Ultimate magazine theme for WordPress.

عیدالفطر 1443ھ کس کے مطابق ہوگی؟

ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی

381
ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی
ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی

عیدالفطر 1443ھ کس کے مطابق ہوگی؟ ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی

کیا عید الفطر ہر سال 29دن کے بعد ہونے پر لازما منانے کیلئے روئیت ھلال کر لی جائے؟ کیا پوری دنیا میں ایک ہی دن عید منانی چاہیے؟ آخر علمائے کرام عید پورے پاکستان میں ایک دن کیوں نہیں منا لیتے؟عید الفطر کا اعلان رات گئے کیوں کیا جاتا ہے کہ آدھی خوشی ویسے ہی ماند پڑ جاتی ہے۔
کیا کسی دوسرے ملک کی روئیت پاکستان کیلئے حجت بن سکتی ہے؟اور اس قسم کے کئی سوالات خصوصا عید الفطر اور اس کے چاند کی روئیت کے بارے عامۃ الناس کے اذھان میں آرہے ہوتے ہیں۔
روئیت ھلال کا فیصلہ دراصل قضاء کی قسم سے ہے۔ فیصلہ کرتے وقت گواہی کا تزکیہ کیا جاتا ہے۔ ایک طرف گواہ کی ذاتی حیثیت،مقام وکردار اہم ہوتا ہے تو دوسری طرف اس کی گواہی کی پرکھ بھی ضروری ہے کہ معلوم ہو جائے کہ روئیت کی گواہی دینے والے نے ھلال کو مطلع پر کہاں، کتنی بلندی اور موٹائی میں دیکھااور یہ بھی کہ روئیت کے تمام پیرامیٹرز پورے بھی تھے کہ نہیں۔
اب اس زمانہ میں اسلامی احکامات میں وقت کا تعین،وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ منٹ اور سیکنڈز تک پہنچ چکا ہے۔ 1400سال قبل نمازوں کی اوقات اور روزے کے سحری اور افطاری کے وقت میں قدرے وسعت ہوتی تھی۔ لیکن اب ایسا نہ ہے۔ وقت کے تعین میں سیکنڈز کے شمار نے اب اوقات کے ابتداء اور انتہاء کو مزید متحقق کر دیا ہے۔ جیسا کہ اگر سورج کا زوال 12:12:25PMبارہ بج کر 12منٹ اور 25 سیکنڈ میں ختم ہو تا ہے۔ تو اس سے قبل ظہر کی نماز کی ادائیگی نہ ہوگی۔

عیدالفطر 1443ھ

ایسے ہی اگر آج مورخہ26/4/22کو روزہ کا سحری کا وقت 3:54:02AM تین بج کر چون منٹ اور 2سیکنڈہے تو پانچ دس سیکنڈز کے آگے کرنے کا کوئی نہیں سوچ سکتا۔ ایسے ہی آج افطاری اگر 6:40:59PM پر ہے تو پانچ دس سیکنڈز پہلے کوئی روزہ کھول کر برباد نہ کرے گا۔ جب اوقات کا تعین سیکنڈز تک ہو چکا ہے تو سورج کے نکلنے، زوال،غروب کے وقت کا تعین بھی اتنی ہی باریک بینی سے کیا جاچکا ہے۔
اسلامی قمری کلینڈ میں ماہ کی ابتداء ایک رات قبل ھلال کی روئیت سے مشروط ہے۔ ہر قمری ماہ 29یا 30ایام کا ہوتا ہے۔ اس لیے ہر قمری ماہ کے اختتام پر چاندکی 29تاریخ کو روئیت ھلال کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں اگر29تاریخ کو روئیت ہو گئی تو اگلے قمری ماہ کا آغاز ہو جائے گا اور اگر نہ ہو ئی تو 30یوم کا عدد پورا کر نا پڑے گا۔
حدیث مبارکہ کے الفاظ”صوموا لروئیتہ وافطروا لروئیتہ“ (مسلم2379:) کامصداق بھی یہی ہے کہ چاند کی روئیت کر کے (رمضان)شروع کیا جائے اور اگلا چاند دیکھ کر ہی افطار (عید الفطر منائیں) اور اگر تم پر بادلوں کی وجہ سے مشتبہ ہو جائے تو گنتی کو پورا کرو۔
چاند کی روئیت چاہے بادلوں کے ہونے کی وجہ سے نہ ہو یا چاند کی عمر کم ہونے کی وجہ سے نہ ہو۔نیا قمری ماہ شروع نہیں ہو سکتا ہے۔ قمری ماہ کی 30تاریخ کو اگر بادل نہ ہوں تو چاند لازمی نظر آئے گا۔پاکستان کے مختلف علاقوں میں محکمہ موسمیات اور سپارکو باقاعدہ چاند کی روئیت کا اھتمام کرتے ہیں۔
مرکزی اور صوبائی کمیٹی کے ممبران کے ساتھ ان محکموں کے ماہرین بھی موجود ہوتے ہیں۔ ہر سال یہ دونوں محکمے عید کے اعلان سے 15روز قبل تک اپنی اپنی ویب سائٹس پر روئیت کے بارے اعداد وشمارشیئر کر دیتے ہیں۔ لیکن ابھی تک ماہ شوال کے اعدادوشمارشیئر نہیں کیئے گئے ہیں۔ جو کہ محل نظر ہے۔ شاید ایسا کرنے سے انہیں منع کیا گیا ہے۔
پاکستانی علاقوں میں روئیت ہلال کے متحقق ہونے کے لیے باقاعدہ پیرا میٹرز مقرر کر دیئے گئے ہیں۔ پیرا میٹرز کی روشنی میں روئیت کی تصدیق کی جاتی ہے۔ اگر یہ پورے نہ ہوں تو روئیت کی گواہی دینے والا شخص محل نظر ہوتا ہے۔ ایسی گواہی جو کہ ان پیرا میٹرز کے بر خلاف ہو بھی محل نظر ہے۔
پاکستانی علاقوں میں روئیت کیلئے ضروری ہے کہ چاند کی عمرکم ازکم19 گھنٹے ہواس کے ساتھ ساتھ چاند اور سورج کے غروب میں 40منٹ کاوقفہ ہو، چاند کا مطلع پر6 درجہ پر موجود ہونا اور مطلع کا غبار اور آلودگی سے پاک ہونا بھی ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چاند کا سورج سے زاویائی کم ازکم فاصلہ10ڈگری پر ہو۔
اس پس منظر کی روشنی میں کالم کے شروع میں اٹھائے گئے سوالات کا جواب آسانی سے مل جاتا ہے۔ضروری نہ ہے کہ عید الفطر ہر سال 29دنوں کے اختتام پر منا لی جائے۔ 29ویں روزے کو اگر چاند نہ نظر آیا تو اب 30ویں روزے کی طرف جائیں گے۔ جو کہ فطری ہے۔ اب 30روزے مکمل ہونے پر روئیت ھلال کی ضرورت نہ ہے کیونکہ گنتی پوری ہو گئی ہے۔ لیکن آسمان پرچاند نظر آرہا ہو گا۔
پوری دنیا میں ایک ہی دن عید نہ ہو سکتی ہے۔ پاکستان اور امریکہ کا 11-12گھنٹے کا فرق ہے۔ جس کے نتیجہ میں چاند کی روئیت کا بھی فرق واضح ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ آج26اپریل ہے۔اور رمضان کی 24تاریخ ہے۔ ابھی نئے چاند نے معرض وجود میں آنا ہے۔ چاند کی پیدائش سے لے کر اس کی روئیت کے قابل ہونے تک کم از کم 19گھنٹے گزارناضروری ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی لازم ہے کہ چاند سورج کے غروب ہونے کے بعد غروب ہوا گر پہلے غروب ہو گیا تو روئیت ھلال نہ ہو سکے گی۔ چاند کی روئیت کا انحصار اس کی موٹائی،عمر 19گھنٹے، چاند کے سورج کے بعد غروب ہونے، اور مطلع پر کم از کم 40منٹ موجود رہنے کے ساتھ ہی ممکن ہے۔
اب ۳۴۴۱ھ کے رمضان کے روزوں کی تعداد کا جائزہ لیتے ہیں۔ عالمی فلکیاتی اداروں کے مطابق پاکستان میں 29رمضان یکم مئی 2022ء کو چاند نظر نہیں آئے گا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ 29رمضان ۳۴۴۱ھ بروز اتوار وقت1:28 AMپر نیا چاند(New Moon)بنے گا لاہور میں غروب آفتاب کے موقع پر اس کی عمر 17گھنٹے 14منٹ ہو گی۔ اور یہ سورج کے غروب ہونے کے 36منٹ کے بعد غروب ہو گا۔
ایسے ہی اسلام آباد میں عمر 17گھنٹے 22منٹ،پشاور میں 17گھنٹے29منٹ، کراچی میں عمر17گھنٹے33منٹ ہو گی اور سورج غروب ہونے کے بعد زیادہ سے زیادہ36منٹ کے بعد غروب ہو جائے گا۔صرف گلگت کے مختلف علاقوں میں 37منٹ تک رہے گا۔ اس لیے اس کی روئیت نہ ہو سکے گی۔ حتی کی ٹیلی سکوپ سے بھی ممکن نہیں ہو گی۔ کیونکہ یہ چاند Eدرجہ کا ہے۔
اس ماہ رمضان پاکستان میں محکمہ موسمیات کے مطابق 30روزے ہوں گے۔ محکمہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے قمری کلینڈر کے مطابق بھی 30روزے ہوں گے۔ سعودی عرب میں 2۔اپریل ہفتہ کو پہلا روزہ تھا۔ 30رمضان بروز اتوار کو سعودی عرب میں چاند کھلے عام نظر آنا چاہیے لیکن سائنسی اعداد وشمار کے مطابق نری آنکھ سے بھی چاند نظر نہیں آئے گا (آزمائش شرط ہے) جبکہ اسی دن اتوار کو پاکستان میں 29رمضان ہو گی اور چاند نظر نہ آئے گا۔ اور پاکستان میں 30روزے ہونے کا امکان ہے۔ 30ویں روزے کے بعد جب چاند نظر آئے گا تو اس کی عمر 41گھنٹے سے زیادہ ہو گی اور یہ قدرے دیر تک آسمان پر نظر آئے گا۔ کہنے والے اسے دوسری کا کہیں گے لیکن یہ پہلی کا ہی ہو گا۔
اس تفصیل کی روشنی میں انتہائی تیز نگاہ والی ہو گی وہ آنکھ جو17گھنٹے14منٹ کا چاند دیکھ پائے گی۔ اس عمر کے چاند دیکھنے والی آنکھ کے حامل کو وطن کی حفاظت کے ریاستی اداروں میں بطورSniperلازما نوکری مل جانی چاہیے اور ملکی سرحدوں کی حفاظت کیلئے ان کی تیز نگاہی سے استفادہ کیا جانا چاہیے۔
اس دفعہ کے شوال کے چاند کی طرح کے 57چاند ماضی میں دیکھے نہیں گئے ہیں۔ یہ روئیت ھلال میں نہایت انوکھی روئیت ہو گی اگر کسی نے اس شوال کے چاند کی روئیت کی شہادت دی۔ اس طرح پچھلے سال 29روزے چاند کی روئیت پر جامعۃ الرشید نے دو ماہ کے بعد غلطی کا اعتراف سینکڑوں علماء اور ممبران مرکزی روئیت ھلال کمیٹی کے سامنے کیا۔جبکہ اس سال روزنامہ اسلام 24اپریل 2022ء کے شمارے میں جامعۃ الرشید کراچی کی تحقیق کے مطابق اتوار29رمضان یکم مئی کو پاکستان میں چاند نظر آنے کا امکان نہ ہے۔ یہ چاند محکمہ موسمیات کے 30سالہ معیار روئیت ھلال سے بھی ناقص ہے۔
29 رمضان کا چاند شوال 1386 ھ، شوال 1429 اور شوال 1442 کے چاندوں جیسا ہے۔ ان سالوں میں 29 روزوں کے بعد عید کے غیر تسلی بخش اعلان سے ملک بھر میں انتشار پھیلا تھا۔ راقم کے جد امجد مفتی محمد حسین نعیمی علیہ الرحمہ نے 1386ھ کے شوال کے چاند کی مخالفت کی تھی۔ اور انہیں حکومت نے3ماہ کیلئے دیگر علماء کے ساتھ جنہوں نے عید منانے سے انکار کیامچھ جیل میں رکھا تھا۔
اس ساری تفصیل کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سے مسلمان ہیں جو اتنا کمزور چاند دیکھ لیں گے اور وہ بھی صرف شوال کے مہینہ کا۔
ایک دن عید منانا صرف چند لوگوں کے احترام میں کہ اگر ان کے مطابق نہ کی گئی تو ملک میں دو عیدیں ہو جائیں گیں۔یا للعجب۔صرف شرعی شہادت کو بنیاد بنا کر چاند کی روئیت کروا کے ملک کے اکثر یتی لوگوں کے روزے نہ خراب کیئے جائیں جو 30روزے رکھنے کو تیار ہیں۔ہمارے ملک کا اپنا نظام ہے۔ ہمیں کسی اور ملک کے تابع ہو کر روئیت ھلال کے فیصلہ نہیں کرنے چاہیئے۔ ملک میں پرائیویٹ روئیت ھلال کمیٹیوں پر پابندی ہونی چاہیے۔
ان کے علیحدہ اعلان کی وجہ سے انتشار پھیلتاہے۔ یہ پرائیویٹ کمیٹیاں روئیت کی شرعی شہادت کو قبول کرتی ہیں چے جائیکہ وہ شہادت معیار اور پیرامیٹرزکے مطابق ہو یا نہ ہو۔ مرکزی روئیت ھلال کمیٹی کے فاضل ممبران پر اعتماد کیا جائے۔ ان پر کسی طرف سے بھی دباؤ نہ ڈالا جائے۔ چاند کی روئیت کا جذباتی /معیار روئیت کے بغیر قبول شہادت اور کسی دوسرے ملک کی پیروی میں اعلان حرام کو حلال اور حلال کو حرام کر دے گا۔ جس کا عنداللہ جوا ب دینا پڑے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.