Ultimate magazine theme for WordPress.

روہتاس قلعہ کی سیر : ماضی کی حسین یادیں، قسط نمبر 1

215

"روہتاس قلعہ کی سیر” میں جناب محی الدین چودھری صاحب نے ماضی کی حسین یادیں تازہ کی ہیں۔ قسط نمبر 1 پیش خدمت ہے۔ آئیے محی الدین چودھری کی ساتھ ساتھ ہم بھی روہتاس قلعہ کی سیر کرتے ہیں۔

اپریل 1961 کے خوشگوار موسم میں ، دوستوں کا کافی دنوں سے اصرار تھا کہ جہلم میں واقع مشہور قلعہ روہتاس کی سیر کی جائے۔ اس پر کالج کے ہم تین ساتھی، اصغر علی خانپور، محمد حسین اور میں تو پہلے ہی رضامند تھے۔

ہمارے علاوہ، میاں شوکت، ماسٹر ارشاد، بابو سلیم، عارف لوہار اور شمشاد بٹ بھی ساتھ جانے کو تیار ہو گئے۔ ہم نے سائیکلوں پر جانے کا پروگرام بنایا اور صبح سویرے روہتاس قلعہ کا رخ کیا۔

قلعہ روہتاس شیر شاہ سوری نے بنوایا

یہ قلعہ ہمارے گاؤں سے تقریباً بارہ میل دور دینہ شہر کے نزدیک واقع ہے۔ یہ قلعہ شیر شاہ سوری نے بنوایا اور بعد میں مغل بادشاہوں کے زیر استعمال بھی رہا۔ ہمیں صحیع لوکیشن کا اندازہ نہیں تھا اس لئے ہم سب گپیں ہانکتے اور قہقہے لگاتے دینہ سے آگے گزر گئے۔

تھانہ دینہ ان دنوں جی ٹی روڈ پر واقع تھا۔ اس کے پاس جا کر رکے اور وہاں ایک پولیس کانسٹیبل سے روہتاس جانے والے رستہ کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ پتہ چلا کہ ہم آگے نکل آئے ہیں۔

رستہ کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کر نے کے بعد واپس مڑے اور دینہ شہر سے ایک چھوٹی سڑک بائیں ہاتھ کومڑتی تھی اس پر چلتے ہوئے قلعہ کا رخ کیا۔

تھوڑی دور ایک بورڈ دیکھا جو” پیر شاہ وسن” کے راستہ کی نشان دہی کر رہا تھا۔ یہاں ماسٹر ارشاد صاحب کی حس سیاحت بڑھک اٹھی۔ اور انہوں نے پہلے یہاں کی خانقاہ پر جانے کا مطالبہ کردیا۔

پہلوان شاہ کی خانقاہ

سب کو ان کے اس مطالبہ کو ماننا پڑا۔ کیونکہ ارشاد صاحب نے ایک مشہور کہانی سن رکھی تھی تھی جس کے مطابق” ہمارے گاؤں کے بزرگ پہلوان شاہ صاحب اس خانقاہ پر گئے،جس پر لوگ چھوٹے چھوٹے آئینے بطور چڑھاوا چڑھایا کرتے تھے۔

"پہلوان شاہ نے وہاں سے ایک شیشہ اٹھایا اور جیب میں رکھ لیا، جب وہ اس گاؤں کی حدود سے نکلنے لگے توان کی بینائی ختم ہو گئی. وہ واپس گئے اور آئینہ اپنی جگہہ پر رکھا تو بینائی بحال ہو گئی”۔

اب ارشاد صاحب کی ضد تھی کہ میں بھی ایک آئینہ اٹھاؤں گا اور تجربہ کروں گا کہ یہ داستان حقیقی ہے یا غلط۔ ” یہ گاؤں پیر شاہ وسن ، قلعہ روہتاس کے سامنے آباد ہے اور درمیان سے نالہ گھان گزرتا ہے۔

یہاں کمزور نظر والے آتے ہیں ،ائینے اور سمندری کوڑیوں کا چڑھاوا پیش کرتے ہیں۔ بقول ماسٹر ارشاد صاحب یہ پیر صاحب خصوصی قسم کے آئی سپیشلسٹ تھے۔

آئینوں سے بینائی بحالی کی روایتیں

ہم نے مقبرہ کی زیارت کی فاتحہ پڑھی اور ارشاد صاحب کی قیادت میں چند ساتھیوں نے سمندری کوڑیاں اور چند آئینے بھی جیب میں ڈالے اور پیر شاہ وسن سے روہتاس کا رخ کیا۔

گاؤں کی حدود سے نکلے تو سب کی بصارت بحال ہی رہی اس لئے ارشاد صاحب نے پہلوان شاہ صاحب والے قصے کو جھوٹا اور ضعیف الاعتقادی کا شاخسانہ قرار دے دیا۔

اب ہم نے نالہ گھان عبور کیا ،جس میں کہیں کہیں کیچڑ اور پانی تھا ، ہم سب کڑیل جوان تھے اس لئے ہم بخیریت رہتاس کے ایک ذیلی دروازے سے قلعے میں داخل ہونےمیں کامیاب ہو گئے۔

روہتاس کا قلعہ ایک نہایت دشوار گزار علاقے میں بنا ہوا ایک بہت مضبوط قلعہ ہے۔ اس کی تین اطراف میں تو دریائے گھان بہتا ہے اور جنوب مشرق میں کوہستان نمک کی دشوار گزار پہاڑیاں پیں۔

ہم سب دوست قلعہ دیکھ کر بہت خوش تھے ، چھوٹے گیٹ سے اندر داخل ہوئے اور سائیکل اٹھائے ہوئے سیڑھیاں چڑھ کر قلعہ میں واقع ریسٹ ہاؤس میں جاکر اپنی سائیکلیں کھڑی کیں۔

سیاہ یا سیاح

وہاں ہی پانی پیا اور پھر قلعہ کی سیر کے لئے چل پڑے۔ قلعے کی سنگین دیواروں پر گھومے اور پھر پرانی مغل مسجد دیکھی ۔ وہاں پر موجود کچھ لوگوں نے مسجد کی بغل نے نکلنے والی سرنگوں کے بارے کافی حیران کن معلومات مہیا کیں۔

انہوں نے بڑی سنسنی خیز کہانیاں بھی سنائیں۔ اس مسجد کے ساتھ ہی مان سنگھ کے محل کے خستہ حال کھنڈرات تھے۔ ہم اس پر بھی گئے۔

ارشاد صاحب نے پیپل کے پتے توڑ کر ان سے مان سنگھ کے محل کی دیوار پر اپنا نام لکھا ” محمد ارشاد سیاہ ” یہ نام ابھی تک دوستوں کے درمیان مذاق کرنے کا باعث ہے۔

یہ بات اور ہے کہ اس کی توجہ بہت بعد میں دلائی گئی کہ آپ "سیاح” ہیں "سیاہ "نہیں. ویسے پتوں سے لکھا گیا نام چند روز میں ختم ہو جاتا ہے ، مگر ہمارا مذاق ساٹھ سال کے طویل عرصہ بعد بھی جاری ہے۔

نالہ گھان سے شارٹ کٹ

سیر کے پہلے مرحلے کے بعد ہم نے ریسٹ ہاؤس میں جا کر کھانا کھایا ۔ اور پھر قلعے کی باؤلی اور دیگر جگہوں کو دیکھا۔ قلعہ اور اس کے نواحی علاقے واقعہ قابل دید ہیں اور ہم سارے دوست بھی مشتاقان دید تھے۔

قلعہ روہتاس کی سیر بہت دلچسپ رہی اور دوستوں کی اٹھکیلیاں اس کو مزید پرلطف بناتی رپیں۔ عصر سے پہلے ہم نے ریسٹ ہاؤس جاکر سائیکل لئے اور واپسی کا پروگرام بنایا۔

تین دوستوں اصغر علی، میاں شوکت اور عارف نے صاف بتا دیا کہ وہ بذریعہ جی ٹی روڈ جہلم جائیں گے۔ وہ ارشاد صاحب کی راہنمائی میں واپس جانے پر بالکل رضامند نہ ہوئے۔ اور کافی رد و کد کے بعد ہم نے ان تینوں کو جی ٹی روڈ کے راستہ واپس جانے کی اجازت دے دی۔

مگر ہم نے ارشاد صاحب کی معلومات پر تکیہ کیا اور ان کی راہنمائی میں واپسی کا سفر شروع کیا۔ ارشاد صاحب کا کہنا تھا” اگر ہم نالہ گھان میں سے گذرتے ہوئے ملوٹ سے جہلم جانے والے راستے پر جائیں تو بہت شارٹ کٹ ثابت ہو گا”

یہ اور بات ہے کہ روہتاس سے جہلم کی طرف نالہ گھان سے گذر کر جانا ہمارے لئے ایک بہت ہی ذیادہ یادگار مہماتی سفر ثابت ہوا۔ ایک ایسا سفر جس کو اب تک ہم دوست زیر موضوع لاتے ہیں اور لطف اندوز ہوتے ہیں۔ (جاری ہے)

Leave A Reply

Your email address will not be published.