Ultimate magazine theme for WordPress.

آہ سیمی خان درانی ، سجاد اظہر کا کالم

سجاد اظہر

353
سجاد اظہر

آہ سیمی خان درانی ، سجاد اظہر کا کالم

سیمی میں شرمندہ ہوں کہ صبح بیدار ہوتے ہی تمہارے جانے کی دل سوز خبر مل گئی تھی مگر تمہارے بارے میں چند لائینیں لکھنے کی فرصت رات کے پچھلے پہر ہی نکال سکا ہوں۔

سیمی میں شرمندہ ہوں کہ سماج کی طرح میں نے بھی تمہیں دوسروں کی نظر سے دیکھا مجھے خود دو آنکھیں اللہ نے ودیعت کر رکھی ہیں لیکن پھر بھی ہمیں اپنی آنکھوں سے زیادہ دوسروں کی آنکھوں پر زیادہ اعتبار ہے۔

سیمی میں شرمندہ ہوں کہ ہمارے درمیان تعلق محض ایک ادھ ادھوری ملاقات سے آگے بڑھا بھی تو فیس بک کی ایک آدھ لائیو کاسٹ اور میری کتاب پر آپ کی رائے سے اور آپ کے افسانے پر میری ایک کال سے زیادہ نہیں بڑھ سکا۔

سیمی میں شرمندہ ہوں کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ دکھ سکھ اس لئے شیئر نہیں کر سکے کہ فیس بک جو ایک مصنوعی تاثر ایک دوسرے کے بارے میں بنا دیتی ہے ہم اس تاثر کے خلا کو پاٹ نہیں سکتے۔

سیمی میں شرمندہ ہوں کہ میں ایسے سماج میں جیتا ہوں جہاں عورت کو مرد صرف ایک ہی رخ سے دیکھتا ہے اس لئے اس ڈر سے عورت سے جھجکتا ہوں کہ شاید کہیں وہ مجھے دوسروں کے ساتھ شمار نہ کر لے۔

آہ سیمی خان درانی!

سیمی میں شرمندہ ہوں کہ اگر میں یہ خلا پر کر لیتا تو شاید تمہارا کوئی دکھ درد بانٹ لیتا اور تم کچھ عرصہ اور جی لیتیں۔

سیمی میں شرمندہ ہوں کہ میں ایک لکھاری کے ساتھ ایک خبر نگار بھی ہوں اور یہاں بری خبروں کی اتنی بہتات ہے کہ انہوں نے سماج سے مثبت سوچ ہی چھین لی ہے اس لئے ہم بھی ایک دوسرے کے بارے میں قنوطیت کا شکار ہی رہتے ہیں۔

سیمی میں شرمندہ ہوں کہ تم ایسے قبیل سے تعلق بنانا چاہتی تھی جہاں صرف حلقہ ہے مگر کوئی ذوق نہیں۔

سیمی میں شرمندہ ہوں کہ ہم نے تمہیں صرف تمہارے سیگریٹوں کے اڑائے ہوئے دھوئیں سے زیادہ نہیں جانا ،یا شاید تمہاری سرخ پوشاکوں سے آگے نہیں دیکھ پایا کہ ہمارے ہاں انسان کو اندر سے دیکھنے کا رواج ہی نہیں ہے۔

سیمی میں شرمندہ ہوں کہ ہمیں تمہاری فیس بک یہ نہیں بتا سکی کہ ہر وقت شوخ و چلچل دکھنے والی ایک خاتوں اندر سے اتنی ٹوٹی پھوٹی اور تنہا بھی ہو سکتی ہے۔

سیمی میں شرمندہ ہوں کہ میں انسان ہوتے ہوئے اپنے جیسے دوسرے انسانوں کی بجائے ان کے خدا میں دلچسپی رکھتا ہوں اور دوسرے انسانوں کے لئے خدا بن بیٹھتا ہوں۔

سیمی میں شرمندہ ہوں کہ میں تمہیں اس لئے بھی نہیں جان سکا کہ جس ترازو میں ، میں خود بے وزن ہوں اس میں ہر انسان کو تولتا رہتا ہوں۔

سمیی میں شرمندہ ہوں اور معافی کا خواستگار ہوں کہ میں بھی جلد تمہیں بھول جائوں گا اور دوبارہ ا س وقت تمہیں یاد کروں گا جب فیس بک کسی اور سال اسی روز یہ پوسٹ میرے سامنے لا کر رکھ دے گی اور میں اس کے نیچے صرف Sad کے آپشن کو کلک کر دوں گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.