Ultimate magazine theme for WordPress.

مُردہ خانے میں 100 خواتین کی لاشوں سے زیادتی کرنے والا اسپتال ملازم گرفتار

ملزم برطانیہ کے ایک اسپتال میں الیکٹریشن کا کام کرتا تھا اور لاشوں کے ساتھ زیادتی کی ویڈیوز بھی بناتا تھا۔

194

لندن: مُردہ خانے میں 100 خواتین کی لاشوں سے زیادتی کرنے والا اسپتال ملازم گرفتار کرلیا گیا۔

گرفتار ہونے والے برطانوی ملزم ڈیوڈ فلر نے چالیس سال کے دوران اسی اور نوے کی دہائیوں میں کم از کم 100 مُردہ خواتین کو اپنی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔

ملزم ڈیوڈ فلر برطانیہ کے ایک اسپتال میں الیکٹریشن کا کام کرتا تھا اور لاشوں کے ساتھ زیادتی کی ویڈیوز بھی بناتا تھا۔

ملزم نے بچوں اور دو خواتین کے قتل سمیت 100 مردہ خواتین کے ساتھ اسپتال کے مُردہ خانے میں جنسی زیادتی کرنے کا اعتراف کرلیا ہے۔

برطانیہ کے نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انگلستان کی کاؤنٹی سسکس کے رہائشی 67 سالہ ڈیوڈ فلر کو قاتلانہ حملے کے ایک مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا، تاہم دوران تفتیش نے اُس نے اپنے گزشتہ جرائم کا اعتراف بھی کرلیا۔

اسپتال الیکٹریشن کی خواتین کی لاشوں سے زیادتی:

فائل: اسپتال کا مردہ خانہ

ملزم ڈیوڈ فلر نے اعتراف کیا کہ سال 1987 کے بعد 12 برسوں میں اُس نے دو اسپتالوں میں کام کیا، جہاں مُردہ خانوں میں 100 خواتین اور بچوں کی لاشوں کے ساتھ اُس نے جنسی زیادتی کی۔

ملزم ڈیوڈ فلر نے دو خواتین کیرولائن پیئرس اور وینڈی نیل کو قتل کرنے کا اعتراف بھی کیا ہے۔

ملزم ڈیود فلر نے خواتین کو قتل کرنے کے مقدمہ کی سماعت کے آٖغاذ سے پہلے ہی اپنے 51 جرائم کا اعتراف کرلیا۔

درندہ صفت ملزم کے تفتیشی ادارے کو بتایا کہ اُس نے اس عرصہ میں طبی اداروں میں اپنی ملازمت کے دوران دو اسپتالوں کے مردہ خانوں میں خواتین اور بچوں کی لاشوں کو اپنی ہوش کا نشانہ بنایا۔

متاثرین میں 78 شناخت شدہ لاشیں اور کچھ غیر شناخت لاشیں بھی شامل تھیں۔

دوران تفتیش  کے ملزم ڈیوڈ فلر کے گھر کی تلاشی بھی لی گئی۔ ملزم کے گھر سے متعدد فلاپی ڈسکس، ہارڈ ڈرائیوز، میموی کارڈ، اور ڈی وی ڈیز بھی برآمد ہوئیں۔

اِن میں خواتین کی لاشوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کی ویڈیو شامل تھیں۔ اس کے علاوہ ان میں مردہ خانے میں بچوں کی لاکھوں غیر اخلاقی اور غیر مناسب تصاویر اور ویڈیوز بھی شامل تھیں۔

درندہ صفت ملزم اپنے اس مذموم اور مکروہ کام کیلئے اسپتالوں میں عموما نائٹ شفٹ لگواتا تھا۔ اس دوران ملزم مردہ خانے کے عملے کی چھٹی کا انتظار کرتا اور پھر مکروہ جنسی فعل کرتا۔

تفتیش کے مطابق ملزم اپنی گرفتاری کے آخری دن تک ایسا کرتا رہا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.