Ultimate magazine theme for WordPress.

سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ: ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ غیر آئینی قرار، اسمبلی بحال

سید اشتیاق بخاری

69

اسلام آباد: سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ: ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ غیر آئینی قرار، اسمبلی بحال

سپریم کورٹ آف پاکستان نے قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو غیر آئینی قرار دے دیا۔ سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی اور وفاقی کابینہ کو تین اپریل کی حیثیت سے بحال کردیا ہے۔

سپریم کورٹ نے وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد پر ووٹنگ کیلئے 9 اپریل کو اجلاس بلانے کا حکم بھی جاری کردیا ہے۔

عدالت عظمٰی کے پانچ ججوں نے اپنے مختصر فیصلے کے 13 پیراز میں کیا لکھا ہے آئیے دیکھتے ہیں پیراوائز فیصلے میں کیا تحریر ہے۔

سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ:

1-پیرا نمبر 1 میں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ غیر آئینی قرار دے دی۔

2-پیرا نمبر 2 میں تحریک عدم اعتماد کو زیر التواء قرار دیا۔

3-پیرا نمبر 3 میں لکھا ہے کہ جب تحریک عدم اعتماد زیر التواء ہو تو وزیر اعظم صدر جو اسمبلی توڑنے کا مشورہ نہیں دے سکتا۔

4-پیرا نمبر 4 میں لکھا ہے کہ صدر کا 3 اپریل کو اسمبلی توڑنے کا آرڈر منسوخ کیا جاتا ہے۔

5-پیرا نمبر 5 میں لکھا ہے کہ چونکہ صدر نے اسمبلی غلط مشورے پہ توڑی اور وہ حکم منسوخ ہو گیا  لہذا اسمبلی اپنی پہلی حالت میں موجود ہے ۔

6-پیرا نمبر 6 میں لکھا ہے کہ صدر کی طرف سے نگران حکومت اور عام انتخابات کے لیے اٹھائے گئے تمام اقدامات کالعدم کیے جاتے ہیں۔

7-پیرا نمبر 7 میں لکھا ہے کہ وزیراعظم انکی حکومت اور تمام وزراء کو انکے عہدے پہ 3اپریل کی حالت پہ بحال کیا جاتا ہے۔

8-پیرا نمبر 8 میں لکھا ہے کہ سپیکر کی طرف سے تحریک عدم اعتماد پہ کاروائی کے لیے اسمبلی کے بلائے گئے اجلاس کی منسوخی یا ملتوی کرنے کے تمام احکامات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور ایسے احکامات منسوخ کیے جاتے ہیں ۔

9-پیرا نمبر 9 میں لکھا ہے کہ اسمبلی کا اجلاس ہفتہ کو صبح ساڑھے دس بجے سے بچے سے قبل بلا کر اس پہ تحریک عدم اعتماد پہ ووٹنگ کرائی جائے۔

10-پیرا نمبر 10 میں لکھا ہے کہ سپیکر آئین کے تحت اس وقت تک اجلاس ملتوی نہیں کر سکتے جب تک تحریک عدم اعتماد یا تو ناکام ہو جائے دوسری صورت میں جب وہ کامیاب ہو جائے تو قاید ایوان کے انتخاب کے بعد اجلاس ملتوی کیاجائے گا۔

11-پیرا نمبر 11 میں لکھا ہے کہ وفاقی حکومت تحریک عدم اعتماد پہ ووٹنگ کے لیے تمام ممبران کو سہولت فراہم کرے گی اور کوئی ایسا عمل نہیں کرے گی جس سے ووٹ ڈالنے میں رکاوٹ پیدا نہیں ہونے دے گی اور اٹارنی جنرل کی طرف سے کرائی گئی یقین دھانی پہ عمل کرے گی۔

12-پیرا نمبر 12 میں لکھا ہے کہ آرٹیکل 63-A کے حوالے سے کوئی آرڈر نہیں ہے اور جو بھی اس ضمن میں آئے گا اسکی نااہلی کا معاملہ قانون کے مطابق دیکھا جائے گا۔چاہے وہ تحریک عدم اعتماد پہ ووٹنگ میں حصہ لے یا وزیر اعظم کے انتخاب میں ووٹنگ میں حصہ لے۔

13-پیرا نمبر 13میں لکھا ہے کہ یہ حکم اس حکم کا تسلسل ہے جس کے تحت صدر اور وزیراعظم کے تمام احکامات کو اس ازخود نوٹس کے فیصلے کے تابع کیا گیا تھا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.