گلے کی سوزش ایک عام بیماری ہے، لیکن اسے عام نہیں لینا چاہیے، بلکہ گلے کی سوزش کا علاج کرنا چاہیے، جس کیلئے زیادہ تردد کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔
- موسمی تبدیلی اور بڑھتی ہوئی آلودگی کی وجہ سے گلا خراب ہونا عام ہوتا ہے۔
- یہ مرض شروع میں بہت زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔
- اس کا شکار ہونے والے افراد کیلئے کھانا پینا بھی محال ہو جاتا ہے۔
اس آرٹیکل میں ہم آپ کو چند آسان اور آزمودہ گھریلو ٹوٹکوں کے بارے میں بتائیں گے۔
ان ٹوٹکوں کی مدد سے آپ بڑی آسانی کے ساتھ گلے کی سوزش یا خراش سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔
1: نمکین پانی کا استعمال
نمکین پانی کے غرارے کرنے کا ٹوٹکہ صدیوں سے برصغیر میں بڑی کامیابی کے ساتھ استعمال کیا جا رہا ہے۔
نیم گرم نمکین پانی کے غرارے کرنے سے گلے کی سوزش اور خراش کا باعث بننے والے بیکٹیریاز کا بہت جلد خاتمہ ہو جاتا ہے۔
2: میتھی سے گلے کی سوزش کا علاج
میتھی کے پتے بھی گلے کی سوزش یا خراش کا باعث بننے والے بیکٹیریاز کا خاتمہ کرنے میں بڑے معاون ثابت ہوتے ہیں۔
میتھی کے پتوں کو تیل میں ملا کر گردن کی مالش کی جائے یا میتھی کے پتوں کو گرم پانی میں ابال کر پانی سے غرارے کئے جائیں۔
3: گلے کیلئے شہد مفید دوا
شہد ہر بیماری کے لئے شفا کا کام کرتا ہے، اسی طرح یہ گلے کی سوزش یا خراش کے خاتمہ کے لئے بھی انتہائی کارگر ہے۔
دن میں دو سے تین بار اگر شہد کو چائے میں ملا کر پیا جائے تو اس کے نتیجہ میں گلے کے مسائل بہت جلد ٹھیک ہو جاتے ہیں۔
4: سیب کا سرکہ
سیب کے سرکہ میں اینٹی مائیکروبیل اجزاءبڑی مقدار میں موجود ہوتے ہیں جو کہ گلے کے لئے انتہائی مفید ہوتے ہیں۔
ایک کپ نیم گرم پانی میں ایک چائے کا چمچ سیب کا سرکہ شامل کر کے غرارے کرنے سے بھی سوزش کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔
5: لہسن سے گلے کی سوزش کا علاج
لہسن کو نیم گرم پانی میں ابال کر غرارے کئے جائیں تو اس سے بھی گلے کی خراش بہت جلد ٹھیک ہو جاتی ہے۔
لہسن اور مختلف مصالحہ جات سے تیار کیا گیا سوپ بھی اس سلسلے میں بہت کارگر ثابت ہوتا ہے۔
6: لیموں کا رس بھی مفید
ایک چائے کا چمچ لیموں کا رس لے لیں اور اسے ہلکے سے گرم پانی میں شامل کر لیں۔
تھوڑی تھوڑی دیر بعد اس پانی کے غرارے کرنے سے گلے میں سوزش پیدا کرنے والے بیکٹیریاز ختم ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
لیموں کے رس، ادرک کے پاﺅڈر اور شہد کو پانی میں ملا کر استعمال کرنے سے بھی یہ سوزش ٹھیک ہو جاتی ہے۔