Ultimate magazine theme for WordPress.

جہلم کا بابا شرف شاہ: ایک کازب کا عبرت آموز واقعہ

132

"بابا شرف شاہ : ایک کازب کا عبرت آموز واقعہ” ہے ۔۔۔ جسے پاک بحریہ کے سابق کمانڈو محی الدین چودھری نے رقم کیا ہے۔ آئیے پڑھتے ہیں۔

بہت پرانی بات ہے، 1955 کا موسم گرما عروج پر تھا۔ رمضان کا مہینہ تھا، اس زمانے میں گاؤں میں بجلی نہیں تھی۔

اس دوران مکی شاہ لاہور سے پیر بابا چکیاں والے اپنے مریدوں کے ساتھ ہمارے گاؤں میں تشریف لائے۔ سارا گاؤں ان کی جائے قیام پر جمع تھا۔

حالانکہ وہ حویلی تو کافی بڑی تھی مگر ارد گرد کے گاؤں سے بھی لوگوں کی آمد کی وجہ سے ہجوم ہو گیا تھا اور حبس کی وجہ سے لوگوں کی حالت بری ہو رہی تھی۔

پیر چکیاں والے کو یہ خطاب اس لئے ملا تھا کہ ان کے کارنامے ایسے تھے کہ انہیں چھ ماہ جیل ہو گئی تھی.

مریدوں نے مشہور کر رکھا تھا کہ جب ان کو جیل میں چکی پیسنے کا حکم دیا گیا، تو چکی خودبخود گھومنے لگی۔

پیر صاحب صرف دانے ڈالتے اور چکی پیس کر آٹا بنا دیتی ۔ ان کی بیرک میں اور قیدی تھا۔ پیر صاحب نے اس کی چکی کو بھی آٹومیٹک چلا دیا۔

مشہور تھا کہ انگریز جیلر نے جب چکیوں کو ایسے خود بخود چلتے دیکھا تو متاثر ہو کر پیر بابا کی باقی قید معاف کرادی۔ اس وقت ان کا آستانہ پیر مکی شاہ کے مزار کی حدود میں تھا۔

ہم بچہ پارٹی تو پر جگہہ پر گھس رہے تھے اور لوگوں کی باتوں سے لطف اندوز ہو رہے تھے.

پیر صاحب تھوڑی دیر کے بعد درود شریف پڑھتے اور لوگ بھی اس کے بعد درود شریف کا ورد کر رہے تھے۔

پھر نعرہ حیدری لگاتے رہے۔، گاؤں کے سادہ لوح لوگ خصوصا خواتین کا طبقہ کافی متاثر نظر آتے تھے.

ایک کازب کا عبرت آموز واقعہ:

یہ سلسلہ جاری تھا کہ حضرت پیر صاحب نے دو اعلان کئے جو بعد میں سخت تنازعہ کا باعث بن گئے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ کھمبی میں ایک پیغمبر دفن ہے وہ ہے بابا شرف شاہ۔۔ اور اس کے بعد مریدوں سے یہ نعرہ بار بار لگوایا ” بابا شرف شاہ پیغمبر”

ان کا دوسرا اعلان تھا کہ” جب تک میں کھمبی کی حدود میں ہوں کھمبی والوں کو روزہ معاف” یہ اعلان کافی پسند کیا گیا۔

ہمیں تو ان اعلانات کی کچھ سمجھ نہ آئی مگر وہاں پر اکثر مریدوں نے روزہ توڑ دیا، منتظمین نے کافی سارا شربت دودھ میں ملا کرتیار کروایا اور اکثر لوگ اس سے مستفیذ ہوئے اور بر سر عام "روزہ” کی بے حرمتی ہوتی رہی۔

مگر ظہر کے وقت حاجی سردار ، قاضی علم دین ، ڈاکٹر محمد نواز اور میاں غلام حسین صاحب نے” بابا شرف شاہ پیغمبر” کے نعرہ کی مخالفت کی اور اسے کفر قرار دے دیا۔

گاؤں میں کافی مذہبی بے چینی بڑھ گئی، خطرہ یہی تھا کہ مذہبی فساد پھیل جائے گا۔

کیونکہ ڈاکٹر نواز تو جہلم سے مولا نا محمد صادق جہلمی کا فتویٰ لے آئے تھے کہ "کسی کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبی ماننا کفر ہے”

ڈاکٹر نواز اور قاضی علم دین صاحب نے پیر صاحب کو پبلک میں بہت کچھ کہا۔

روزہ تڑوانے اور بابا شرف شاہ کو پیغمبر قرار دینے پر رجوع کرنے کا کہا گیا۔

مگر پیر صاحب کا دعویٰ تھا ” میں قلندر ہوں میری نظر کچھ اور دیکھتی ہے ،تم دنیا دار اندھے ہو ،تم معرفت کی باتوں کو نہیں سمجھ سکتے”

حاجی سردار سرائے عالمگیر جامع مسجد کے امام صاحب سے یہ مسئلہ بیان کر چکے تھے۔ انہوں نے بھی اپنے شاگردوں کے ساتھ صبح کو آنے کا وعدہ کیا تھا۔

فساد پھیلنے سے پہلے ہی گاؤں کے بزرگوں نے بابا چکیاں والی سرکار کو فوراً کھمبی سےچلے جانے کا مشورہ دیا۔

فساد کیسے ٹلا؟

شام کے بعد گاؤں چھوڑ دینے کا مشورہ منتظمین کو بھی دیا گیا۔ کیونکہ دوسرے روز سرائے عالمگیر اور جہلم سے مذہبی رضاکاروں کے آنے کا خطرہ درپیش تھا۔

جس سے مذہبی چپقلش لازم تھی۔ اور جھگڑے میں شدت اور مار دھاڑ کا ماحول بھی پیدا ہو سکتا تھا۔

اسی لئے بابا چکیاں والی سرکار کو سرشام ہی بالے ذریعہ لاہور بھیج دیا گیا۔

پیر صاحب کا یہ طریقہ کار جہالت زدہ معاشرے کےمنہ پر ایک تمانچہ تھا۔

چند سمجھدار لوگوں نے بروقت احتجاج کر کے معاملہ کو گھمبیر ہونے سے بچا لیا۔

مگر اب بھی زیادہ تر لوگ مختلف مزاروں اور گدیوں پر جاتے پیں۔ بابا شرف شاہ صاحب کا عرس بڑی شان سے ہوتا ہے۔

جہاں بیلوں کے مقابلے، کبڈی میچ اور گانے بجانے والوں کو بھی بلایا جاتا یے۔

بہت سارے مرید اب بھی یورپ اور امریکہ سے صرف عرس مبارک کے لئے آتے پیں۔ اور بے تحاشہ رقم بھی خرچ کرتے پیں۔ البتہ ” بابا شرف شاہ پیغمبر والا نعرہ” اپنی موت خود ہی مر گیا۔

حیران کن واقعہ یہ ہے کہ ہمارے گاؤں میں سات سے زیادہ مزار موجود ہیں۔

پھر بھی لوگ گھمگول شریف سے لے کر شہباز قلندر کے مزار پر باقاعدگی سے جاتے ہیں مگر کوئی بھی بابا چکیاں والے کا مرید نہیں نہ ہی کوئی ان کے مزار پر جاتا ہے۔ یہی عبرت آموز واقعہ ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.