Ultimate magazine theme for WordPress.

گھوٹکی ٹرین حادثہ 40 سے زیادہ قیمتی انسانی جانیں نگل گیا

103

سکھر: گھوٹکی ٹرین حادثہ 40 سے زیادہ قیمتی انسانی جانیں نگل گیا، اس حادثے میں 50 سے زیادہ مسافر زخمی ہوئے ہیں۔

پاکستان میں ٹرینوں کے حادثات کا سلسلہ تھم نہ سکا، گھوٹکی ٹرین حادثہ بھی پاکستان ریلوے کی تاریخ کے بڑے حادثات میں سے ایک ہے۔

اس حادثے نے تین درجن سے زیادہ گھروں کے چراغ ہمیشہ کیلئے گُل کردیے۔

گھوٹکی ٹرین حادثہ کیسے پیش آیا؟

گھوٹکی ٹرین حادثہ

کراچی سے سرگودھا جانے والی ملت ایکسپریس اور راولپنڈی سے کراچی جانے والی سر سید ایکسپریس گھوٹکی کے قریب آپس میں ٹکراگئیں

اس ٹکراو کے نتیجے میں 40 افراد جاں بحق جبکہ 50 سے زائد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں بعض کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

گھوٹکی ٹرین حادثہ کے نتیجہ میں سر سید ایکسپریس کی تین جبکہ ملت ایکسپریس کی آٹھ بوگیاں پٹری سے اتر کر کھائی میں جا گریں۔

المناک حادثے میں زخمی ہونے والے ملت ایکسپریس کے مسافر کے مطابق ٹرین کی ایک بوگی کا کلمپ ٹوٹا ہوا تھا۔

اس کلمپ کے بارے میں کراچی کینٹ ریلوے سٹیشن پر عملے کو آگاہ کر دیا گیا تھا، تاہم اس کے باوجود حادثہ پیش آگیا۔

گھوٹکی ٹرین حادثہ کب اور کہاں پیش آیا؟

ریلوے کے ترجمان کے مطابق سرسید ایکسپریس نے ولہار ریلوے سٹیشن کو 3 بج کر 25 منٹ پر عبور کیا۔

دوسری جانب ملت ایکسپریس 3 بج کر 30 منٹ پر ڈہرکی ریلوے سٹیشن سے روانہ ہوئی۔

حادثہ 3بج کر 45منٹ پر پیش آیا، ڈہرکی کے قریب ملت ایکسپریس کی بوگیاں الٹ گئیں اور دوسرے ٹریک پر جا گریں۔

اسی اثناء میں دوسرے سمت سے آنے والی سرسید ایکسپرین ان بوگیوں کے ساتھ آ ٹکرائی اور ٹرین کا ایک اور خطرناک حادثہ پیش آ گیا۔

امدادی کارروائیاں

گھوٹکی ٹرین حادثہ

گھوٹکی ٹرین حادثہ کے فوری بعد ٹرینوں کے بچ جانے والے مسافروں اور علاقہ مکینوں نے امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔

بعد ازاں حادثے کا علم ہوتے ہی آرمی اور رینجرز کے دستے بھی موقع پر پہنچ گئے اور سول انتظامیہ کے ہمراہ امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔

زخمی مسافروں کو فوری طور پر مختلف قریبی شہروں کے ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا جبکہ ریلوے کی طرف سے مسافروں

کے لواحقین کی سہولت کے مختلف شہروں کے ریلوے سٹیشن پر ہیلپ ڈیسک بھی قائم کر دئیے گئے ہیں۔

گھوٹکی ٹرین حادثہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نے جامع انکوائری کا حکم دیا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے وزیر ریلوے اعظم سواتی کو جائے حادثہ پر پہنچنے کی ہدایت بھی کی۔

یہ بھی پڑھیں:

Leave A Reply

Your email address will not be published.