگ راج کا کالم: میجر ہڈسن خوش تھا۔مغل شاہی خاندان کے خاتمے کے عوض اسے میڈل عطا ہوئے تھے۔ برطانوی پارلیمنٹ میں اس کے نام کا قصیدہ پڑھا گیا تھا۔

اس پر کرپشن کے سنگین الزامات تھے لیکن مغل شہزادوں کے قتل، مغل بادشاہ کی گرفتاری اور مغل بیگمات کی تذلیل نے اسے ملکہ وکٹوریہ کی نگاہ میں ہیرو بنا دیا تھا۔

میجر ہڈسن کی آرزو تھی کہ وہ جلد از جلد اپنی بیوی اور نو مولود بیٹی کو دیکھ سکے اور ملکہ کے دست مبارک سے اعزازات لے سکے۔

جب وہ اپنے لشکر کیساتھ بیگم کوٹھی کے محاصرے کیطرف بڑھ رہا تھا، کہیں سے سنسناتی ہوئی گولی اس کی کنپٹی کو چیرتے ہوئے پار ہوگئی۔ غیرت تیموری نے انگڑائی لی تھی۔بد بخت میجر نومولود بیٹی کو دیکھ سکا نہ اعزازات لے سکا۔ لکھنو میں اس ظالم گورے کی قبر اس کے عبرتناک انجام کی منادی کرتی ہے۔

82برس کے بزرگ بادشاہ پر بہتان باندھا جاتا ہے کہ بادشاہ نے اپنی،زینت محل اور بچ جانے والے شہزادوں کی جان بخشی کے بدلے جنرل بخت کے ساتھ جانے سے انکار کیا اور گرفتاری دی۔ایسا ہرگز نہیں ہوا۔بادشاہ سلامت بخت خان کے مشورے پر ہی لال قلعہ چھوڑ کر ہمایوں کے مقبرے میں تشریف لے گئے تھے۔یہاں سے پہاڑی علاقوں کیطرف نکلنے اور جنگ جاری رکھنے کا منصوبہ تھا۔

ملکہ کیطرف سے خواجہ سرا کے ذریعے بادشاہ حضور کو بار بار درخواست کی گئی کہ ہڈسن کے جاسوس مرزا الٰہی بخش کی چال میں نہ آئیں۔ الہی بخش بادشاہ حضور کا سمدھی تھا۔ پندرہ ستمبر رمضان کا مہینہ تھا۔ الہی بخش قرآن اٹھا لایا اور کہا کہ اس کلام کی قسم اگر بخت خان دہلی چھوڑ دے تو انگریز دہلی والوں کا قتل بند کردیں گے اور بادشاہ اور مغل خاندان سے کوئی تعرض نہ ہوگا۔

یوں دہلی کو مذید لوٹ مار سے بچانے اور غارت گری رکوانے کیلئے بہادر شاہ ظفر الہی بخش کے جھانسے میں آگئے۔ جب میجر ہڈسن بادشاہ کو ہتھ کڑیاں پہنانے کیلئے آگے بڑھا تو بادشاہ سلامت نے مرزا کی طرف دیکھ کر کراہت بھرے لہجے میں کہا، "الہی بخش تم بھی ؟”

مرزا الٰہی بخش اور منشی رجب علی کو اس غداری اور جاسوسی کے بدلے بھاری وظیفے دئے گئے۔جائدادیں عطا ہوئیں۔الہی بخش کا تعارف غدار وطن کے طور پر بچے بچے کی زبان پر تھا۔اس نے اسی احساس جرم میں خود کشی کر لی۔اس کے نام لیوا روپوش ہوگئے۔ آج ہندوستان، پاکستان،بنگلہ دیش میں الہی بخش کا نام لینے والا کوئی نہیں۔

منشی رجب علی نے رسوائی کے ڈر سے دہلی چھوڑ دی تھی۔ وہ سودائی ہوگیا تھا۔کسی کچہری کے باہر بیٹھا آنے جانے والوں کو چیخ کر بتایا کرتا۔”میں رجب علی غدار”۔

آخری مغل تاجدار کا اقتدار قلعے تک محدود تھا۔62سال کی عمر میں نام کی سلطنت ملی تھی۔شاندار ماضی کی یادیں زندہ رکھنے اور دہلی کے باشندوں کی داد رسی کیلئے بادشاہ کو بہت محنت کرنا پڑی۔ایسٹ انڈیا کمپنی کیطرف سے ایک لاکھ روپیہ وظیفہ ملتا تھا۔

قلعے اندر سلاطین کی ضرورتوں کو پورا کرنا، ادیبوں، شاعروں، صوفیوں اور حاجت مندوں کی سرپرستی کرنا اور محل اور دربار کے انتظامی اخراجات پورے کرنا بہت مشکل کام تھا۔بادشاہ نے ہمت نہیں ہاری۔ساہو کاروں سے قرض لیکر بھی دربار کی رونقوں کو آباد رکھا۔ سلاطین کی تعلیم و تربیت جاری رکھی اور شاہی نوادرات کی مکمل حفاظت کی۔

اردو،فارسی اور پنجابی میں جو بہترین شاعری میسر آئی اس کا بہت سا حصہ بہادرشاہ ظفر کے 20سالہ دور کے مرہون منت ہے۔دہلی کا مغل دربار اجڑنے کے بعد اسد اللہ غالب اس قدر مغموم رہنے لگے تھے کہ پورے دس سال میں صرف دس غزلیں کہہ سکے۔

بادشاہ سلامت خود پائے کے شاعر تھے۔ وہ آخری دم تک شاعری فرماتے رہے۔

بہادر شاہ ظفر کے بڑوں نے ہندوستان پر کسی تجارت کے بہانے قبضہ نہیں کیا تھا۔عظیم فاتح مرزا ظہیر الدین محمد بابر(بہشت مکانی) نے اپنی دلیری،جوانمردی اور دوراندیشی کے سبب پانی پت کے میدان میں اپنے سے دس گنا بڑی فوج کو شکست دیکر ہندوستان فتح کیا تھا۔

مغل بادشاہوں نے دنیا بھر سے اہل حرفہ و ہنر اس ملک میں جمع کئے۔یہاں سے لوٹا کچھ نہیں۔اپنا سب کچھ ہندوستان پر نچھاور کردیا۔ مغلوں نے ہندوستان کے لوگوں کو غلام نہیں بنایا،انہیں ساتھ ملایا۔انہیں اپنا رشتے دار بنایا۔ ہندوستان کی خوشحالی دنیا بھر میں تسلیم کی گئی۔

انگریزوں نے اپنی فوجی اور معاشی ضرورتوں کے تحت،ریلوے کا نظام بنایا۔عمارتیں کھڑی کیں۔وسائل کو بے دردی سے لوٹا۔بلکہ لفظ loot انگریزوں کی لوٹ مار کے باعث ہی انگریزی لغت کا حصہ بنا۔
مغلوں نے رعایا کی زندگیوں کو بہتر کرنےکیلئے باغات بنائے، صنعت و حرفت کو فروغ دیا،خوبصورت عمارتیں بنائیں۔

انگریز کو صرف ایک صدی ہندوستان پر حکمرانی نصیب ہو سکی۔مغلوں نے ساڑھے تین سو برس بڑے جاہ و جلال کیساتھ حکومت کی۔

بہادر شاہ ظفر سے رعایا محبت کرتی تھی۔جنگ آزادی کی قیادت کیلئے صرف ایک ہی شخصیت تھی جس پر مسلمان، ہندو،سکھ سب متفق تھے۔مجاہدین نے مذہب،زبان ،مسلک،علاقے کی تفریق رکھے بغیر مغل بادشاہ کو اپنا حاکم تسلیم کیا۔ مغل بادشاہ ہندو مسلم اتحاد کا استعارہ تھے۔

یہ دنیا کا واحد شاہی خاندان تھا جب ملک بدر کیا جا رہا تھا تو دہلی شہر ماتم کناں تھا۔عوام دھاڑیں مار کر روئے۔گولیاں چلا کر ہجوم کو منتشر کیا گیا۔انگریز بھاگا تو ایک آنکھ بھی نم نہیں تھی۔

آزادی کے ہیرو اور آزاد ہند فوج کے سربراہ سبھاش چندر بوس ،جنرل شاہ نواز خان اور دیگر حریت پسندوں نے فوج کے ہیڈکوارٹر رنگون میں بہادر شاہ ظفر کے مقبرے پر 1945ء میں حاضری دی اور عہد کیا کہ آزادی کے بعد مغل بادشاہ کے جسد خاکی کو دہلی منتقل کریں گے۔ہندوستان آزاد ہوگیا لیکن آج دہلی میں مغل بادشاہوں کا تذکرہ جرم بنا دیا گیا ہے۔

ایس ایم ظفر نے اپنی تصنیف "میرے مشہور مقدمات” کے دیباچے میں لکھا ہے کہ انگریز مسلسل دباؤ ڈالتے رہے کہ مغل بادشاہ انگریزوں کو ہندوستان کا جائز حکمران تسلیم کرلے۔ لیکن بادشاہ نے ہر بار دستاویز پر دستخط کرنے سے انکار کردیا۔

اس ناکامی کے بعد انگریز عدالت نے مغل بادشاہ کو سزا سنائی اور رنگون بھیج دیا۔اگر بادشاہ اس دستاویز پر دستخط کردیتے تو ہندوستان کیلئے غلامی سے نجات بہت مشکل ہوجاتی۔پاکستان بھی اتنی آسانی سے بن نہ پاتا۔

شاہ چارلس سوئم کی بادشاہت بھی نام کی بادشاہت ہے۔ برطانوی شاہی خاندان برطانوی عوام کا محسن ہے کہ دنیا بھر سے لوٹی ہوئی دولت برطانیہ کے خزانوں میں پڑی ہے۔

بہادرشاہ ظفر اور مغلیہ خاندان بھی ہندوستانی عوام کا محسن ہے۔آج کے انڈیا اور پاکستان سے اگر مغل عمارتوں ،باغوں،صنعتوں، کھانوں ،کپڑوں،زیورات اور فائن آرٹ کو نکال دیں تو باقی صرف میلی کچیلی دھوتیاں اور پگڑیاں بچ جاتی ہیں۔

برطانیہ اپنے شاہی خاندان کو آج بھی عزت دیتا ہے،شاہی پروٹوکول کیساتھ ملکہ کی تدفین کرتا ہے۔ نئے بادشاہ کی تاج پوشی کرتاہے،سالگرہ مناتا ہے۔ ہم مغل شاہی خاندان کی تضحیک کیوں کرتے ہیں۔

بھارتی وزیراعظم جس قلعے میں دفتر لگاتا ہے وہ لال قلعہ بہادرشاہ ظفر ہی کی ملکیت تھا۔انتہا پسند ہندو ہندوستان کی تاریخ کا پہیہ الٹا نہیں گھما سکتے۔یہ کیسے ممکن ہے کہ برطانوی شاہی خاندان کے تذکرے ہوں اور مغل شاہی خاندان کا ذکر نہ ہو۔تاریخ ایسی ناانصافی کبھی نہیں کرسکتی!

Leave A Reply

Your email address will not be published.