Ultimate magazine theme for WordPress.

ڈاکٹر پروفیسر مہدی حسن: محبت، جستجو اور شفقت کا استعارہ

ڈاکٹر ارشد علی

153
ڈاکٹر ارشد علی
ڈاکٹر ارشد علی

ڈاکٹر پروفیسر مہدی حسن 1937 میں پانی پت میں پیدا ہوئے۔ ابھی چوتھی جماعت میں تھے کہ ملک تقسیم ہوگیا۔ آپ والدین کے ساتھ منٹگمری (ساہیوال ) چلے آئے۔ کالج کے بعد ایم اے جرنلزم کرنے لاہور آگئے اور پھر یہیں کے ہورہے۔ لاہور ہجرت کے بعد ٹی وی میزبان طارق عزیز کے ساتھ ایک مکان میں ساتھ رہے۔

اپنی کلاس فیلو سے شادی کی۔ ۔ ان کے دو بیٹے ہیں۔ ایک پاکستان اور دوسرے امریکہ میں مقیم ہیں۔ انکی پوتی امریکہ میں انگریزی زبان کی شاعرہ ہے۔ عملی صحافت کا آغاز پی پی اے سے کیا۔ آپ سولہ کتابوں کے مصنف ہیں۔ آپ کے قلم نے لگ بھگ پانچ ہزار مضامین تخلیق کیے۔

1967 میں جامعہ پنجاب میں تدریس کا آغاز کیا۔ ۔یحییٰ خاں کے مارشل لا کے خلاف بولنے پر اپ کو یونیورسٹی سے فارغ کردیا گیا۔ آپ ہائیکورٹ چلے گئے۔ عدالت عالیہ نے انہیں دس ماہ بعد بحال کردیا۔

وقت گزرتا رہا۔ آپ علم و آگہی کے چراغ جلاتے رہے۔ ۔ تحریک بحالی جمہوریت میں مورو میں بے گناہ شہریوں پر فائر کھول دیا گیا۔ پاکستان کے انسٹھ دانشوروں نے اس کے خلاف ایک یادداشت پر دستخط کیے۔

آپ جامعہ پنجاب کے واحد استاد تھے، جنہوں نے اس پر دستخط کیے۔ انہیں ایک بار پھر جامعہ پنجاب سے نکال دیا گیا۔ آپ نے پھر عدالت عظمیٰ کا دروازہ کھٹکھٹایا، اور کاظم رضا ایڈووکیٹ کو وکیل کیا۔

پیشی کے روز وکیل کو اغوا کرکے قلعے کے عقوبت خانے میں قید کردیا گیا۔ ڈاکٹر مہدی حسن اپنے وکیل آپ بنے۔ چیف جسٹس مجددمرزا نے کہا "پروفیسر! پاکستان میں حالات درست نہیں۔ آپ اپنی تنخواہ جیب میں ڈال کر سیدھا گھر جایا کریں۔ آپ سیاست میں کیوں الجھتے ہیں؟”

ڈاکٹر مہدی حسن نے ملین ڈالر مسکراہٹ لبوں پر بکھیری اور کہا "یہ سیاست نہیں، اگر میں اپنے طالب علموں کو مارشل لا کے نقصانات نہیں بتاتا تو اس کا مطلب ہے کہ میں اپنے طلبا کی رہنمائی نہیں کررہا۔”

عدالت نے حکم امتناعی دے دیا۔ مقدمہ اٹھارہ سال تک چلا۔ مقدمہ ختم نہیں ہوا کہ ان کا عرصہ ملازمت اختتام کو پہنچ گیا۔ اس دوران کئی لوگوں نے حالات کا مقابلہ کرنے کی بجائے ملک سے ہجرت کی اور خودساختہ جلاوطنی اختیار کی۔

ڈاکٹر پروفیسر مہدی حسن

ان کے متعدد ساتھیوں نے این جی اوز بنائیں مگر وہ تعلیمی محاذ پر ڈٹے رہے۔

ڈاکٹر مہدی حسن کی روشن خیالی کی جدوجہد نصف صدی پر محیط ہے۔ ان کا کہنا ہے روشن خیالی کے بغیر پاکستان دنیا میں اپنا مقام نہیں بنا سکتا۔

ان کے مشاغل میں ہائیکنگ، ماونٹینرنگ، سکاؤٹنگ اور فوٹو گرافی شامل ہے۔ ایک دور میں کتا پالنے کا شوق چرایا۔ پھر گھر کی تنگی کی وجہ سے شوق آدھ راستے میں چھوڑ دیا۔

جامعہ پنجاب میں ایک طلباء تنظیم نے اُنہیں بہت زچ کیا۔ ان پر رنگ برنگے الزام لگائے۔ یہاں تک کہ انہیں واجب القتل قرار دے دیا۔

ایک بار پوری جامعہ میں ان کے خلاف پوسٹر لگا دیے گئے۔ "مہدی حسن کو بھگاؤ۔ یونیورسٹی بچاؤ”۔ وی سی گھبرائے، انہیں بلایا اور کہا آپ رخصت پر چلے جائیں۔ آپ مسکرانے اور کہا ان کا علاقہ صرف یونیورسٹی کی حدود ہے جبکہ میرا علاقہ اس حدودکے بعد شروع ہوتا ہے۔

آپ امریکہ کی یونیورسٹی آف کلوریڈا میں فل برائیٹ سکالر رہے۔ یہاں آپ کی تحقیق کاموضوع امریکی ذرائع ابلاغ میں تیسری دنیا کے ملکوں کی کوریج تھا۔

ان کی پی ایچ ڈی جامعہ پنجاب سے تھی اور موضوع تھا، رائے عامہ بنانے میں پریس کیا کردار ادا کرتا ہے۔

انہیں ملنے کا کوئی پروٹوکول نہیں تھا۔ چہرے پہ مسکراہٹ، باتوں میں شگفتگی، حس مزاح کی فراوانی، درویش طبیعت، اور خوشبودار پائپ کا استعمال ان کی شخصیت کے اجزا ہیں۔

اگر محبت انسان، علم کی جستجو اور شفقت کو ملا دیا جائے تو اس سے ڈاکٹر مہدی حسن بنتے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.