Ultimate magazine theme for WordPress.

ڈٹ جاو تم حسینؓ کے انکار کی طرح

شہادت حسینؓ کا پیغام یہی ہے کہ ظلم و جبر کے سامنے کبھی سر نہیں جھکانا

105

یہ سن عیسوی کا چھ سو اسی واں سال تھا ۔۔۔۔۔ یعنی اکتوبر کا دوسرا اور سال کا گرم ترین ہفتہ ۔۔۔۔۔ بغداد سے ایک سو دو کلومیٹر کے فاصلے پر ایک جانب مدینہ سے آنے والوں کے درجنوں رہائشی خیمے گڑے تھے تو دوسری جانب فرات کے کناروں پر حاکمِ وقت کے سینکڑوں لشکری خیمہ زن تھے۔ مدینہ سے آنے والے خیمہ نشینوں پر فوجی حکمت عملی کے تحت کئی روز سے پانی بند کیا جاچکا تھا، جسموں کو جھلسا دینے والی گرمی میں بچے پیاس سے بلکتے تھے، جوانوں کے ہونٹ خشک تھے، خواتین کے لب پپڑی بننے لگے تھے اور بزرگ مسلسل صبر اوراستقامت کا پیکر بنے ہوئے تھے، لیکن کوئی اپنے دشمنوں کے سامنے دستِ سوال دراز کرنے کو تیار نہ تھا۔ یہ گھرانہ دستِ سوال دراز کرتا بھی کیوں کرتا؟ یہ سرورِ کونین کے نواسے کا گھرانہ تھا۔ یہ حضرت حسینؓ کا گھرانہ تھا، جس پر کربلا کے لق و دق صحرا میں کوہِ گراں گرانے کی تیاریاں مکمل کی جا چکی تھیں۔

اس تحریر کو یوٹیوب پر دیکھیں

https://youtu.be/agT5sVM8DV0

حضرت حسینؓ کا لشکریوں سے خطاب

مالک کائنات کے ساتھ ابدی ملاپ کا وقت قریب آن پہنچا تو حضرت حسینؓ لشکریوں کو مخاطب ہوئے "اے لوگو! جلدی نہ کرو، پہلے میری بات سُن لو، مجھ پر تمہیں سمجھانے کا جو حق ہے اسے پورا کر لینے دو اور میرے آنے کی وجہ بھی سُن لو۔ اگر تم میرا عذر قبول کرلو گے اور مجھ سے انصاف کرو گے تو تم انتہائی خوش بخت انسان ہوگے لیکن اگر تم اس کے لیے تیار نہ ہوئے تو تمہاری مرضی۔ تم اور تمہارے شریک مل کر میرے خلاف زور لگالو اور مجھ سے جو برتاؤ کرنا چاہتے ہو کر ڈالو ۔۔۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ میرا کارساز ہے اور وہی اپنے نیک بندوں کی مدد کرتا ہے” ۔۔۔۔۔ حضرت حسینؓ پھر گویا ہوئے ” اے لوگو! تم میرے حسب و نسب پر غور کرو اور دیکھو تو سہی کہ میں کون ہوں؟ اپنے گریبانوں میں منہ ڈالو اور اپنے آپ کو ملامت کرو، خیال تو کرو ۔۔۔۔۔ کیا تمہیں میرا قتل اور میری توہین زیب دیتی ہے؟ کیا میں تمہارے نبیؐ کا نواسہ اور ان کے چچیرے بھائی کا بیٹا نہیں؟ جنہوں نے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہا اور اس کے سچے رسولؐ پر ایمان لائے؟ کیا سیدالشہداء حضرت امیر حمزہؓ میرے والد کے چچا نہ تھے؟ کیا جعفر طیارؓ میرے چچا نہ تھے؟ اگر میرا یہ بیان سچا ہے اور ضرور سچا ہے، تو بتاؤ کہ کیا تمہیں ننگی تلواروں سے میرا مقابلہ کرنا چاہیے؟

سانحہ کربلا کا انسانیت پر اثر

حضرت حسینؓ کی اس تبلیغ کا لشکریوں پر کوئی اثر نہ ہُوا اور دس محرم الحرام کو اسلامی تاریخ کا یہ افسوسناک ترین سانحہ پیش آیا، جس میں حضرت حسینؓ کا کردار حق پرستوں کیلئے روشنی کا ایک مینار بن گیا ۔۔۔۔۔۔ حریت، آزادی اور اعلائے کلمۃ الحق کیلئے جب بھی مسلمانوں نے اپنی جدوجہد کا آغاز کیا تو حضرت حسینؓ کی قربانی کو مشعل راہ پایا۔ آپ ہی سے مسلمانوں نے سیکھا کہ جبر و استبداد کے سامنے سینہ سپر ہونا عین رضائے الٰہی ہے۔ اسلامی تاریخ کو کسی اور واقعہ نے اس قدر اور اس طرح متاثر نہیں کیا، جیسے سانحہ کربلا نے کیا۔

اسلامی خلافت کا بنیاد

حضور نبی کریمؐ سلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدینؓ نے جو اسلامی ریاست قائم کی تھی اس کی بنیاد انسانی حاکمیت کی بجائے اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلی کے اصول پر رکھی گئی تھی۔ اس نظام کی روح شورائیت میں پنہاں تھی۔ اسلامی تعلیمات کا بنیادی مقصد بنی نوع انسان کو شخصی غلامی سے نکال کر خدا پرستی، حریت فکر، انسان دوستی ، مساوات اور اخوت و محبت کا درس دینا تھا۔ حضرت حسینؓ بھی انہی اسلامی اصولوں اور قدروں کی بقا و بحالی کے لیے میدان عمل میں اُترے تھے، لیکن راہ حق پر چلنے والوں پر جو کچھ میدان کربلا میں گزری وہ جور جفا ، بے رحمی اور استبداد کے سوا اور کیا تھا؟

نواسہ رسول ﷺ کی انتہائی معقول تجاویز

نواسہ رسولؐ کو میدان کربلا میں بھوکا پیاسا رکھ کر جس بے دردی سے شہید کیا گیا اور ان کے جسم اور سر کی بے حرمتی کی گئی اخلاقی لحاظ سے بھی تاریخ اسلام میں یہ اولین اور بدترین مثال تھی۔ اس جرم کی سنگینی میں مزید اضافہ اس امر سے بھی ہوتا ہے کہ نواسہ رسولؐ نے آخری لمحات میں جو انتہائی معقول تجاویز پیش کیں انہیں سرے سے درخور اعتنا ہی نہ سمجھا گیا ۔۔۔۔۔۔ جہاں تک حق و انصاف ، حریت و آزادی اور اعلائے کلمۃ الحق کے لیے جدوجہد کا تعلق ہے تو یہ کہنا درست ہوگا کہ سانحہ کربلا تاریخ اسلام کا ایک شاندار اور زریں باب بھی ہے۔ حضرت حسینؓ نے جس پامردی اور صبر سے کربلا کے میدان میں مصائب اور مشکلات کو برداشت کیا وہ حریت، جرأت اور صبر و استقلال کی لازوال داستان ہے۔ حضرت حسینؓ کا یہ ایثار اور قربانی تاریخ اسلام کا ایک ایسا درخشندہ باب ہے جو رہروانِ منزلِ شوق و محبت اور حریت پسندوں کیلئے ایک اعلیٰ ترین نمونہ ہے ۔۔۔۔۔ سانحہ کربلا آزادی کی اُس جدوجہد کا نقطہ آغاز بھی ہے جو اسلامی اصولوں کی بقا اور احیاء کے لیے تاریخ اسلام میں پہلی بار شروع کی گئی۔

واقعہ کربلا کیا بتاتا ہے؟

واقعہ کربلا دراصل ہمیں بتاتا ہے کہ ایک سچا اور سُچا شہید کیا ہوتا ہے، اور ایک شہید کی عظمت کیا ہوتی ہے؟ ایک شہید کس طرح حق و انصاف کے اصولوں کی بالادستی، حریت فکر اور خدا کی حاکمیت کا پرچم بلند کرتا ہے اور کس طرح اسلامی روایات کی لاج رکھتے ہوئے اُنہیں ریگ زار عجم میں دفن ہونے سے بچا لیتا ہے۔ واقعہ کربلا ہمیں ایک سَچے اور سُچے شہید کے اوصاف بھی بتاتا ہے کہ ایک شہید عصمت و طہارت کا مجسمہ اور زُہد و عبادت کا پیکر ہوتا ہے۔ واقعہ کربلا ہمیں بتاتا ہے کہ کس طرح ایک شہید جود و سخا کا بہر بیکراں ۔۔۔۔۔۔ کمالِ اخلاق کی انتہا ۔۔۔۔۔ اور جرأت و بہادری کی مثال بنتا ہے؟ واقعہ کربلا ہمیں ایک شہید کی اخلاقی جرأت ۔۔۔۔۔ راست بازی ۔۔۔۔ راست کرداری ۔۔۔۔۔ قوتِ اقدام ۔۔۔۔۔۔۔ جوش عمل ۔۔۔۔۔ ثبات و استقلال اور صبر و برداشت کی تصویریں بھی دکھاتا ہے۔

پوری امت کی جانب سے فرض کفایہ

تاریخ شاہد ہے کہ اقتدار پرستی کا مزاج کسی بھی اصول اور نظریہ کا پابند نہیں ہوتا، اس کے سامنے صرف ایک مقصد ہوتا ہے۔ اور وہ مقصد مذہب، انسانیت اور اخلاق کے تمام اصولوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی ہوسِ حکمرانی کی تکمیل کا مقصد ہوتا ہے۔ حضرت حسین کا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے پوری امت کی طرف سے فرض کفایہ کے طور پر اسلامی نظامِ کے تحفظ کی خاطر اپنی جان قربان کردی۔ اس طرح شہادتِ حسین حق کی حفاظت کیلئے آخری حد تک خود کو لٹادینے اور سب کچھ نچھاور کردینے کا آخری استعارہ اور روشن علامت بن گئی ۔۔۔۔۔۔ بے شک بہترین جہاد ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق بلند کرنا ہی ہے۔

ناکامی اور کامیابی کا معیار

آج ہم فرقوں اور طبقات میں بٹے ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اس لیے ہر فرقے اور طبقے کا اپنا شہید اور مرنے والے کو شہید قرار دینے کے اپنے اپنے اور الگ الگ معیارات اور کسوٹیاں ہیں ۔۔۔۔۔۔ لیکن اے کاش! آج شہیدوں اور شہادتوں کے معاملے پر ایک دوسرے سے دست و گریباں ہونے والے واقعہ کربلا کے شہیدوں سے ہی کوئی سبق حاصل کر لیں ۔۔۔۔۔۔۔ اے کاش! "کون شہید اور کون شہید نہیں” کے فتوے دینے والے ایک ہزار تین سو انتالیس سال پہلے کے ایک سَچے اور سُچے شہید سے ہی شہادت کا مقصد اور درس سیکھ لیں ۔۔۔۔۔۔ سانحہ کربلا ہمارے لیے ناکامی اور کامیابی کا معیار بھی طے کردیتا ہے۔ میدان کربلا میں بظاہر فتح حاصل کرلینے والے قاتلان حسین چودہ صدیوں سے دنیا میں رسوا ہورہے ہیں، لیکن کربلا کی مٹی کو اپنے لہو سے سیراب کرنے والے شہداء حق و سچ اور انصاف کا استعارہ بنے ہوئے ہیں۔ یہی اصل کامیابی ہے، جو انسان کو زمان و مکاں کی قید سے آزاد کردیتی ہے۔

واقعہ کربلا کا سبق

واقعہ کربلا میں حضرت حسین کی شہادت اسلام کے نام لیواؤں کی ناکامی ہرگز نہیں ہے، اس میں شکست کا تو تصور ہی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔ بلکہ اس شہادت میں تو حق پرستوں کی کامیابی ہی کامیابی ہے ۔۔۔۔۔۔ حضرت حسینؓ کی شہادت کا سب سے بڑا پیغام یہی ہے کہ ظلم و جبر کے سامنے کبھی سر نہیں جھکانا ۔۔۔۔۔ ﷲ کی توحید کا جھنڈا ہمیشہ سر بلند رکھنا ہے ، رب کے دین کی خاطر اپنا مال اور اپنی اولاد حتیٰ کہ اگر ضرورت پڑے تو اپنی جان قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کرنا ۔۔۔۔۔ اور کسی طرح کے خوف کی وجہ سے کبھی سمجھوتہ نہیں کرنا ۔۔۔۔۔۔  یہی کامیابی ہے کہ  اور یہی کامیابی کی کنجی ۔۔۔۔ کامیابی کا درس اور کامیابی کا حقیقی راز ہے کہ ۔۔۔۔۔۔

جب بھی کبھی ضمیر کے سودے کی بات ہو

ڈٹ جاو تم حسینؓ کے انکار کی طرح

Leave A Reply

Your email address will not be published.