Ultimate magazine theme for WordPress.

ترک امیرالبحر عروج باربروسہ اور خیرالدین باربروسہ

35

"ترک امیرالبحر عروج باربروسہ اور خیرالدین باربروسہ” دراصل تحقیقی مقالہ ہے، جسے جسے پاک بحریہ کے سابق کمانڈو محی الدین چودھری نے رقم کیا ہے۔ آئیے پڑھتے ہیں۔

مغربی مصنفین نے اسلامی تاریخ کو مسخ کرکے پیش کرنا اپنا وطیرہ بنا رکھا ہے، وہ تعصب کی عینک اتارنے کو تیار نہیں۔

وہ اسلامی تہذیب اور تاریخی واقعات کو ایک خاص نقطہ نظر سے دیکھنے کے عادی ہیں۔

کبھی بحیرہ روم میں عیسائی جہاز رانوں کا دبدبہ تھا، لیکن اس مسیحی سمندری اقتدار کو ترک ایڈمرل عروج باربروسہ نے چیلنج کیا۔

بعد میں عروج کے بھائی خیرالدین بار برو سہ نے ترک امیر البحر کی حیثیت میں مسلمانوں کی طاقت کا سکہ بٹھا دیا۔

یوں پورے بحیرہ روم میں عثمانی بحری بیڑے کا راج قائم ہوگیا تھا۔

مغرب کے کئی تاریخ دان باربروسہ برادران کو اب تک بحری قزاق کا نا م دیتے ہیں۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ کچھ مسلمان بھی کم علمی اور کوتاہ بینی کی وجہ سے یہی کچھ سمجھتے ہیں۔

اس لئے میری یہ خواہش تھی کہ اس بارے میں کچھ لکھوں اور دنیا کو باربروسہ برادران کو صحیع تناظر میں دنیا کے سامنے لا سکوں۔

ترک امیرالبحر عروج باربروسہ اور خیرالدین باربروسہ

مجھے دوران قیام انگلستان پہلی بار موقع ملا، جہاں لندن لائبریری سے کچھ اچھی کتابیں بھی ملیں۔

ان کتابوں کی مدد سے میں یہ قسط وار مضامین لکھنے کے قابل ہورہا ہوں، جس میں ان بہادر اور جیالے جہاز رانوں کی داستان حیات رقم ہے جنہوں نے مسلمانوں کو پورے سمندر( بحیرہ روم) کا حکمران بنایا۔

امید ہے اس کو پڑھنے کے بعد مسلمان جہاز رانوں کے کارناموں کو سمجھا جائے گا۔

اس طرح مغربی پروپیگنڈا کی قلعی بھی کھل جائے گی، جو باربروسہ کی عظمت کو کم تر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ ہمارے کچھ نام نہاد دانش ور جو مغرب کی ہر کتاب کو صحیفہ مان لیتے ہیں، ان کا بھی علمی دائرہ کچھ وسیع ہوجائے گا۔

مسلمان خشکی پر حکمران تھے اور بحری طاقت سے زیادہ تر صرف نظر ہی کرتے رہے۔

عرب جہازرانوں نے امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں کچھ کام کیا، مگر یہ بحری طاقت بحر قلزم ، مصر اور شام کے ساحلی علاقوں تک محدود تھی۔

پہلی دفعہ باربروسہ برادران نے شمالی افریقہ سے بحری طاقت کو مضبوط بنایا اور آہستہ آہستہ اسپین اور روم کی ساری بحری طاقتیں ان کے سامنے سرنگوں ہوگئیں۔

جب خیرالدین باربروسہ نے خلافت عثمانیہ کے بحری بیڑے کی کمان سنبھالی تو جینیوا، اٹلی، پاپائے روم، اسپین، فرانس اور الگلینڈ کے بحری بیڑوں کی طاقت بالکل محدود ہوکر رہ گئی۔

کیا باربروسہ بحری قزاق تھے؟

خیرالدین باربروسہ
ترک ڈرامہ سیریز میں عروج باربروسہ کا کردار انجن آلتان نے ادا کیا ہے۔

اکثر مسیحی مورخین ، باربروسہ برادران کو بحری قزاق قرار دیتے ہیں، مگر وہ ان کی عظمت کو گہنا نہیں سکتے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ سلطنت عثمانیہ کے عظیم عثمانی خلیفہ سلیمان عالیشان کے زمانہ میں بطور ایڈمرل خیرالدین باربروسہ نے عثمانی بحری بیڑے کو پورے بحیرہ روم کی سب سے مضبوط طاقت بنادیا تھا۔

ایڈمرل خیرالدین باربروسہ نے اسپین اور جینوا کے مشہور جہازران اینڈریا ڈوریا کو بار بار شکست سے دوچار کیا۔

اب یہ سمندر ترکوں کا تھا، پوری یورپی طاقتوں کا عمل دخل روک کر سلیمان عالیشان نے زمین پر بھی بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔

اس طرح عیسائی بحری تجارت صرف حظرناک اور تنگ ساحلی علاقوں تک محدود ہو کر رہ گئی تھی۔

(جاری ہے)

Leave A Reply

Your email address will not be published.