Ultimate magazine theme for WordPress.

کاش پرویز ہود بھائی بھی کوئی ننھے پروفیسر ہوتے !

ڈاکٹر حفیظ الحسن

32

کاش پرویز ہود بھائی بھی کوئی ننھے پروفیسر ہوتے ! تحریر: ڈاکٹر حفیظ الحسن

ڈاکٹر پرویز ہود بھائی نے سکالرشپ پر دُنیا کی نمبر ون یونیورسٹی ایم آئی ٹی سے بیچلرز سے لیکر پی ایچ ڈی کی۔

غالباً پاکستان میں کوئی ہی ہوگا جس نے اپنی ساری اعلیٰ تعلیم ایم آئی ٹی سے حاصل کی ہو۔ ایک ایسی یونیسورسٹی جس میں دُنیا کے ذہین ترین افراد تعلیم حاصل کرنے کے خواب دیکھتے ہیں۔

جدید پارٹکل فزکس کے ان گنت پہلوؤں پر پیش رفت کی جنکے نتائج دُنیا کے معتبر ترین سائنسی جرائد میں شائع کیے گئے۔

تیس سال سے زائد عرصے تک پاکستان کی ایک معیاری یونیورسٹی کے فزکس ڈیپارٹمنٹ میں پروفیسر رہے۔ نوبل انعام یافتہ سائنسدانوں کے ساتھ تحقیق کی، دُنیا کی ٹاپ کی یونیورسٹیاں انہیں لیکچرز دینے کے لیے بلاتی ہیں۔

کئی طلبا کی پی ایچ ڈی کے سپروائزر رہے، کئی کتابوں کے مصنف ہیں اور پاکستان میں سائنس کی ترویج اور سیاست و سماجی پہلوئوں پر کھول کر رائے دینے میں پیش پیش رہے ہیں۔

اب آتے ہیں دوسری طرف!

ایک بچہ ہے جنکا نام حماد صافی ہے، غالباً 11 سال کے ہوئے ہیں اب، خود کو موٹویشنل سپیکر کہتے ہیں۔

انہوں نے کتنی تعلیم حاصل کی ہے شاید ابھی سکول ہی جاتے ہونگے۔

انہوں نے کتنی تحقیق کی ہوگی اور کس چیز میں یہ بھی معلوم نہیں۔ صرف اتنا معلوم ہے کہ بولتے ہیں اور لگاتار بولتے ہیں وہ بھی اسلامی ٹچ کے ساتھ۔

آج بھی ہماری عوام کو جو سب سے زیادہ پسند ہیں وہ صرف بولتے ہیں عملی کام نہیں دیکھتے، اُنکی کم تری کو اُنکی برتری بتاتے ہیں۔

موٹویشنل تقاریر کرتے ہیں، اقبال کے شعر سناتے ہیں انکے وہ معنی بتاتے ہیں جو اقبال نے خود کبھی خواب میں بھی نہیں سوچے ہونگے اور بس یوں چھا جاتے ہیں۔

پاکستان کی بڑی تعلیمی یونیورسٹیاں انہیں تقاریر کے لئے بلاتی ہیں، اِن سے "موٹیویشن” لیتی ہیں۔

پرویز ہود بھائی کون ہیں؟

پرویز ہود بھائی

جس ملک میں پانچویں جماعت کا بچہ خود کو ننھا پروفیسر کہلائے اور مشہور ہو جائے اور اسکے 4.1 ملین فالورز ہوں۔

لیکن وہاں چالیس سال سے عالمی معیار کی درسگاہوں میں تعلیم دینے والے، ایم آئی ٹی امریکا سے آج سے پنتالیس سال پہلے پی ایچ ڈی کرنے والے، دنیا کے ٹاپ 100 تھنکرز میں 85 ویں نمبر پر جگہ بنانے والے، کئی تحقیقی کتابوں کے مصنف عالمی جریدوں میں سینکڑوں سائینس مضامین لکھنے اور سائینس فلسفے تاریخ سمیت کئی موضوعات پر ہزاروں لیکچرز دینے والے، درجنوں ملکی و عالمی ایوارڈ وصول کرنے والے سائنسدان، پروفیسر ہود بھائی جیسے استاد کے فالورز کی تعداد اسکا ایک فیصد یعنی اکتالیس ہزار بھی نا ہوں تو وہ مُلک کیسے ترقی کے راستے پر چل سکتا ہے؟

اب بتائیں پاکستان میں کیا خاک سائنس ہونی ہے؟ جب لوگوں کو علم ہی نہیں کہ اصل اور سنجیدہ سائنس ہوتی کیا ہے۔

جب اُنہیں یہی علم نہیں کہ اصل پروفیسر اور ننھے، چھوٹے، بڑے، موٹے ہر سائز کے "پروفیسر” میں کیا فرق ہوتا ہے؟

کس کی خدمات ہیں جو معاشرے کو سائنس میں آگے لیکر جائیں گی اور کون خالی خولی باتیں بنا کر تالیاں پٹوائے گا اور نتیجہ صفر کا صفر رہے گا۔

اول تو ہماری عوام کو سائنس پسند ہی نہیں وہ محض سائنس کے صارف رہنا چاہتے ہیں اور اگر پسند ہے بھی تو اُنکی سوچ سے مطابقت رکھتی سائنس ہی اُنہیں اچھی لگتی ہے اُنہیں حقیقی آئینہ دیکھنا پسند ہی نہیں ہے۔

قصور عوام کا بھی نہیں ہے مگر، وہ ایک ایسے نظام کا حصہ ہیں جہاں اُنکی جہالت ہی اُن پر قابض 75 سال والے طبقے کی اصل طاقت ہے۔

ہود بھائی وہ کہتا ہے جسے عام لوگ سننا پسند نہیں کرتے، اور حماد صافی وہی کہتا ہے جسے لوگ سننا چاہتے ہیں جو ہر کوئی ایرا غیرا بھی وہ باتیں کرسکتا ہے مگر بس اُسے اچھے سے بولنا آنا چاہیئے۔۔۔

استاد و نصاب و میڈیا و محراب و منبر نے بچپن سے ہمارے سر پر لوہے کا خول چڑھا کر ہمیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دولے شاہ کے چوہے بنا دیا ہے۔

ہمارے تھینک ٹینک اپنی ریٹنگ بنانے کے چکر میں عامی سطح تک گر جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کی سماعتیں گھٹیا اور پوج باتیں سننے کی عادی ہو گئی ہے۔

جس ملک میں کرکٹر، فلمی ستارے، بونے سیاستدان، جھوٹھے مُلاں و پیر، میڈیا دلال صحافی وغیرہ ہیروز ہوں یا آئیڈئیلز ہوں اور وہ لوگ اُنکو دھڑا دھڑ فالو کرتے ہوں۔

جس معاشرے میں اخلاقیات سے گِرنا، گالم گالوچ، جھوٹ، دھوکا دہی اور چوری کوئی مسئلہ ہی نہ ہو۔

پرویز ہود بھائی ایک استاد

بلکہ جو جتنا بداخلاق، جتنا واہیات، جتنا جھوٹھا اور دو نمبر وغیرہ ہو وہی زیادہ معزز اور فالو کرنے کے قابل ہو، وہاں علم اور استاد کی عزت کیسے ممکن ہوسکتی ہے بھلا؟

اور ایک یہی تو وجہ ہےکہ ملک زبوں حالی کا شکار ہے، آگے نہیں بڑھ رہا، نئی سوچ پیدا نہیں ہو رہی۔

اور مانا کہ ہم ایسے سسٹم کی پیداوار ہیں جہاں روشنی دکھانے والے کو خود کا ہی دُشمن  سمجھا جاتا ہے مگر وہ کم سے کم اس بارے میں سوچ تو سکتے ہیں۔

اگر خود کُچھ کر نہیں سکتے تو رکاوٹ تو نہ بنیں، کبھی کبھی بلاوجہ تنقید بھی اچھی نہیں ہوتی، چپ رہ کر بھی احتجاج اور مثبت تبدیلی کا حصہ بنا جا سکتا ہے۔

اور کُچھ لوگ کہتے ہیں پروفیسر ہود بھائی صرف سائنس تک ہی محدود رہیں۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر موم چومسکی ماہر لسانیات ہے مگر اُس کی سیاست پر کتابیں زیادہ ہیں، کیا وہ سیاست پر بولنا چھوڑ دے اب؟

رسل فلسفی تھا اُسے سیاست پر بولنے کا کیا حق تھا پھر تو؟ جو لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں اِس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ آپ پھر ہود بھائی کے بارے میں جانتے بھی نہیں، نا ہی اُنہوں نے اُنکے سینکڑوں لیکچرز سنے ہیں سائنس پر، نا ہی اُنکے سائنسی مقالوں کا اُن کو پتہ ہے۔

رہی بات سیاست یا سماجی پہلوئوں کی، تو وہ تو یہاں ایک ریڑھی والا، ایک مزدور، ایک ڈاکٹر، ایک قصائی، ایک رکشے والا کوئی بھی کرسکتا ہے سیاست اور سماجی زندگی لوگوں پر ہوتی ہے اِس سے براہ راست لوگوں کا واسطہ ہوتا ہے۔

اور آئینی طور پر یہ لوگوں کا بنیادی حق ہے کہ وہ سیاسی حوالے سے خاموش نہ رہیں اُنہیں اپنی رائے دینے کا پُورا پُورا حق ہے۔ اور ہود بھائی جیسے تحاریر تو شائد ہی کوئی لکھتا ہو، tilak divasher, Zirring, اور Lawrence جیسے اعلیٰ سطحی کے لکھنے والے بھی اپنی کتابوں میں پرویز ہود بھائی کو نقل کرتے ہیں۔

آپ کی عداوت کی وجہ اگر یہ ہے کہ وہ سیاست پر لکھتا اور بات کیوں کرتا ہے تو کسی کو اپنی سیاسی رائے سے منع کرنا غیر آئینی اور آمرانہ رویہ ہی ہے۔

ہود بھائی سائنسدان ہونے کے ساتھ ساتھ educationist اور activist بھی ہے جن کا کام ہی سماج کو بہتر بنانا اور سکھانا ہوتا ہے

نوٹ: آج اُن کے جنم دن کے موقع پر اِس تحریر میں کُچھ تحریف کی گئی ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.