Ultimate magazine theme for WordPress.

طارق عزیز نیلام گھر کی پہچان

فاروق اقدس

55

طارق عزیز نیلام گھر کی پہچان

28 اپریل 1936 کو پنجاب کے ضلع جالندھر میں پیدا ہونے والے 84 سالہ طارق عزیز اس حوالے سے بھی ایک یادگار شخصیت تھے کہ جنوری 1964 میں جب پاکستان ٹیلی ویژن کا آغاز ہوا تو چھوٹی سکرین پر نمودار ہونے والا پہلا چہرہ طارق عزیز ہی کا تھا کہ وہ ٹی کے پہلے مرد انائونسر تھے۔

اس کے بعد ان کی مقبولیت کا سفر رکا نہیں بالخصوص 1974 میں جب نیلام گھر کا آغاز ہوا تو ان کی شہرت بام عروج پر پہنچ گئی۔ شاعر، ترقی پسند دانشور، کالم نگار، صاحب کتاب، فلمساز، سیاستدان اور رکن پارلیمنٹ ان کی شخصیت کے کئی پہلو ہیں جن کا ذکر اختصار سے بھی کیا جائے تو ایک وقت درکار ہوگا۔

اس لئے ان کی یاد تازہ کرنے کیلئے فی الوقت ایک تذکرہ ان کے رکن اسمبلی ہونے کا۔ 1997 کے عام انتخابات میں انہوں نے میاں نواز شریف کی خواہش پر عمران خان کے مقابلے میں الیکشن لڑا اور لاہور کی نشست پر انہیں ہرا کر قومی اسمبلی کے ایوان میں پہنچ گئے۔ یہ الگ بات کہ آخری وقتوں میں ان کے نزدیک ملک کے سب سے بڑے سیاستدان عمران خان ہی تھے۔

راولپنڈی کے علاقے چکلالہ میں ٹی وی سنٹر قائم ہوچکا تھا جہاں آج کل چکلالہ گریژن ہے اور ’’ٹرپل ون بریگیڈ‘‘ بھی اس سے تین یا چار فرلانگ کی مسافت پر راولپنڈی کا قدیم علاقہ جھنڈا چیچی ہے جہاں ٹی وی کے احباب نے ایک بڑی کوٹھی کرائے پر لے رکھی تھی۔

نچلے حصے میں کسوٹی والے جناب عبیداللہ بیگ اور ان کی اہلیہ سلمیٰ بیگ صاحبہ سکونت پذیر تھیں جو چکلالہ ٹی وی سے ناظرین کے خطوط اور آراء پر مشتمل پروگرام ’’ اپنی بات‘‘ پیش کرتی تھیں۔

بالائی حصے میں مختلف شہروں بالخصوص کوئٹہ، کراچی اور پشاور سے ’’جبری ٹرانسفر‘‘ ہوکر آنے والے پروڈیوسرز کیلئے مختص تھا۔ نیلام گھر کے کچھ پروگرام راولپنڈی سنٹر سے ریکارڈ کرنے کا فیصلہ ہوا تو طارق عزیز اور عارف رانا بھی یہیں سکونت پذیر ہوئے۔

جس کے بعد وہاں ’’رونقیں لگ گئیں‘‘ ۔ جناب اختر وقار عظیم، سہیل ظفر، عشرت انیس انصاری، جمشید فرشوری، ضیاء الرحمان، احمد علی سید، طارق لودھی اور بے شمار پی ٹی وی کے احباب جن کا نام اس وقت یاد نہیں کی حیثیت ’’مستقل مندوبین‘‘ کی تھی جہاں کہیں بھی ہوتے ٹی وی سے فارغ ہوکر وہاں پہنچ جاتے اور ’’ محفلیں جمتیں‘‘۔

1997 کے الیکشن کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کامیاب ہوئی اور افتتاحی اجلاس میں شرکت کیلئے طارق عزیز خاصے اضطراب کی حد تک پرجوش نظر آرہے تھے اور قومی اسمبلی کے ایوان میں اپنی پہلی تقریر کی تیاری بھی زور شور سے کر رہے تھے۔

بار بار صفحات لکھتے اور پھاڑتے اور بلند آواز میں اس کی ریہرسل بھی کرتے اور ان کی یہ تقریر ہمیں بھی زبانی یاد ہوگئی تھی۔ اجلاس سے ایک دن قبل انہوں نے تمام احباب کو پرتعیش ڈنر دیا اور بے تکلفی کے باوجود ہماری بطور خاص پذیرائی بھی کی۔

پھر علیحدگی میں لے جاکر اپنے مخصوص انداز میں یہ ہدایت بھی دی۔ کہ’’ ویکھ چن ۔۔۔ صبح میں نے اسمبلی سے خطاب کرنا ہے اور تم نے پریس گیلری میں ہر صورت موجود ہونا ہے اور دوستوں سے بھی کہہ دینا‘‘ صبح ہم پریس گیلری پہنچے تو وہاں ہمیں دیکھ کر انہوں نے اطمینان کا اظہار کیا۔

اجلاس شروع ہوا تو طارق صاحب نے تین چار مرتبہ سپیکر کی توجہ حاصل کرنے کیلئے اپنے نشست سے اٹھے لیکن سپیکر نے کوئی توجہ نہیں دی اور انہیں ’’خطاب ‘‘کا موقع نہیں مل سکا اور اجلاس ختم ہوگیا۔

دوسرے دن بھی کم وبیش یہی صورتحال رہی اس دوران طارق صاحب کی برہمی اور شدید ردعمل بالخصوص الٰہی بخش سومرو صاحب کے جو سپیکر تھے ان کے بارے میں انہوں نے جن ’’خیالات ‘‘کا اظہار کیا اسے ’’ آف دی ریکارڈ‘‘ ہی سمجھا جائے۔ تاہم تیسرے دن جب طارق صاحب نے اپنی نشست سے اٹھتے ہوئے ہاتھ بلند کیا تو سپیکر صاحب نے ان کا مائیک آن کرنے کی ہدایت کی۔

طارق صاحب نے اپنی مخصوص گرجدار آواز میں سپیکر کا شکریہ ادا کیا تو ایوان کی توجہ ان کی جانب مبذول ہوگئی طارق صاحب کی ’’تاریخی تقریر‘‘ کا پہلا جملہ تھا۔

"جناب سپیکر یہاں ہر رکن تقریر سے پہلے جس انداز میں کورنش بجا لاتا ہے اور سر جھکا کر آپ کو تعظیم دیتا ہے یہ صدیوں پرانا غلامانہ انداز اب ختم ہو جانا چاہئے ہم آزاد قوم ہیں تو غلامی کے یہ اطوار کیوں؟”

جس پر سپیکر الٰہی بخش سومرو نے ان کا مائیک بند کراتے ہوئے کہا کہ ’’ طارق عزیز صاحب اپنی نشست پر تشریف رکھیں اور آئندہ قواعدو ضوابط پڑھ کر ایوان میں آئیں‘‘، جس کے بعد طارق عزیز خاموشی سے اپنی نشست پر بیٹھ گئے۔

اجلاس ختم ہوا تو اسمبلی کے ایک اہلکار ہمیں ڈھونڈتا ہوا پریس گیلری میں آیا اور بتایا کہ طارق عزیز صاحب آپ کا نیچے انتظار کر رہے ہیں۔ جس کے بعد ہماری طارق عزیز صاحب سے قومی اسمبلی کے سپیکر، ایوان کے قواعد وضوابط اور ارکان کے مجموعی رویئے کے بارے میں جو گفتگو ہوئی اسے بھی آف دی ریکارڈ سمجھا جائے۔

ہاں یہاں صرف ایک بات شیئر کی جاسکتی ہے کہ طارق صاحب نے دھمکی آمیز انداز میں ہمیں متنبہ کیا کہ اگر یہ واقعہ جنگ اخبار میں شائع ہوا تو سمجھو قطع تعلق۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.