Ultimate magazine theme for WordPress.

محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا انتقال: سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک

32

اسلام آباد: محسن پاکستان ممتاز جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا انتقال پرملال قوم کو افاسردہ کرگیا۔

فیصل مسجد میں نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ان کی خواہش کے مطابق اسلام آباد کے ایچ ایٹ قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔

مرحوم کے جسد خاکی کی تدفین اور نماز جنازہ کی ادائیگی سے قبل گارڈ آف آنرز پیش کیا گیا۔

اس موقع پر مسلح افواج اور پولیس کے دستوں نے سلامی بھی پیش کی۔

جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی اپنی خواہش کے مطابق اُن کی نماز جنازہ فیصل مسجد اسلام آباد میں ادا کی گئی۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد الغزالی نے ڈاکٹر اے کیو خان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ نماز جنازہ کے دوران ابر رحمت بھی برستا رہا۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نماز جنازہ کے موقع پر فیصل مسجد کے اردگرد سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نمازِ جنازہ میں قائم مقام صدر و چیئرمین سینیٹ سینیٹر صادق سنجرانی، وفاقی وزراء، سیاسی و عسکری قیادت اور ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

علالت:

عبدالقدیر خان کا انتقال
عبدالقدیر خان کا انتقال قوم کو سوگوار کرگیا

ممتاز سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان ایک عرصہ سے علیل تھے۔

اتوار کی صبح پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے معمار ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پھیپھڑوں میں تکلیف ہوئی۔

ڈاکٹر خان کو فوری طور پر کے آر ایل ہسپتال منتقل کیا گیا، لیکن وہ جاں بر نہ ہو سکے اور داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے حالات زندگی

  • ڈاکٹر عبدالقدیر خان یکم اپریل 1936 کو بھارت کے شہر بھوپال میں پیدا ہوئے۔
  • اُن کے خاندان کا تعلق پشتوں کی شاخ اورکزئی قبیلے سے تھا۔
  • قیام پاکستان کے بعد ڈاکٹر عبد القدیر خان اپنے خاندان کے ہمراہ پاکستان ہجرت کر آئے۔ اُن کے خاندان نے کراچی میں سکونت اختیار کرلی تھی۔
  • کراچی یونیورسٹی سے 1960 میں انہوں نے میٹالرجی میں اعلیٰ ڈگری حاصل کی۔
  • جس کے بعد ڈاکٹر خان اعلیٰ تعلیم کیلئے یورپ چلے گئے۔
  • ہالینڈ اور جرمنی سے ڈاکٹر اے کیو خان نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔
  • انہوں نے بیلجیئم سے ڈاکٹریٹ آف انجینئرنگ اور ہالینڈ سے ماسٹرز آف سائنس کی اسناد حاصل کیں۔

پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر بنانے اور وطن عزیز کو ایٹمی قوت بنانے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا کردار ناقابل فراموش ہے۔

28 مئی 1998 میں جب بھارت نے ایٹمی دھماکے کیے، تو پاکستان نے جوابی دھماکے کرکے دشمن کو بتادیا کہ پاکستان تر نولہ نہیں ہے۔

چاغی (بلوچستان) کے پہاڑوں میں ہونے والے اس ایٹمی تجربے کی براہ راست نگرانی ڈاکٹر قدیر خان نے ہی کی تھی۔

محسن پاکستان ڈاکٹر اے کیو خان نے 150 سے زائد (مقالے) سائنسی تحقیقاتی مضامین بھی لکھے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.