Ultimate magazine theme for WordPress.

رسول اللہ ﷺ کی شان میں مشہور غیر مسلم شخصیات کا خراج عقیدت

کل عالم خلقت کا نقطہ کمال آپ ﷺ کی شخصیت ہے

44

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آل وسلم کی شخصیت عظمتوں کی معراج کی حامل ہے۔۔۔۔۔ کل عالم خلقت کا نقطہ کمال آپ کی شخصیت ہے۔۔۔۔ اسلام کو ماننے والے تو خود کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دل و جان سے بے دام غلام مانتے ہی ہیں لیکن اسلام کے بدترین دشمنوں نے بھی رابر کامل ، ہادئی برحق، نبی آخرالزماں اور مولائے کل سید نا محمد مصطفی احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ و آل وسلم کو پرتپاک اور زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔

بحیثیت مسلمان ہمارے پاس قران و حدیث موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے لیے غیروں کی رائے کی کوئی اہمیت نہیں ، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ اغیار کی آراء کی محتاج بھی نہیں ہے۔ لیکن نبی کریم کی شخصیت ایسی ہمہ گیر ہے کہ اغیار پر آپ کو خراج تحسین پیش کرتے آئے ہیں ۔۔۔۔ یہ ہدیہ تحسین پیش خدمت ہے ۔۔۔۔۔

جرمن چانسلر "اوٹو بِسمارک” کا خراج

"جنابِ محمد! (صلی اللہ علیہ و آل وسلم) مجھے افسوس ہے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ و آل وسلم کے ہم عصر لوگوں میں شامل نہیں تھا ۔۔۔۔۔ انسانیت نے صرف ایک مرتبہ چُنی ہوئی شخصیت کو دیکھا تھا ۔۔۔۔ دوبارہ کبھی نہیں دیکھ پائے گی ۔۔۔۔ میں انتہائی خشوع اور پورے احترام کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ و آل وسلم کے آگے جھکتا ہوں”۔

مہاتما گاندھی کے گلہائے عقیدت

موہن داس کرم چند گاندھی نے گہائے عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا "میں اُن میں سے بہترین کے بارے میں جاننے کا خواہش مند تھا ، جو آج کروڑوں دلوں میں بستا ہے، اس حوالے سے میں یقین سے بھی کہیں آگے گُذر چکا ہوں کہ اسلام بالکل بھی تلوار کے زور پر نہیں پھیلا ۔۔۔۔۔ بلکہ اسلام کے پھیلاؤ میں قربانی دینے کے اعلٰی ترین جذبے اور پاکیزگی جیسے عناصر نے اہم کردار ادا کیا ہے ۔۔۔۔۔ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنا فریضہ پورے ان تھک انداز میں ادا کیا ۔۔۔۔ انہیں بہترین ساتھی اور پیروکار ملے جو خدا پر غیر متزلزل یقین کے ساتھ اور مکمل نڈر ہوکر اُن کا مشن لے کر چلے اور کامیاب بھی ہوئے”۔

برطانوی ادیب جارج برنارڈ شاء کے تاریخی الفاظ

"دین اسلام تعجب خیز استقامت رکھتا ہے ۔۔۔۔ اسلام اکیلا ایسا مذہب ہے، جس میں گہرائی بھی بہت ہے ۔۔۔۔ اور یہی بات لوگوں کو اپنی جانب کھینچتی ہے ۔۔۔۔ میں محمد صلی اللہ علیہ و آل وسلم کے مذہب کے بارے میں پیش گوئی کروں گا کہ یہ بہت جلد یورپ میں مانا جانے لگے گا ۔۔۔۔ اس سے پہلے قرون وسطٰی میں مختلف تصورات یا پھر نفرت کی وجہ سے اسلام کو روشنی سے تاریکی میں دھکیلنے کی بہت کوششیں کی گئیں ۔۔۔۔ لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کو بجا طور پر انسانیت کیلئے نجات دہندہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ آج کی دنیا کی اگر قیادت کرنے کیلئے محمد صلی اللہ علیہ و آل وسلم جیسا کوئی شخص ہوتا تو وہ ساری دنیا کے مسائل حل کرنے میں کامیاب ہوجاتا اور دنیا بھر کے لوگ اتفاق اور مسرت کے ایسے ماحول میں جی رہے ہوتے، جس کی آج حد درجہ ضرورت ہے ۔۔۔۔ میں پہلا شخص نہیں بلکہ مجھ سے پہلے انیسویں صدی میں گوئٹے اور کارلائل جیسے مفکرین نے بھی دین محمدی صلی اللہ علیہ و آل وسلم کی قابل ذکر اقدار کو دل و جاں سے تسلیم کیا تھا ۔۔۔۔ آج بہت سے لوگ دین محمدی صلی اللہ علیہ و آل وسلم کو سینے سے لگا چکے ہیں ۔۔۔۔ میرا ماننا ہے کہ یورپی معاشرے پر اسلام کے غلبے کا آغاز ہوچکا ہے ۔۔۔۔

گوئٹے کی جانب سے خراج تحسین

جرمنی کے عظیم شاعر اور مفکر یوہاں وولف گینگ گوئٹے نبی کریم ﷺ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہتا ہے کہ "محمد ﷺ شاعر نہیں ہیں بلکہ وہ ا یک پیغمبرﷺ ہیں ۔۔۔۔۔ محمد ﷺ ہمارے پاس قرآن لائے ہیں ، جو الہامی قوانین کا مجموعہ ہے ۔۔۔۔۔ یہ وہ کتاب نہیں جو انسانوں کی تفریح کیلئے محض علمی اظہار کیلئے لکھی گئی ہو”۔

مشہور تاریخ دان تھامس کارلائل کے خوبصورت الفاظ

انیسویں صدی کے معروف مضمون نگار، مورخ اور برطانوی ادیب تھامس کارلائل کا کہنا ہے کہ "کیا آپ نے کبھی دیکھا کہ کوئی دروغ گو شخص جو اپنے لیے اینٹوں کا گھر تعمیر نہ کرسکے ۔۔۔۔ وہ شخص حیران کن مذہب تخلیق کر ڈالے؟ ایک ایسا مذہب جو بارہ صدیوں تک موجود بھی رہے اور جس کے ماننے والوں کی تعداد بیس کروڑ سے زیادہ ہو ۔۔۔۔ اگر ایسا نہیں تو پھر ماننا پڑے گا محمد اللہ کے نبی ہیں اور اسلام ایک سچا دین ہے ۔۔۔۔۔ ہمیں اسلام کو جھٹلاکر لوگوں کو حقیقت سے دور نہیں کرنا چاہیے”

روسی مفکر پیوٹر چادائیوف کے یادگار الفاظ

انیسویں صدی کے روسی مفکر اور مضمون نگار پیوٹر چادائیوف کا کہنا ہے کہ "ایک طرف وہ مدبرین ہیں، جنہوں نے لوگوں کو تقسیم کیا، انہیں تکلیف میں بے آسرا چھوڑ دیا، کیونکہ انہیں صرف اپنی فکر تھی جبکہ دوسری جانب محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں، جنہوں نے لوگوں کو متحد کیا، تکلیف کے شکار لوگوں کو اپنے سینے سے لگایا، لوگوں کو قائل کیا، انہیں اپنایا۔ پہلے مدبرین کی بجائے محمد (سلی اللہ علیہ وسلم تعظیم اور تکریم کے کہیں زیادہ لائیق اور مستحق ہیں”۔

عربیات کے ماہر رچرڈ بیل کے سنہری الفاظ

حضور نبی کریم ﷺ کے متعلق عربیات کے ماہر رچرڈ بیل کے سنہری الفاظ کچھ اس طرح تاریخ کا حصہ بن گئے۔ رچرڈ بیل نے لکھا کہ "اس وقت یورپ اضمحلالی کیفیت سے دوچار ہے ۔۔۔۔  یورپ کی پیشانی بڑی شاندار، روشن اور دیدہ زیب دکھائی دیتی ہے، لیکن اندر سے یورپ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہے ۔۔۔۔ یورپی شہری روحانی امراض ، منشیات ، جنسی بے راہروی ، پوشیدہ امراض اور باہمی لڑائیوں کا شکار ہیں ۔۔۔۔ آپس کا پیار اور ایک دوسرے پر اعتبار ختم ہوچکا ۔۔۔ خاندانی اقدار مٹ چکیں ۔۔۔۔ روابط ٹوٹ چکے ۔۔۔۔ سب اخلاقی خلا میں بے بس ہوچکے ہیں ۔۔۔۔ لیکن اس ہیجان اور خوف کے دور میں بھی نجات کا ایک دروازہ کھلا ہوا ہے اور بلاشبہ یہ دروازہ اسلام کا دروازہ ہے”۔

پاؤلو کوہیلو کی عشق آفریں تحریر

برازیل کے عظیم مفکر اور دانشور پاؤلو کوہیلو نے پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ساتھ اپنے عشق کا اظہار دیوانوں کی طرح کیا ہے ۔۔۔۔۔ اپنے عشق کے اظہار میں پاؤلو کوہیلو کا کہنا ہے کہ "رسول خدا نے ہمیں قرآن دیا ۔۔۔۔ زندگی میں مسلمانوں پر 5 فرائض ادا کرنے کی ذمہ داری ڈالی ۔۔۔۔ جناب محمد ﷺ نے توحید کا اقرار کرنے، نماز کی ادائیگی، رمضان کے روزے رکھنے اور ناداروں کی مدد کرنے کی تلقین کی ۔۔۔۔ محمد رسول اللہ ﷺ کے قانون کے مطابق زندگی گزارنا میری خواہش رہا ہے ۔۔۔۔ اب میں مکہ دیکھنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔ میں نے ہزاروں مرتبہ سوچا کہ یہ صحرا کیسے عبور کروں؟ میں اس چوک تک کس طرح پہنچوں، جہاں کالا پتھر (حجر اسود) رکھا ہے؟ اس کالے پتھر کے گرد سات پھیرے لینے کے بعد میں اسے چوموں گا ۔۔۔۔ میں کئی بار تصور کرچکا ہوں کہ میرے سامنے ہزاروں لوگ ایک دوسرے کو دھکیلتے آگے بڑھ رہے ہوں گے، اور میری آواز بھی لبیک الھم لبیک کی صداؤں میں شامل ہوجائے گی”۔

روسی مفکر لیو ٹالسٹائی کا ہدیہ عقیدت

روسی مفکر لیو ٹالسٹائی نے عقیدت میں ڈوبے الفاظ میں کچھ یوں یاد کیا "پیغمبر اسلام جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم تاریخ کے عظیم ترین رہنما ہیں ۔۔۔۔۔ پیغمبر اسلام نے لوگوں کو سچ کی روشنی اور راہ دکھائی ۔۔۔۔۔ یہی جناب محمد ﷺ کی عظمت کیلئے کافی ہے ۔۔۔۔ اس کے علاوہ پیغمبر اسلام نے انسانوں کا خون بہنے سے روکا اور اور ہر طرف امن قائم کیا ۔۔۔۔ آپ ﷺ نے لوگوں کی روحوں کی نشوونما (بالیدگی) کا دروازہ کھولا ۔۔۔۔ ایسے انسان کی تکریم، تعظیم اور احترام کرنا ہر شخص پر واجب ہے”۔

انگریز مورخ ایڈورڈ گبّن کی حقیقت بیانی

انگریز مورخ ایڈورڈ گبّن لکھتا ہے کہ "یہ کوئی تبلیغ یا پرچار نہیں ہے ۔۔۔ مذہب اسلام کی طویل سرگرمیاں ہماری توجہ کا مرکز بنی ہیں ۔۔۔۔ مکہ اور مدینہ میں قلموں کی طرح پاکیزہ تصور میں رتی برابر کمی بیشی نہیں ہوئی ۔۔۔۔ میں قائل ہوں اور اقرار کرتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ اللہ کے نبی ہیں ۔۔۔۔ جناب محمد ﷺ کے پیروکاروں کی عقل اور دین سے متعلق ایک جیسی سوچ کے سبب جناب محمد کی تبلیغ زندہ دکھائی دیتی ہے”۔

جرمن ادیب لیون فیختوانگر کا بیان

جرمن ادیب لیون فیختوانگر کا ماننا ہے کہ "پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کے وصال کے بعد صرف اسی برس میں مسلمان ریاست ایک ایسی عالمی طاقت بن چکی تھی، جس کا کوئی مقابل نہ تھا ۔۔۔۔ یہ ریاست ایک جانب ایشیا میں ہندوستان کی سرحدوں تک پھیلی ہوئی تھی ۔۔۔۔ تو دوسری جانب افریقہ سے ہوتی ہوئی بحیرہ روم اور بحر اوقیانوس کے ساحلوں تک وسعت اختیار کرچکی تھی ۔۔۔۔ اسی عرصہ میں مسلمان بحیرہ روم کو عبور کرکے اندلس (آج کے اسپین) تک جا پہنچے تھے ۔۔۔۔ اسپین میں مسلمانوں نے سات سو برس تک حکومت کی ۔۔۔۔ مسلمان حاکم اپنے ہمراہ بھرپور ثقافتی ورثہ لے کر آئے ۔۔۔۔۔ جس کی مدد سے مسلمانوں نے اسپیشن کو یورپ کا سب سے ترقی یافہ، خوشحال، انتہائی حسین اور آباد ملک بنا دیا تھا”۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.