Ultimate magazine theme for WordPress.

ٹرانس جینڈر پر قانون سازی: ڈاکٹر شاہ فیض کا کالم

ڈاکٹر شاہ فیض

322

ٹرانس جینڈر پر قانون سازی: ڈاکٹر شاہ فیض کا کالم

ہمارے سیاستدان بالا بالا ہمارے ساتھ کیا کرتے رہتے ہیں کون کون سے قوانین منظور کرتے اور کرواتے رہتے ہیں بہرحال "ٹرانس جینڈر” موجودہ قانون سازی کے ضمن میں بہت زیادہ سننے میں آ رہا ہے اسے سمجھ لیں تاکہ اس حوالے سے قانون سازی کو بھی سمجھا جا سکے۔

مرد یا عورت کی جنس کا تعین استقرار حمل سے ہی ہوجاتا ہے۔ اس کی وجہ ماں اور باپ سے آنے والے سیکس کروموسوم ہوتے ہیں۔ انہی کروموسوم کی وجہ سے جنین میں مرد یا عورت کے اندرونی اور بیرونی اعضا اور ہارمونز وغیرہ بنتے ہیں۔ اور وہ پیدائش کے وقت یا بلوغت کے ایام میں مرد یا عورت کی صنف کے ساتھ ظاہر ہوتے ہیں۔

لیکن ان ہارمونز میں خرابی کی وجہ سے کبھی جنس میں ابہام پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ ابہام کبھی پیدائش کے وقت کی نظر آتا ہے اور کبھی بلوغت سے پہلے ظاہر نہیں ہوتا۔

انٹر سیکس:

ایسے افراد جو پیدائشی طور ایسی کسی ایبنارمیلیٹی کی وجہ سے صنفی ابہام کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں ۔ ان کو انٹر سیکس کہا جاتا ہے۔

فقہاء نے ایسے افراد کو یہ اختیار بھی دیا ہے کہ وہ غالب جنس/صنف اختیار کریں ۔ البتہ ان کی مختلف ضروریات کے مختلف ہارمونل یا سرجیکل طریقے موجود ہیں جو کچھ معاملات کو آسان کردیتے ہیں۔یہی وہ لوگ ہیں جن کے ساتھ ہمارے معاشرے میں شدید امتیاز بھی برتا گیا اور ان کو زندگی کے بنیادی حقوق تک سے محروم رکھا گیا۔

سس جینڈر:

یہ وہ افراد ہیں جو پیدائشی طور اور جسمانی طور پر مکمل مرد یا عورت پیدا ہوئے اور اپنی اس صنفی شناخت پر راضی ہیں ۔ ان میں میرے آپ جیسی اکثریت شامل ہے۔

ٹرانس جینڈر:

ایسے افراد ہیں جو پیدائشی طور پر، جسمانی اور ہارمونز کے اعتبار سے مکمل عورت یا مرد کی جنس کے ساتھ پیدا ہوئے۔ مگر بڑے ہو کر معاشرتی دباؤ ، ٹرینڈ، ذاتی پسند ناپسند کی بنیاد پر اپنی جنس سے نا خوش ہیں۔ اس ناخوشی کی وجہ سے یہ افراد اپنی مرضی سے اپنی صنف یا تعین کرتے ہیں۔

مرد ہوں تو عورت بن جاتے ہیں، عورت ہو تو مرد

ٹرانس جینڈر کا اسلام سے کیا مسئلہ ہے

اسلام میں مرد عورت کے لیے الگ الگ قوانین وضع کیے گئے ہیں جیسا کہ پردے اور اختلاط کے علاوہ شادی بیاہ اور وراثت وغیرہ کے قوانین ہیں۔

یہ بات واضح رہے کہ دنیا میں ٹرانس جینڈر قوانین پیدائشی خواجہ سرا یعنی انٹر سیکس افراد کے تحفظ کے لیے نہیں بنائے گئے۔ وہ تو میڈیکلی اور فزیکلی اس طرح ہیں اور تعداد میں انتہائی کم ہیں۔

بلکہ ترقی یافتہ دنیا میں ٹرانس جینڈر قوانین اختیاری طور پر اپنی صنف تبدیل کرنے والوں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے ہیں اور یہ صرف صنفی انتخاب تک محدود نہیں بلکہ جنسی رحجانات تک پھیلتے ہیں ۔ اس لیے ٹرانس جینڈر کے ساتھ ہم جنس پرستی کو مکمل تحفظ عطا کیا جاتا ہے۔ اور یہی اصل مسئلہ ہے۔

یعنی اپنی مرضی سے اپنی جنس تبدیل کروانے کا اختیار دیا جا رہا ہے اور یہ مرضی اسی مذموم مہم کا سلسلہ ہے جسے ہم "میرا جسم میری مرضی”۔

اس کے اثرات پر ان شاء اللہ جلد ہی ایک تفصیلی پوسٹ ہو گی جس میں اس حوالے سے پاکستان میں جو قانون سازی کی جا رہی ہے اس کا تفصیلی ذکر کیا جائے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.