Ultimate magazine theme for WordPress.

سینیٹر مشاہد اللہ خان انتقال کرگئے

سینیٹر مشاہد اللہ سیاست میں نوابزادہ نصراللہ اور شورش کاشمیری کے قبیل سے تعلق رکھتے تھے

79

اسلام آباد (رائٹ پاکستان نیوز) پاکستان میں جمہوریت کے وکیل مسلم لیگ ن کے سینیئر راہنماء سینیٹر مشاہد اللہ خان انتقال کرگئے۔ سیاسی راہنماوں نے مشاہد اللہ خان کے انتقال کو جمہوریت کے لیے بڑا نقصان قرار دیا ہے۔

سینیٹر مشاہد اللہ خان کافی عرصہ سے علیل تھے۔ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ مرحوم لیگی راہنماء مشاہد اللہ خان کے انتقال سے میاں نواز شریف ایک مخلص ساتھی سے محروم ہوگئے ہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ انتہائی دکھ کی اس خبر سے انہیں گہرا صدمہ پہنچا ہے۔ ان کی پدرانہ شفق کبھی بھلائی نہ جاسکے گی۔ یہ مسلم لیگ ن کیلئے ایک بڑا نقصان ہے۔

سابق گورنر سندھ اور مریم نواز کے ترجمان محمد زبیر نے کہا کہ سینیٹر مشاہد اللہ بڑے عزم اور حوصلے کے ساتھ سینیٹ کے اجلاسوں میں آتے تھے۔ محمد زبیر نے کہا کہ وہ ایک بہادر اور نڈر سیاسی راہنماء تھے اور آخری دم تک آمریت کے خلاف ڈٹے رہے۔

سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے مزید کہا کہ مشاہد اللہ خان کی موت ناصرف ان کے اہل خانہ اور مسلم لیگ ن کیلئے بلکہ پاکستان کے لئے بھی بہت بڑا نقصان ہے۔

سینیٹر مشاہد اللہ خان کون تھے؟

لیگی راہنماء مشاہد اللہ خان نے ستر کی دہائی میں سیاست کا آغاز کیا۔ مشاہد اللہ خان سیاست میں نوابزادہ نصراللہ خان اور آغا شورش کاشمیری کے قبیل سے تعلق رکھتے تھے۔

مشاہد اللہ خان کا ہزاروں اشعار، غزلیں، ترقی پسند شعراء کا کلام اور انقلابی نظمیں زبانی یاد تھیں، جنہیں وہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر برمحل سنایا اور داد پایا کرتے تھے۔

مشاہد اللہ خان نے پرویز مشرف کی آمریت کے دور میں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کی۔ جمہوریت کیلئے سینیٹر مشاہد اللہ خان  کی جدوجہد بڑی طویل ہے۔

سینیٹر مشاہد خان ایک پکے اور سچے مسلم لیگی تھے، نوے کی دہائی میں مسلم لیگ ن میں شرکت کے بعد وہ آخری دم تک مسلم لیگ کے وفادار اور مخلص کارکن اور راہنماء رہے۔

میاں نواز شریف کے تیسرے دور حکومت میں مشاہد اللہ خان وفاقی وزیر بھی رہے۔

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.