Ultimate magazine theme for WordPress.

بڑا اپ سیٹ: گیلانی کو شکست، سنجرانی چیئرمین سینیٹ منتخب

113

اسلام آباد (رائٹ پاکستان نیوز) چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں بڑا اپ سیٹ ہوگیا۔ سینیٹر صادق سنجرانی چیئرمین سینیٹ منتخب ہوگئے۔ انہیں 48 ووٹ ملے جبکہ پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدوار یوسف رضا گیلانی کو 42 ووٹ ملے۔

یوسف رضا گیلانی کو ملنے والے 7 ووٹ نام کے اوپر مہر لگائے جانے کی وجہ سے مسترد کردیے گئے۔

سنجرانی چیئرمین سینیٹ منتخب

صادق سنجرانی (دائیں)، یوسف رضا گیلانی (بائیں)

3 مارچ کو سینیٹ کے ہنگامہ خیز انتخابات ہوئے، جس کے بعد پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے چیئرمین اور نائب چیئرمین کے لیے انتخابی معرکہ ہوا۔

صادق سنجرانی تحریک انصاف اور حکومتی اتحاد کے امیدوار تھے۔ پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم نے اپنا مشترکہ امیدوار بنایا تھا۔

سینیٹ کے نائب چیئرمین کے لیے پی ڈی ایم نے جے یو آئی ایف کے راہنما مولانا عبدالغفور حیدری کو اپنا امیدوار بنایا تھا۔ دوسری جانب مرزا محمد آفریدی کو حکومت اور ان کے اتحادیوں نے میدان میں اُتارا تھا۔
سینیٹ کا دس نکاتی ایجنڈا

سینیٹ اجلاس کیلئے پہلے سے ہی ایک دس نکاتی ایجنڈا جاری کردیا گیا تھا۔ جس کے مطابق اجلاس کے دوران سب سے پہلے نومنتخب سینیٹرز کی حلف برداری ہوئی۔

صدر مملکت عارف علوی کی جانب سے مقرر کردہ پریزائڈنگ افسر اور سینیٹر سید مظفر حسین شاہ نے نو منتخب ارکان سینیٹ سے حلف لیا۔

حلف کی تقریب کے بعد نماز جمعہ کیلئے وقفہ کردیا گیا۔ اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو پریڈائیڈینگ آفیسر سینیٹر مظفر حسین شاہ نے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سیںیٹ کے الیکشن کا شیڈول جاری کیا۔

نماز کے بعد سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے عہدوں کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے۔ تین بجے سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کیلئے ووٹنگ کروائی گئی۔

جس کے بعد نومنتخب چیئرمین سینیٹ نے حلف اٹھایا۔ حلف اٹھانے کے بعد چیئرمین سیںٹ نے ڈپٹی چیرمین سینیٹ کے انتخاب کیلئے پریزائڈنگ آفیسر کا کردار ادا کیا۔ انتخاب کے بعد چیرمین سیںیٹ نے نو منتخب ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سے حلف لیا۔

حلف اٹھانے والے ارکانِ سینیٹ

سینیٹ کا اندرونی منظر

پارلیمنٹ کے ایوان بالا سینیٹ کے نصرف ارکان نے اپنی آئینی مدت پوری کرلی۔ جس کے بعد 52 ارکان سبک دوش ہو گئے۔ 48 نومنتخب سینیٹرز نے ہفتہ کے روز حلف اٹھایا۔

جمعہ کے روز 48 نومنتخب سینیٹرز نے حلف اٹھایا۔ پی ٹی آئی کے سیف اللہ نیازی، عون عباس، اعجاز چودھری، سید علی ظفر، محسن عزیز، فیصل واوڈا، ثانیہ نشتر اور شبلی فراز نے حلف اٹھایا۔

لیاقت خان ترکئی، زرقا سہروردی تیمور، محمد ہمایوں مہمند، دوست محمد خان، فیصل سلیم رحمن ذیشان خانزادہ، فلک ناز، محمد عبدالقادر اور نسیمہ احسان، سیف اللہ ابڑو اور گردیپ سنگھ نے بھی تحریک انصاف کی جانب حلف اٹھایا۔

پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانہ، سلیم مانڈوی والا، تاج حیدر، شیری رحمن، شہادت اعوان، فاروق نائیک، جام مہتاب حسین ڈاہر اور پلوشہ خان نے سینیٹر کا حلف اٹھایا۔

مسلم لیگ ن کے افنان اللہ خان، عرفان صدیقی، ساجد میر، سعدیہ عباسی اور اعظم نذیر تارڑ نے بھی رکن سینیٹ کا حلف اٹھایا۔

سینیٹ کا حلف اٹھانے والوں میں ایم کیو ایم پاکستان کے فیصل سبزواری اور خالدہ اطیب جبکہ مسلم لیگ ق کے کامل علی آغا بھی شامل ہیں۔

بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے منظور احمد، پرنس احمد عمر احمد زئی، سرفراز بگٹی، ثمینہ ممتاز، سعید احمد ہاشمی اور دنیش کمار نے بھی پارلیمنٹ کے ایوان بالا کا حلف اٹھایا۔

جے یو آئی کے مولانا عطاء الرحمن، مولانا عبدالغفور حیدری اور کامران مرتضیٰ نے حلف اٹھایا۔ عوامی نیشنل پارٹی کے ہدایت اللہ خان اور عمر فاروق، جبکہ نیشنل پارٹی کے محمد قاسم بھی حلف اٹھانے والوں میں شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیں ۔ سینیٹر مشاہد اللہ خان انتقال کرگئے

Leave A Reply

Your email address will not be published.