Ultimate magazine theme for WordPress.

توہین آمیز خاکے بنانے والے گستاخ کارٹونسٹ کا انجام

168

اسٹاک ہوم: توہین آمیز خاکے بنانے والے گستاخ کارٹونسٹ کا انجام

اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۔ توہین آمیز خاکے بنانے والا گستاخ کارٹونسٹ لارس ولکس اپنے انجام کو پہنچ ہی گیا۔

توہین آمیز خاکے بنانے والا گستاخ کارٹونسٹ کا انجام سویڈن میں ہوا، جہاں اُس پر خدا کی لاٹھی برس اس وقت برس پڑی، جب اُسے کار حادثے کا سامنا کرنا پڑا۔

کار حادثے میں گستاخ کارٹونسٹ موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔ کارٹونسٹ کو مارنے والے کیلئے القاعدہ نے ایک لاکھ ڈالر کا انعام مقرر کررکھا تھا۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق سویڈش حکومت نے توہین آمیز خاکے بنانے والے گستاخ لارس ولکس نامی شخص کو گزشتہ کئی سالوں سے قانون نافذ کرنے والے ادارون اور پولیس کی سیکیورٹی فراہم کررکھی تھی۔

گستاخ کارٹونسٹ کا انجام

بتایا گیا ہے کہ کارٹونسٹ لارس ولکس سخت حفاظتی حصار اور پولیس سیکیورٹی کے ہمراہ اتوار کے روز کہیں جارہا تھا۔

جب اُن کا کاروان مارکیریڈ نامی ایک قصبے کے پاس پہنچا تو اُس کی کار مخالف سمت سے انے والے ایک ٹرک سے ٹکرا گئی۔

یہ حادثہ اس قدر خوفناک تھا کہ ٹرک اور کارٹونسٹ کی کار کے درمیان ٹکراؤ کے نتیجے میں کارٹونسٹ لارس ولکس کی حفاظت پر مامور دونوں پولیس اہلکار اور خود لارس ولکس موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔

سویڈن میں اُس قسبے کی مقامی پولیس نے ایک بیان میں بتایا کہ ٹرک اور کار میں یہ خوفناک تصادم کس طرح ہوا، یہ ابھی تک واضح نہیں ہوا۔

مقامی پولیس کے بیان کے مطابق یہ واقعہ ابتدائی طور پر کسی بھی طور سے حملہ یا قاتلانہ کارروائی نہیں لگتا۔

واضح رہے کہ کارٹونسٹ لارس ولکس نے 2007 میں توہین آمیز خاکے بنائے تھے۔

اس گستاخی پر پر دنیا بھر میں بسنے والے کروڑوں مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا تھا۔ پاکستان میں اس حوالے سے شدید احتجاج ہوتا رہا تھا۔

دوسری جانب القاعدہ نے گستاخ کارٹونسٹ کے سر کی قیمت ایک لاکھ ڈالر مقرر کررکھی تھی۔

سال 2015 میں ایک مباحثے میں شرکت کے دوران لارس ولکس پر حملہ بھی ہوا تھا، تاہم وہ اس حملے سے بچ نکلا تھا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.