Ultimate magazine theme for WordPress.

سپریم کورٹ آف پاکستان نے پنجاب میں بلدیاتی ادارے بحال کردیے

عدالت عظمیٰ کی جانب سے بلدیاتی ایکٹ کا سیکشن 3 آئین سے متصادم قرار دے دیا گیا

157

اسلام آباد( رائٹ پاکستان نیوز) سپریم کورٹ آف پاکستان نے پنجاب میں بلدیاتی ادارے بحال کردیے۔ عدالت نے بلدیاتی ایکٹ کا سیکشن 3 آئین سے متصادم قرار دے دیا۔

مسلم لیگ ن کیلئے یہ اس حوالے سے مثبت خبر ہے کیونکہ اس وقت پنجاب میں کم و بیش تمام بلدیاتی اداروں میں مسلم لیگ ن کی حکومت ہے۔

عدالت عظمیٰ میں جمعرات کے روز بلدیاتی انتخابات سے متعلق مقدمے کی سماعت ہوئی۔ پنجاب کے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔

ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کا بیان

پنجاب کے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے سپریم کورٹ میں بیان دیا کہ پنجاب کی صوبائی حکومت صوبے میں بلدیاتی انتخابات کرانے کیلئے تیار ہے۔

ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ حکومت اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا چاہتی ہے، انہوں نے بتایا کہ یہ معاملہ مشترکہ مفادات کونسل میں زیر التواءہے۔

عدالت کے ریمارکس

چیف جسٹس گلزار احمد کی جانب سے استفسار کیا گیا کہ کیا دیگر صوبوں میں بلدیاتی انتخاب ہورہے ہیں؟

چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کے سامنے پنجاب کا 2019 کا بلدیاتی قانون چیلنج کیا گیا۔ کیا درخواست گزار چاہتا ہے قانون کے سیکشن 3 کو کالعدم کردیں۔

چیف جسٹس نے مزید استفسار کیا کہ صوبہ پنجاب میں مقامی حکومتوں کو ختم کیوں کیا گیا ؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پنجاب کی بلدیاتی حکومتوں کی مدت اب ختم ہو گئی ہو گی!

وکیل درخواست گزار کا موقف

وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ صوبہ پنجاب میں مقامی حکومتوں کی معیاد رواں برس دسمبر تک ہے۔ڈھائی سال پہلے ملک میں عام انتخابات کے بعد وفاق اور پنجاب میں نئی سیاسی جماعت کی حکومت آئی۔

وکیل درخواست گزار نے مزید بتایا کہ پنجاب حکومت نے مقامی حکومتیں تحلیل کردیں اور 1سال میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا وقت دیا

وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ ایک سال کا عرصہ گزرے کے بعد بھی پنجاب کی صوبائی حکومت نے نئی ترمیم کرکے آرڈیننس جاری کردیا۔

اٹارنی جنرل کا موقف

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ باقی صوبوں کو مردم شماری پر اعتراضات ہیں۔مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس 24 مارچ کو ہونا تھا۔

اٹارنی جنرل نے کہا وزیراعظم عمران خان کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کی وجہ سے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس اب 7 اپریل کو ہو گا۔

اِس پر اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ یہ اکیلے وفاق کامعاملہ نہیں ہے بلکہ یہ صوبوں کا بھی معاملہ ہے۔

عدالتی حکم

چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ ہم اٹارنی جنرل کا یہ بیان ریکارڈ کر لیتے ہیں۔ چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ صوبے مئی میں بلدیاتی انتخابات کر وا دیں۔

عدالت نے بلدیاتی ایکٹ کے سیکشن تین کو آئین سے متصادم قرار دے کر صوبہ پنجاب کے بلدیاتی اداروں کو بحال کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بڑا اپ سیٹ: گیلانی کو شکست، سنجرانی چیئرمین سینیٹ منتخب

Leave A Reply

Your email address will not be published.