Ultimate magazine theme for WordPress.

ہماری مانیں، شطرنج چھوڑ دیں! عرفان سدوزٸی کا کالم

337
عرفان خان سدوزئی

ہماری مانیں، شطرنج چھوڑیں! عرفان سدوزٸی کا کالم

شطرنج کی بساط ایک چھوٹا سا میدان جنگ ہے جہاں مخالف ایک دوسرے کو شکست دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ بساط کے مہرے فوج کے چار حصوں میں منقسم ہوتے ہیں۔ پیادے، گھڑ سوار، ہاتھی سوار اور رتھ سوار۔

جس نے سوچ سمجھ کر چال چلی وہ مقدر کا سکندر بنا اور جس نے جلد بازی میں غلط چال چلی وہ رہا ناکام۔ الغرض شطرنج عقل و فراست کا کھیل ہے جسے گھنٹوں کھیلا جا سکتا ہے۔

شطرنج کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ لت اگر لگ جائے تو چھوٹنا مشکل ہے اوربازی شروع ہو جائے تو ختم ہونے تک تو کھیلنے والے دین دنیا سے بے خبر ہو جاتے ہیں۔

معروف فلم ساز ستیہ جیت رے نے معروف افسانہ نگار منشی پریم چند کی کہانی شطرنج کے کھلاڑی کو فلم کی شکل دی جس میں یہ پیش کیا گیا کہ کس طرح شطرنج کے نشے میں ریاست گنوا دی گئی اور احساس زیاں بھی جاتا رہا۔

پاکستانی سیاست بھی ہمیشہ شطرنج کا کھیل ہی رہی ہے یہاں عوامی نماٸندے مہرے اور عوام پیادے ہیں ۔ یہاں نیلسن منڈیلا بھی پیدا ہوتا تو وہ بھی الیکشن ہار جاتا ۔ اردغان ہوتا تو اسے بھی فیصلے کا اختیار نہ ہوتا کیونکہ یہاں گھڑ سوار اور ہاتھی سوار دکھاٸی نہیں دیتے۔

اخلاقیات تو درکنار یہاں قانون پہ عملدرآمد نہیں ہوتا: عرفان سدوزٸی کا کالم

دنیا کو دیکھانے کے لیے ہی سہی لیکن ہم ایک جمہوری معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں طاقت کا سرچشمہ عوام کو تصور کیا جاتا ہے لیکن عوام بھی ووٹ ڈالنے کے بعد نتاٸج کے لیے غیبی طاقتوں کے ہی منتظر رہتے ہیں۔

اخلاقیات تو درکنار یہاں قانون پہ عملدرآمد نہیں ہوتا کیونکہ ان کے نزدیک وہ قانون سے بالاتر ہیں اور اگر کوٸی قانون راستے میں رکاوٹ بن بھی جاۓ تو اسے توڑدیا جاۓ ۔ یہی طاقت کا اصول ہے ، پسماندہ اور تیسرے درجے کے ممالک میں حاکم رعایا پہ ایسے ہی حکمرانی کرتے ہیں۔

یہاں عوامی نماٸندے ان کے مظالم کا تذکرہ تو دور کی بات، ان کا نام لیتے ڈرتے ہیں ایسے میں اگر کوٸی نعرہ مستانہ بلند کرے کہ ”ہم کوٸی غلام تھوڑی ہیں کہ جیسا آپ کہیں مان لیں “ تو پھر آپ تصور کر لیں کہ ایسے مجنوں کا کیا حال ہو گا۔

75 سال سے آپ مذہب کے مالکانہ حقوق استعمال کرتے رہے، سیاست اور ریاست دونوں کو اسلامی ٹچ دیتے رہے لیکن جب کسی اور نے آپ کی ترکیب چراٸی تو اسکے خلاف شطرنج کی بساط بچھا دی گٸی۔ اسے گرانے کے لیے دفاعی وساٸل تک جھونک دیٸے گئے۔

آپ نے کنگز پارٹیاں بناٸیں جو پتلیوں کی طرح آپ کی انگلیوں کے اشاروں پہ ناچتی رہیں لیکن آج اپنی مقبولیت کا اندازہ لگالیں کہ وہ بھی آپ کا ساتھ چھوڑ رہی ہیں ۔ سندھ ، بلوچستان اور پختونخواہ کے بعد پنجاب کی عوام نے بھی آپ کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ پہلے تو سنبھل گئے تھے، اللہ نہ کرے اگر اب ٹوٹے تو ٹکڑے بھی نہ گن پاٸیں گے۔

اپنی کھوٸی ہوٸی عزت کو بحال کرنے کیلیے آپ دور رہیں ،اتنا دور کہ سیاستدانوں تک ہاتھ بھی نہ پہنچے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ کڑھی دھوپ میں اگر کہیں کوٸی فوجی کھڑا پہرہ دے رہا ہو تو اسے رُک کہ سلیوٹ کریں۔

کوٸی جنگ جیتیں تو جنرل کی منصوبہ بندی کو داد دیں اور اگر خدانخواستہ ہار جاٸیں تو آپ کا حوصلہ بڑھاٸیں ، پروازیں بھرتے جنگی جہازوں کو نظروں سے اوجھل ہونے تک فخریہ انداز سے دیکھیں ، اپنی آبدزوں اور مہینوں سمندر میں رہنے والے نیوی کے جوانوں کو دشمن کی چالوں پہ نظر رکھنے پہ کندھوں پہ بٹھاٸیں۔

ان سب کاموں کیلیے آٸی ایس پی آر کو اشتہارات ، ملی نغموں اور ڈراموں پہ سرمایہ کرنے کی ضرورت نہیں ، صرف عوام اور ان کے نماٸندوں کو انکے حال پہ چھوڑ دیں!

Leave A Reply

Your email address will not be published.