Ultimate magazine theme for WordPress.

وفاقی بجٹ 2022-2023: بجٹ کے بنیادی خدوخال

اشتیاق بخاری ایڈووکیٹ

19
اشتیاق بخاری

وفاقی بجٹ 2022-2023: بجٹ کے بنیادی خدوخال ۔۔۔۔ کہتے ہیں کہ بجٹ اور معاشیات ایک گورکھ دھندہ ہے مگر میری رائے میں ایسا نہیں ہے ملک کا بجٹ بھی اسی انداز میں بنتا ہے جیسے ایک غریب پاکستانی 20,000 روپے ماہانہ میں اپنے گھر کا بجٹ بناتا ہے۔

اس مضمون میں میں نے کوشش کی ہے کہ آسان اور سادہ الفاظ میں ان اعداد و شمار کو پیش کر سکوں تاکہ مجھے اور میرے جیسے سادہ لوح پاکستانی اس معاملے کو سمجھ سکیں۔

پاکستان کی کل آمدنی گزشتہ سال 6000 ارب روپے، جس میں صوبوں کی طرف سے جمع شدہ 3512 ارب روپے۔

وفاق کی طرف سے جمع شدہ ٹیکس 2488 ارب روپے میں نان ٹیکس ریونیو 1315ارب روپے بھی شامل ہیں۔

وفاقی بجٹ 2022-2023 کے خدوخال

وفاقی بجٹ 2021-2022

  • آئندہ سال متوقع کل آمدنی 7004 ارب روپے ہے۔
  • جس میں صوبوں کی طرف سے جمع شدہ 4100 ارب روپے
  • جبکہ وفاق کی طرف سے جمع شدہ ٹیکس 2904 ارب روپے میں نان ٹیکس ریونیو 2000 ارب روپے بھی شامل ہیں۔
  • گرشتہ سال کل اخراجات 9118 ارب روپے ہوئے۔
  • آئندہ سال متوقع اخراجات 9502 ارب روپے ہیں۔
  • گزشتہ سال ملکی قرض ادائیگی 2770 ارب روپے یوئی۔
  • گزشتہ سال غیر ملکی قرض ادائیگی 373 ارب روپے ہوئی۔
  • آئندہ سال ملکی قرض ادائیگی 3439 ارب روپے ہو گی۔
  • آئندہ سال غیر ملکی قرض ادائیگی 511 قرب روپے ہو گی۔
  • گزشتہ سال بجلی گردشی قرض 2500 ارب روپے تھے۔
  • گزشتہ سال گیس گردشی قرض 1400 ارب روپے تھے۔

اس سال تاحال بجلی اور گیس گردشی قرض کا تخمینہ نہیں لگایا گیا ہے کیونکہ بجلی اور گیس پہ سے سبسڈی ختم کر دی گئی ہے حالیہ دنوں میں بجلی کے نرخ دو بار اور گیس کے نعثمیں جلد ہی اضافہ کیا جائے گا۔

اس ساری صورتحال میں آئندہ مالی سال 2022/23 میں پاکستان کی کل آمدن 7004 ارب روپے (7 کھرب) ہے جس میں سے ملکی اور غیر ملکی قرضوں کی قسط 3950 ارب روپے بمعہ سود ادائیگی کے بعد یہ رقم 3054 ارب روپے رہ جائے گی۔ اخراجات کی مد میں 5501 ارب روپے کی رقم بنتی ہے جو کہ 2447 ارب روپے کا خسارہ ظاہر کر رہی ہے۔

تاہم یہ خسارہ پانچ ہزار ارب روپے سے زائد کا بنتا ہے یہ ڈھائی ہزار ارب روپے کن شعبہ جات میں خرچ ہوں گے مجھے بجٹ دستاویز میں دستیاب نہ ہو سکے۔ گزشتہ مالی سال 2021/22 میں مفتاح اسماعیل وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر کے مطابق 5100 ارب روپے کا خسارہ ہوا ہے۔

آیندہ مالی سال 2022/23 کے بجٹ میں مختلف شعبوں میں مختص کی گئی رقوم کی تفصیل کچھ اس طرح ہے۔

  1. دفاع و دفاعی سامان کی مد میں 1523 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
  2. امدادی پروگرام جن میں بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام، بے نظیر نشوونما پروگرام، بے نظیر تعلیمی وضائف پروگرام، بے نظیر انڈر گریجویٹ سکالر شپ پروگرام، یوٹیلیٹی اسٹورز ریلیف، یوٹیلیٹی اسٹورز رمضان پیکج، بیت المال علاج پروگرام وغیرہ شامل ہیں جی مد میں 1242ارب روپے مختص کیے گئے ہیں
  3. ترقیاتی منصوبوں کی مد میں 800 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
  4. سبسڈی کی مد میں 699 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
  5. وفاقی حکومت کے اخراجات کی مد میں 550ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
  6. ریٹائرڈ فوجی اور سول وفاقی ملازمین کی پینشن کی مد میں 530ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
  7. اعلیٰ تعلیم کی مد میں 65 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
  8. ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ترقیاتی منصوبوں کی مد میں 44 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
  9. صحت کے لیے 27 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
  10. زراعت کے لئے 21 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ۔
  11. وفاقی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اور پینشن میں 5 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جس کی مد میں تاحال مجموعی رقم کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔

اس مضمون میں میں نے کوشش کی ہے کہ آسان اور سادہ الفاظ میں ان اعداد و شمار کو پیش کر سکوں تاکہ مجھے اور میرے جیسے سادہ لوح پاکستانی اس معاملے کو سمجھ سکیں۔

(اشتیاق بخاری ایڈووکیٹ/میڈیا پرسن)

Leave A Reply

Your email address will not be published.