Ultimate magazine theme for WordPress.

المیہ سقوط مشرقی پاکستان قسط 2: نصف صدی کا قصہ

100

المیہ سقوط مشرقی پاکستان قسط 2: پاک بحریہ کے سابق کمانڈو محی الدین چودھری نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی وجوہات اور بنگالیوں کا نقطہ نظر بیان کیا ہے۔ اس کا ایک حصہ "شہید جنانی کی ڈائری” سے بھی مشتق ہے۔ آئیے پڑھتے ہیں۔

اپریل 71 میں, ڈھاکہ میں اکثر وقت کرفیو لگتا رہا۔ مگر جلد ہی حالات نارمل ہونے لگے ۔ جہاں آرا امام ، پاکستانی افواج کے مظالم کی سنی سنائی کہانیاں ضرور بیان کرتی ہیں۔

مگر ان کی اپنے ڈائری میں تحریر ہے کہ میں اپنے لڑکوں کو خود لے کر جاتی تھی۔ کیونکہ خواتین کو گاڑی چلاتے دیکھ کر فوجی کچھ نہیں کہتے تھے۔

یہ اس چیز کی گواہی ہے کہ فوجیوں کا سلوک ظالمانہ نہیں تھا۔ مگر جہاں آرا امام کے مطابق” مغربی پاکستان والے ہمیں انسان ہی نہیں سنجھتے اور بنگالیوں پر غیر انسانی تشدد کے مرتکب ہو رہے پیں۔”

پورے بنگال میں مئی کے بعد حالات بالکل نارمل تھے، کئی نامور سماجی کارکنوں، ڈاکٹروں اور پروفیسروں کے بارےمیں پروپیگنڈہ تھا کہ ان کو آرمی ایکشن میں مار دیا گیا ہے انہیں جب ٹیلی ویثرن پر لایا گیا تو جہاں آرا امام جیسے لوگوں اور بھارتی ذرائع کا پروپیگنڈا دم توڑ گیا۔

مگر ان کی زبان پھر بھی فوج کے خلاف آگ ہی اگلتی رہی۔ جب مفرور میجر خالد مشرف نے اگرتلہ کے نزدیک بھارتی علاقہ میں تخریب کاروں کا کیمپ قائم کیا تو جہان آرا امام کا بیٹا رومی امام بھی اس کیمپ میں چلا گیا۔ ان کا دوسرا بیٹا کی بھی مکتی باہنی کے ساتھ جانا چاہتا تھامگر اسے گھر سے اجازت نہ ملی۔

سقوط مشرقی پاکستان قسط 2

المیہ سقوط مشرقی پاکستان قسط 2: نصف صدی کا قصہ

رومی امام کے مکتی باہنی میں شامل ہونے کے بعد تو ان کا گھرمکتی باہنی کے مرکز کے لئے مالی امداد پہچانے کا مرکز بن گیا۔ جہاں آرا امام اور اس کی ساتھی خواتین اس کام کی روح رواں بن چکی تھیں۔

جب مکتی باہنی نے ڈھاکہ میں تخریبی کارروائیاں شروع کیں تو جہاں ارا کے گروہ نے ایسا بندوبست کر دیا تھا کہ ہر بنگالی کا گھر ان مکتی باہنی کے گوریلوں کے لئے پناہگاہ بن جاتا۔ اسمیں گھریلو خواتین بہت متحرک تھیں۔

جہاں آرا امام کے خاوند انجینیر شریف امام ایک نہایت اہم پوسٹ پر متعین تھے۔ انہوں نے مشرقی پاکستان کے اہم پلوں اور تنصیبات کے نقشے اور ان کو تباہ کرنے کی تدابیر مرتب کرنے کے بعد ساری دستاویزات مکتی باہنی کے حوالے کر دیں۔

ان دستاویزات سے مکتی باہنی والوں کو بہت مدد ملی اور انہوں بہت سارے پل اور تنصیبات کو کامیابی سے تباہ کیا۔ مگر الشمس اور البدر جیسی تنظیموں نے فوجی انٹیلی جینس کی بہت مدد کی ۔ اور بھر مکتی باہنی کے ایجنٹ قابومیں آنے لگے۔

جہاں آرا امام کو پاک فوج کے علاؤہ بہاریوں اور محب وطن بنگالیوں سے بھی سخت نفرت تھی۔ وہ ایسے لوگوں کو فوج کے غنڈے بہاری اور تابعدار بنگالی کہا کرتی تھی۔

پیر پگلا نام کے ایک نام نہاد پیر کا آستانہ ایسی خواتین اور دیگر عناصر کا گڑھ تھا جو مکتی باہنی کے تخریب کاروں کے مددگار تھے۔

جلد ہی انٹیلیجنس نے الشمس اور البدر کے رضاکاروں کے ساتھ مل کر بہت سارے مکتی باہنی کے گوریلوں کو قید کر لیا۔ جہاں آرا امام کے گھر بھی چھاپہ پڑا ۔ جہاں آرا کا بیٹا رومی امام اور اس کے چند دوست بمع انجینیر شریف امام پکڑے گئے۔

ہیرو کون غدار کون؟

المیہ سقوط مشرقی پاکستان قسط 1: نصف صدی کا قصہ

شریف امام اور کچھ لڑکے تو واپس آگئے، مگر رومی امام بمعہ کچھ ساتھیوں کے فائرنگ اسکواڈ کے سپرد ہوئے۔ کیونکہ ان کے جرائم بہت بھیانک تھے۔

الشمس اور البدر گروپ نے ڈھاکہ اور دوسرے شہروں میں مکتی باہنی کی اکثر پناہ گاہوں کی کامیابی سے نشان دہی کی اس طرح مکتی باہنی کا زور ٹوٹ گیا۔

بہت سے بنگالی نوجوان جو مکتی باہنی کے ممبر تھے وہ پکڑے گئے اور ان سے انٹیروگیشن کی گئی تو اسکے نتیجہ میں بہت سارے مزید لوگ اور اسلحہ کے ذخیرے بھی پکڑے گئے۔ بیگم جہاں آرا امام کی تنظیم کی کمر ٹوٹ گئی۔

وہ اپنی ڈائری میں پاکستانی پائلٹ راشد منہاس کے واقعہ کا بھی ذکر کرتی ہیں حالانکہ یہ واقعہ مشرقی پاکستان میں نہیں بلکہ مغربی پاکستان میں ہوا تھا۔

وہ افسوس کا اظہار کرتی ہیں کہ فلائٹ لیفٹننٹ مطیع الرحمن کو تو غدار قرار دیا گیا۔ حالانکہ اس نے آزاد بنگال کی محبت میں یہ کارنامہ سر انجام دیا تھا۔ وہ مطیع الرحمن کے لئے آذاد بنگال کا بہت بڑا اعزاز دینے کا مطالبہ بھی کرتی ہیں۔

غرض وہ خاتون سر تا پا باغی گروہ کی ساتھی اور مددگار تھی۔ پاکستان کی حکومت، فوج ، پنجابیوں، بہاریوں اور بنگالی محب وطن طبقوں سے سخت نالاں تھی۔ اور اس نے دامے،درمے اور سخنے ہر طرح سے مکتی باہنی کی مدد کی۔

بہاری آبادی اور محب وطن بنگالیوں کا قتل عام

جنگ دسمبر کے بعد بے بس بہاری آبادی اور محب وطن بنگالی ابادی کا قتل عام کیا گیا۔ اس میں مکتی باہنی کا میجر حیدر ایک مرکزی کردار تھا اور اس کے ساتھیوں میں جہاں آرا امام کا بیٹا جامی امام اور اس کے دوستوں کا گروہ بھی شامل تھا۔

ا لغرض جہاں آرا امام کی ڈائری پر لکھی گئی کتاب ” اکہتر کے وہ دن” بنگالی قوم پرستوں کے نقطہء نظر کی غماز ہے۔ ان کی نظرمیں پاکستان سے حب ا لوطنی ایک جرم تھا اور اس میں بنگالی عوام کی اس تشدد پسندانہ جدوجہد کی ترجمانی کی گئی ہے۔ اس ڈائری کے اقتسابات سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ بنگالی ابادی زیادہ تر پاکستانیوں سے نفرت کرتی تھی۔

اس کا مظاہرہ پاک فوج اور اس کے حمایتی طبقوں سے نفرت کر نا ہے ۔ جہاں آرا امام نے اپنی ڈائری میں مکتی باہنی کے کارناموں اور پاک فوج کے مظالم کے جو کچھ لکھا وہ ذیادہ تر سنی سنائی باتوں پر مشتمل ہے۔ بہر حال مجموعی طور پر یہ کتاب المیہ 1971 کا بنگالی نقطہء نظر کی غماز ہے۔

اس مہم میں اس خاتون کا اہم کردار تھا اور اسی کی یاد میں ” جہاں آرا میوزیم” بھی بنایا گیا ہے۔ بنگالی قوم آج بھی اسے شہید جنانی ( شہید عورت) کے نام سے یاد کرتی ہے۔ حالانکہ وہ 1994 میں قدرتی موت مریں۔

سقوط مشرقی پاکستان قسط 2:

المیہ یہ ہے،کیا ہم نے مغربی پاکستان میں ان شہیدوں کی کوئی یادگار بنائی ہے جن کے جسم وہاں کی دلدلوں اور دریاؤں میں dissolve ہو گئے۔ ان شہیدوں کے بارے میں کیا، کیا گیا جن کا خون اس سرزمین پر بہتا رہا۔ وہ شہید اور غازی ابھی تک گمنام ہیں جن لوگوں نے مادر وطن کے لئے قربانیاں دیں۔

بلکہ الشمس اور البدر کو کئی اسکالر تو شدت پسند قرار دیتے ہیں ، جبکہ مشرقی پاکستان میں اپریل سے دسمبر تک کے افراتفری کے دور میں امن وامان قائم کرنے میں ان گروپس نے بےتحاشہ مالی اور جانی قربانیاں دیں اور ملک کے ٹوٹ جانے کے بعد بھی ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے۔

جماعت اسلامی، مسلم لیگ اور بہاری ابادی کا تو جینا حرام کر دیا گیا۔برسوں سے یہ لوگ مختلف ادوار کی حکومتوں کے ظلم وستم کا شکار ہیں اور کسی اچھے مستقبل کی امیدیں بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کاحل ضروری ہے۔

اب بھی بنگلہ دیش کے مختلف شہروں میں لاکھوں بہاری افلاس اور ابتری کی زندگی گزار رہے ہیں۔

ان کی تیسری نسل ان کیمپس میں رہنے پر مجبور ہے کیونکہ نہ پاکستان ان کو قبول کرتا ہے نہ وہ بنگلہ دیش کی ابادی میں ضم ہو سکتے ہیں۔ میری تو دعا ہے رب ذوالجلال ان سب کی قربانیوں کو قبول فرمائیں۔ اور ان کی مشکلات آسان فرمائیں۔ آمین (ختم شد)

Leave A Reply

Your email address will not be published.