Ultimate magazine theme for WordPress.

تمباکو نوشی سے بیماریاں پھیلنے لگیں: روزانہ 5000 افراد اسپتال داخل

395

تمباکو نوشی سے بیماریاں پھیلنے لگیں: روزانہ 5000 افراد اسپتال داخل

اسلام آباد میں تمباکو نوشی کے خلاف عالمی دن کے موقع پہ آگاہی سیمینار کاانعقاد کیا گیا ، اس موقع پر یوسف رضا گیلانی نے ٹیکس بڑھانے کیلیے آواز اٹھانے کا عہد کیا

تمباکو سے متعلق بیماریوں کی وجہ سے ملک میں روزانہ اوسطاً 5,000 افراد ہسپتالوں میں داخل ہوتے ہیں اور ہر سال 100,000 سے زیادہ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ اگر تمباکو کا استعمال موجودہ رفتار سے جاری رہا تو 2030 تک اس تعداد میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

ایسی صورتحال پاکستان کو پائیدار ترقی کے ایجنڈے کو حاصل کرنے سے روک دے گی، جس کا مقصد 2030 تک تمباکو سے متعلقہ بیماریوں سے ہونے والی اموات کو ایک تہائی تک کم کرنا ہے۔

ورلڈ نو ٹوبیکو ڈے” کے حوالے سے کرومیٹک ٹرسٹ نے تمباکو کے استعمال کے خطرات اور تمباکو کے استعمال کو محدود کرنے اور لوگوں کی بہترین صحت کے حق کے تحفظ کے عہد کے بارے میں عوامی بیداری بڑھانے کے لیے انسداد تمباکو کلبوں کی ملک گیر مہم کا آغاز کیا۔

کرومیٹک ٹرسٹ نے CTFK اور پارٹنر تنظیموں کے ساتھ مل کر اینٹی ٹوبیکو کلبز بنائے ہیں تاکہ تمباکو کنٹرول پر گفتگو میں طلباء کی شرکت کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔ ان کلبوں کے ذریعے طلباء تمباکو کے استعمال کے نقصانات کے بارے میں عوام میں بیداری پیدا کریں گے۔

تمباکو نوشی سے بیماریاں:

نوجوانوں میں سگریٹ نوشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو ختم کرنے کے لیے عوام کو حساس بنائیں گے اور تمباکو پر زیادہ ٹیکس لگانے کی وکالت کریں گے۔

سی ای او کرومیٹک ٹرسٹ شارق محمود خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی نوجوان کل آبادی کا تقریباً 60 فیصد ہیں۔ بچوں کو تمباکو کی لعنت سے تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

تمباکو کی مصنوعات پر بھاری ٹیکس لگانے سے نہ صرف تمباکو کے استعمال میں کمی آئے گی بلکہ بچوں کو تمباکو سے دور رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو ایکشن لینے کی ضرورت ہے اور چونکہ بجٹ قریب ہے، یہ مناسب وقت ہے کہ تمباکو پر کم از کم 30 فیصد ٹیکس بڑھایا جائے۔

سی ٹی ایف کے کے نمائندہ ملک عمران احمد نے کہا کہ پاکستان میں روزانہ کی بنیاد پر 6 سے 15 سال کی عمر کے تقریباً 1200 بچے سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف ترقی یافتہ ممالک اپنے عوام بالخصوص نوجوانوں کے لیے تمباکو کو کم قابل رسائی بنانے کے لیے پالیسی میں تبدیلی اور زیادہ ٹیکس لگانے جیسے اقدامات کا استعمال کرکے آنے والی نسلوں کو تمباکو سے پاک بنانے کی راہ پر گامزن ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ کلب ہمارے نوجوانوں کی حقیقی آواز کی نمائندگی کرتے ہیں اور لوگوں کو تمباکو کے مضر اثرات سے آگاہ کرنا ان کا مقصد ہے۔

تمباکو نوشی سے بیماریاں
تمباکو نوشی سے بیماریاں

پاکستان کے سابق وزیر اعظم سینیٹر یوسف رضا گیلانی نے نوجوانوں میں تمباکو نوشی کے موجودہ اعدادوشمار سے پریشان طلباء پر زور دیا کہ وہ صحت مند طرز زندگی اپنائیں اور زیادہ ٹیکس لگانے کی ضرورت پر زور دیا جس سے طلباء کو نہ صرف تمباکو کے استعمال سے روکا جائے گا بلکہ آمدنی بھی بہتر ہو گی اور ٹیکس کی مد میں حاصل ہونے والی رقم سے تعلیم کے شعبے میں استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ عوامی نمائندوں کو تمباکو کے انسداد کے اقدامات کے بارے میں آگاہی پیدا کرنی چاہیے اور میں یقین دلاتا ہوں کہ تمباکو پر ٹیکس عائد کرنے کے حوالے سے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں بحث کی جائے گی اور اس مسئلے کو قومی سطح پہ اجاگر کیا جائے گا تاکہ تمباکو کے استعمال کو روکنے کے لیے مضبوط قانون سازی کی جا سکے۔

یوسف رضا گیلانی نے مزید کہا کہ اس سماجی مقصد کے لیے طلباء کی فعال شرکت کو دیکھ کر مجھے اس قدر فخر ہو رہا ہے کہ پاکستان کا مستقبل صحیح ہاتھوں میں ہے۔

مسلم لیگ ن کی ممبر سینٹرل ورکنگ کمیٹی اور ماہر قانون آمنہ شیخ نے طلباء سے خطاب میں کہا کہ تمباکو کی اس لعنت کو روکنے میں حصہ لینا ہماری سماجی ذمہ داری ہے۔

ہر جلتے ہوئے سگریٹ سے ہم اپنے بچوں کا مستقبل تباہ کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کے مقابلے پاکستان میں سگریٹ کی قیمتیں سب سے کم ہیں اس لیے تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ اسے نوجوانوں کی قوت خرید سے باہر کیا جا سکے۔

کنٹری لیڈ وائٹل سٹریٹیجیز اور سابق ٹیکنیکل ہیڈ آف ٹوبیکو کنٹرول سیل ڈاکٹر ضیاء الدین اسلام نے کہا کہ تمباکو نوشی کے عالمی دن کے موقع پر حکومت کے لیے تمباکو کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنا ضروری ہے کیونکہ پاکستان میں تمباکو نوشی کرنے والوں کی اکثریت اسے چھوڑنے کا انتخاب کرے گی۔

اس لیے تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس میں اضافہ تمباکو نوشی کی حوصلہ شکنی اور حکومت کی آمدنی کو بڑھانے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر مضبوط قانون سازی کی گئی تو وہ وقت دور نہیں کہ پاکستان کے نوجوان تمباکو سے پاک ہوجائیں گے۔

تقریب کا اختتام مختلف سکولوں اور یونیورسٹیوں کے طلباء کے پوسٹر ڈسپلے اور تقاریر کے ساتھ ہوا

Leave A Reply

Your email address will not be published.