Ultimate magazine theme for WordPress.

بچپن، کیرم اور ہمارے ابو: ڈاکٹر راحیل طارق کا کالم

ڈاکٹر راحیل طارق

49
ڈاکٹر راحیل طارق
ڈاکٹر راحیل طارق

بچپن، کیرم اور ہمارے ابو: ڈاکٹر راحیل طارق کا کالم

نبیل اور میں شاید تین یا چار سال کے تھے جب ابو نے ہمارے ساتھ کیرم کھیلنا شروع کیا۔ سجیل کے کچھ اور بڑے ہونے کے بعد ہم چاروں اکھٹے کھیلنے لگے۔ ہم چاروں اتنے گہرے دوست تھے کہ ہمیں کبھی پانچویں شخص کی ضرورت نہیں پڑی۔ ابو کہا کرتے تھے کہ آپ اپنے بچوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت شیئر کریں۔

بچے اپنی خواہشات پوری ھونے پر خوش ھوتے ھیں ۔ لیکن والدین سے دوستی انہیں خوشی کے علاوہ تحفظ کا احساس دیتی ھے۔ اپنے بچوں کو اتنی اجازت دیں۔ وہ اپنے واہیات اور احمق تجربے بھی آپ سے بیان کر لیں۔

یاد رکھیں جو بچے آپ سے ڈرتے ھیں۔ یا آپ کی محرومی کا شکار ھیں۔ وہ یا باھر نکل جاتے ہیں اور یا پھر اپنے کمروں میں مقید ھو جاتے ھیں۔ یہ دونوں صورتیں خرابی کی جانب جاتی ھیں۔ یہ زندگی اتنی طویل نہیں جسے لڑائی جھگڑوں، نفرت ، حسد اور مقابلہ بازی کی نظر کر دیا جائے۔

خون کے رشتے پانی سے گہرے ھوتے ھیں۔ والدین، اولاد ، سگے بہن بھائی نعمت خداوندی ھیں۔ آپ کے بچپن کے سنگی ساتھی جن کے ساتھ ایک ھی چھت کے نیچے ھماری زندگی کا ایک خوبصورت وقت بسر ھوا۔

ایک ھی ماں کی ھاتھ کی پکی روٹی کھائی ۔ ایک باپ کی گود میں جھولے لیے۔ اس کی کمر پر سواری کی۔ بہن بھائی دوبارہ نہیں ملتے۔ ان سے مقابلہ کیسا۔ ان سے شریکا کیسا؟ دل کے جانی سگے بھائی جو آپ کا تحفظ کرتے۔

اکھٹے کھیل تماشے۔ کیسے محبت بھرے رشتے ۔ زندگی کا اصل حسن زندگی کی اصل خوبصورتی۔

بچپن، کیرم اور ہمارے ابو: ڈاکٹر راحیل طارق کا کالم

بچپن، کیرم اور ہمارے ابو: ڈاکٹر راحیل طارق کا کالم

میرے بیٹے یوسف اور بھتیجے عفان کی پیدائش کے بعد ہمارے گھر میں کیرم کو "دادا ابو گیم” سے بلایا جانے لگا۔ کیرم کھیلتے ہوئے دونوں بچے ہم چاروں میں سے کسی ایک کی گود میں بیٹھ جاتے اور جوش و خروش کا سما ہوتا۔

ابو کہا کرتے تھے کہ یہ زندگی پچھتاووں اور رونے دھونے کے لیے نہیں۔ لیکن یقین جانے، ابو کو گزرے اب تقریباً ڈھائی سال ہو گئے ہیں لیکن ہم نے کیرم نہیں کھیلا۔ شاید ہم نے ابو کے بغیر کیرم کھیلنے کا کبھی تصور ہی نہیں کیا تھا۔

یوسف اور عفان بھی اب اب چار سال کے ہو گۓ ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ دادا ابو اب اللہ میاں کے پاس ہیں۔ لیکن شاید وہ یہ نہیں سمجھتے کہ ہم بھائی اب “دادا ابو گیم” کھیلنا کیوں پسند نہیں کرتے۔

یہ اللہ پاک کی رحمت، برکت اور ہمارے والدین کی قربانی ہے کہ ہم اب برطانیہ میں اچھی طرح قائم ہیں۔ ہمارے بچے ہمارے ساتھ کرکٹ، فٹ بال اور ٹینس کھیلتے ہیں۔ لیکن جب میں یوکے میں رہنے والے نوجوانوں کو دیکھتا ہوں تو پریشان ہو جاتا ہوں۔

وہ ویڈیو گیمز اور ورچوئل دنیا میں بہت مصروف ہیں۔ انسانی تعامل کی کمی کی وجہ سے، مجھے خدشہ ہے کہ بچے بڑے پیمانے پر ڈپریشن اور اضطراب کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں مجھے اپنے ابو جان کا مفید مشورہ یاد آتا ہے۔

اولاد اور ماں باپ میں بے تکلفی ، دوستی اور احترام دوستوں کی مانند ھونا چاھیے۔ جب باپ کام سے گھر آتا ھے۔ تو تھکا ھوتا ھے۔ ادھر بچے بھی باپ کے انتظار میں ھوتے ھیں۔ یہ ایک مشکل وقت ھوتا ھے۔

جو باپ یہ سمجھتے ھیں وہ اپنے بچوں کے لیے محنت کرتے ھیں ان کے آرام اور آسائش کے لیے کماتے ھیں۔ تاکہ ان کی خواھشات پوری کر سکیں۔ وہ ایک تکنیکی غلطی کرتے ھیں۔ بچوں کو باپ کا ٹائم بھی چاھیے۔ کوشش کرو۔ گھر آ کر کچھ دیر بچوں کے ساتھ گزارو۔ کوئ گیم کرو۔ اور ھاں اپنا موبائل فون ، لیپ ٹاپ اور ٹی وی بھی بند کر دو۔

ڈاکٹر راحیل طارق اپنے والد پروفیسر طارق اور بھائیوں کے ہمراہ

بچہ اگر آپ کے پاس آنا چاہ رھا ھے۔ تو بیوی کو آواز دے کر نہ کہیں۔ اسے لے جاو۔ مجھے تنگ کر رھا ھے۔ تنگ تو آپ اسے کر رھے ھیں۔ بچہ اگر کوئ قابل ستائش بات کرتا ھے۔ تو اس کی دوسروں کے سامنے بھی تعریف کرو۔

اگر کوئ ناپسندیدہ بات کرتا ھے۔ تو اسے چھپا لو۔ بچوں کو اعتماد دینا بہت ضروری ھے۔ ان کی انسلٹ مت کرو۔ کبھی گھور کر نہ دیکھو۔ اور جسمانی طور پر مارنے کا تو سوچو بھی نہیں۔ اگر بچہ ضد کرتا ھے۔ تو اس کا دھیان ھٹا دو۔

توجہ ادھر ادھر کر دو۔ کبھی ضد پوری بھی کر دو۔ لیکن وہ اس کا عادی نہ بن جائے۔ بچوں کے ساتھ ان ڈور اور آوٹ ڈور گیمز کرو۔ اور ھاں، بچوں کو کبھی براہ راست اخلاقی اور خشک لیکچر نہ دو۔ بچوں میں شعوری طور پر مزاحمت کا مادہ ھوتا ھے۔

آپ کے خشک لیکچرز اس پر اثر نہیں کرتے۔ ھاں ، ان ڈائریکٹ طور پر انہیں سمجھا لو۔ کوئ قصہ، کوئ کہانی، تاریخ سے کوئ صفحہ ، کوئ داستان، لیکن افسانوی نہیں، حقیقت اور زندگی کے قریب ، بچوں کو بے معنی خواب نہ دکھائیں۔

بچوں کا تخیل اور تصور بہت طاقتور ھوتا ھے۔ وہ کہانیوں اور واقعات سے خود نتائج اخذ کر لیتے ھیں۔ آپ ان کے سامنے ایک سچوئیش رکھ دیں۔ وہ خود کو بہتر کرتے جائیں گے۔ اگر آپ کے ذرائع آمدن کم ھیں۔ تو اپنے بچوں سے یہ بھی شئیر کریں۔ انہیں بتائیں ان کی پڑھائ ، محنت اور قابلیت چند سالوں میں کم ذرائع آمدن کو ختم کر دیں گے۔

یقین کریں ۔ بچے آپ کی صورتحال کو سمجھ لیں گے۔ خاص طور پر انہیں اس ماحول اور گفتگو سے بچائیں جو انہیں انتہاپسندی کی جانب لیجا سکتا ھے۔ بچوں کے ذھن کو کھلا رھنے دیں۔ وہ تنقید اور سوال کرتے رھیں۔ اور آخر میں میں پھر یہی کہوں گا۔

وہ آپ کا احترام کسی خوف یا فرض کے تحت نہ کرے۔ محبت اور دوستی اس کی بنیاد ھونی چاھیے۔ آپ کا بچہ یہ سوچے۔ میں نے اپنے ابو کو ناراض نہیں کرنا ۔ اس لیے نہیں کہ اس سے گناہ ھوتا ھے۔ بلکہ اس لیے کہ اس کی محبت آپ کی ناراضگی کی متحمل نہ ھو سکے۔

شادی سے پہلے آپ اپنے حصے کی آزاد اور انفرادی زندگی گزار چکے ھیں۔ جن بچوں کو آپ اس دنیا میں لائے ھیں ۔ اب آپ کی زندگی پر ان کا حق ھے۔ آپ محنت کریں۔ پیسے کمائیں ۔ بچوں کی ضروریات پوری کریں۔ لیکن ایسا نہ ھو۔ آپ کے بچے آپ کو ایک ایسی پروڈکٹ سمجھنا شروع کر دیں۔

جس کا کام محض پیسے کمانا اور ان کی خواھشات اور ضروریات پوری کرنا ھے۔ اولاد اور ماں باپ کے رشتے کی یہ بدترین شکل ھے۔ میں ایسے گھروں سے واقف ھوں۔ جہاں باپ اپنے ھی گھر میں آوٹ سائیڈر بن جاتا ھے۔ اور یا پھر بچے گھروں کو چھوڑ کر چلے جاتے ھیں۔

خاص طور پر وہ باپ جو بسلسلہ روزگار دوسرے ممالک میں چلے گئے۔ ایک وقت آتا ھے۔ جب وہ چھٹی پر گھر اتے ھیں۔ اور بچے ان کی آمد کو اپنی زندگی میں مداخلت سمجھنے لگتی ھے۔ کیونکہ وہاں رشتوں میں کشش اور محبت ختم ھو جاتی ھے۔ اپنے رشتے کو خوبصورت بنائیں۔

ابن پروفیسر طارق احمد

Leave A Reply

Your email address will not be published.