Ultimate magazine theme for WordPress.

چودھری نثار کا پنجاب اسمبلی کے رکن کا حلف لینے کا فیصلہ: تصدیق کردی

ایم ایس بیگ

277

راولپنڈی (رائٹ پاکستان نیوز) سینیئر پارلیمنٹیرین اور پاکستان کے منحرف راہنماء چودھری نثار علی خان نے تین سال بعد بالآخر پنجاب اسمبلی کی رکنیت کا حلف اٹھانے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے۔

چودھری نثار علی خان نے تصدیق کی ہے کہ وہ پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں رکنیت کا حلف اٹھائیں گے۔
پنجاب اسمبلی کا اجلاس جاری ہے، اور دو دن کی چھٹی کے بعد اب پیر کو اجلاس دوبارہ شروع ہوگا۔

چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے وہ کل کے اجلاس میں پنجاب اسمبلی میں اپنی رکنیت کا حلف اٹھانے جارہا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میدان کھلا چھوڑنا یا انتخابات کا بائیکاٹ کرنا بڑی سیاسی غلطی ہوگی۔

چودھری نثار
چودھری نثار 35 برس تک میاں نواز شریف کے ساتھی اور مسلم لیگ کے ہمرکاب رہے

حلف تو لوں گا لیکن تنخواہ نہیں، سابق وزیر داخلہ

مسلم لیگ ن کے منحرف رہنما اور سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار نے اپنے بیان میں کہا کہ حلف اٹھانے کے باوجود اُن کی سوچ یا مؤقف میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

چودھری نثار علی خان نے واضح کیا کہ انہوں نے رکنیت کا حلف اٹھانے کا یہ فیصلہ اپنے حلقہ کے عوام کے ساتھ مشاورت کے بعد کیا ہے۔

سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ وہ حلف اٹھانے کے بعد پنجاب اسمبلی کوئی مراعات، تنخواہ یا ٹی اے ڈی اے نہیں لیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ اُن کا حلف اٹھانے کا مقصد اپنے انتخابی حلقے میں سیاسی محرکات اور حالات کو کنٹرول کرنا ہے۔

جیتی ہوئی سیٹ چھوڑ کر دوبارہ ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کو انہوں نے ایک عجیب منطق قرار دیا۔

سابق راہنما مسلم لیگ ن نے یہ بھی کہا کہ انتخابات کا بائیکاٹ کرنا یا کسی میدان کو کھلا چھوڑدینا دراصل اُس سے بھی بڑی سیاسی غلطی ہوگی۔

سابق وزیر داخلہ نے یہ بھی کہا کہ اپنے حلقہ کے عوام کو کورونا وائرس کے اثرات سے بچانا بھی اُن کے حلف لینے کے فیصلے کی ایک وجہ ہے۔

دوسری جانب سیاسی مبصرین چودھری نثار علی خان پنجاب اسمبلی کے حلف لینے کے فیصلے کو ملکی سیاست میں حال ہی میں ہونے والی بعض اہم تبدیلیوں کو قرار دے رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق چودھری نثار کو یقینا ملک کے طاقتور حلقوں کی جانب سے کوئی اشارہ ملا ہے، جس کے بعد انہوں حلف لینے کا اہم فیصلہ کیا ہے۔

چودھری نثار علی خان کون ہیں؟

چودھری نثار علی خان چکری (راولپنڈی) کے معروف سیاسی راجپوت خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ اُن کا شمار پاکستان کے سینئر ترین سیاستدانوں میں ہوتا ہے۔

چودھری نثار کے والد اور بڑے بھائی پاک فوج میں اعلیٰ عہدوں پر خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔

اسی لیے چودھری نثار کو اسٹیبلشمنٹ کے کافی قریب سمجھا جاتا رہا ہے۔ خود انہوں نے بھی کبھی اس سے انکار نہیں کیا۔

وہ 1985 میں پہلی مرتبہ آزاد حیثیت سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوکر مسلم لیگ کا حصہ بنے اور 2013 تک مسلسل ہر انتخاب میں کامیاب ہوتے رہے۔

تاہم 2018 کے انتخابات میں چودھری نثار علی خان کو پہلی بار اُس وقت دو حلقوں سے انتخاب ہارنا پڑا، جب وہ مسلم لیگ ن سے منحرف ہوکر آزاد حیثیت میں الیکشن لڑرہے تھے۔

2013 کے عام انتخابات میں چودھری نثار صوبائی اسمبلی کے ایک حلقہ سے آزاد حیثیت سے رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوگئے رتھے۔

تاہم انہوں نے دھاندلی کا الزام عاید کرتے ہوئے احتجاجا تین برس تک پنجاب اسمبلی کی رکنیت کا حلف نہیں لیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.