Ultimate magazine theme for WordPress.

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس کالعدم کیوں ہوا؟ 8 وجوہات سامنے آگئیں

231

اسلام آباد (رائیٹ پاکستان اسپیشل رپورٹ) سپریم کورٹ آف پاکستان کے تفصیلی فیصلے میں جسٹس قاضی فائز کیخلاف پیش کیے جانے والے شواہد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے ۔۔۔۔۔ اس جائزے کے دوران سپریم کورٹ آف پاکستان کو ریفرنس میں متعدد نقائص اور خامیاں نظر آئیں ، جن کی نشاندہی عدالت عظمیٰ کے تفصیلی فیصلے میں کی گئی ہے ۔۔۔۔۔۔

  1. عدالتی فیصلے کے مطابق ریفرنس میں پہلی خامی یہ ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف تحقیقات کا حکم صدر مملکت یا وزیراعظم نے نہیں بلکہ وفاقی وزیر قانون نے دیا تھا ۔۔۔۔
  2. ریفرنس میں دوسری خامی یہ بتائی ہے کہ ریفرنس دائر کرنے سے پہلے انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 161 کے تحت جسٹس فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا فائز کو کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا ۔۔۔۔
  3. ریفرنس میں تیسری خامی یہ تھی کہ شق 161 کی متنازع تشریح کی گئی اور یہ فرض کر لیا گیا کہ جسٹس قاضی فائزٰ کو اپنے خود مختار بچوں اور اہلیہ سرینا فائز کے اثاثہ جات بھی ڈیکلئر کرنا تھے ۔۔۔۔۔
  4. ریفرنس میں چوتھی خامی یہ تھی کہ سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر منی لانڈرنگ کے الزام کی حمایت میں کوئی ثبوت فراہم کیا گیا نہ ہی اس سلسلے میں کسی کو نامزد کیا گیا ۔۔۔۔۔
  5. ریفرنس میں پانچویں خامی یہ بیان کی گئی ہے کہ صدر مملکت نے ریفرنس بنانے والے وفاقی وزیر قانون اور اٹارنی جنرل سے ایڈوائس لی ۔۔۔۔۔
  6. صدارتی ریفرنس میں چھٹی خامی یہ بیان کی گئی ہے کہ صدر مملکت نے ریفرنس کے قانونی نکات کے بارے میں تیسرے فریق سے شفاف ، غیرجانبدار اور بامقصد رائے (ایڈوائس) حاصل نہیں کی ۔۔۔۔
  7. فیصلے میں ساتویں خامی یہ بیان کی گئی ہے کہ صدر مملکت نے ریفرنس کے بارے میں آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت اپنی کوئی رائے قائم ہی نہیں کی ۔۔۔۔۔
  8. فیصلے میں اٹھویں خامی یہ بیان کی گئی ہے کہ وفاق نے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کی اہلیہ سرینا فائز عیسیٰ کا ٹیکس ریکارڈ غیر قانونی طریقے سے حاصل کیا ۔۔۔

اس کے علاوہ جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس میں متعدد دیگر انتظامی اور قانونی نقائص کی بھی نشاندہی کی گئی ہے ۔۔۔۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.