Ultimate magazine theme for WordPress.

صدر ٹرمپ مواخذے کا خدشہ، واشنگٹن میں ایمرجنسی نافذ

128

واشنگٹن (رائٹ پاکستان نیوز) نومنتخب امریکی صدر جوبائیڈن کی تقریب حلف برداری میں چند ہی روز رہ گئے ہیں۔ دارالحکومت میں گزشتہ ہفتے کے دوران ہونے والے ہنگاموں نے ایسی صورتحال پیدا کردی ہے کہ صدر ٹرمپ کو تقریب حلف برداری تک دارالحکومت ایمرجنسی نافذ کرنا پڑگئی ہے۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ کو اپنے مواخذے کا بھی خدشہ ہے۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ واشنگٹن میں ہنگامی حالات کے نفاز کا فیصلہ پیر کی شام وہائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں کیا گیا۔ یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر مائیک پینس کی ملاقات میں کیا گیا۔

ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ امریکی خفیہ ایجنسیوں اور ایف بی آئی کی اُن رپورٹس کے بعد کیا گیا، جن میں خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ نومنتخب امریکی صدر جو بائیڈن کی تقریب حلف برداری کے موقع پر مسلح حملوں اور پُرتشدد مظاہروں کا خدشہ ہے۔

ٹرمپ کیخلاف کارروائی کی قرارداد

دوسری جانب امریکی ایوان نمائندگان میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو معزول کرنے کیلئے اسپیکر اور دیگر کئی ارکان نے قرار داد جمع کرائی ہے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکہ نائب صدر مائیک پینس قرارداد پر کارروائی نہیں کریں گے تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مواخذہ کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ نومنتخب صدر جو بائیڈن کی حلف برداری کی تقریب 24 جنوری کو ہوگی۔

امریکہ میں پر تشدد مظاہرے

امریکہ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ اقتدار کی منتقلی پر امن نہیں رہ پائی اور کشیدگی کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا ہے۔

یہ کشیدگی اُس وقت عروج پر پہنچ گئی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے کی بجائے دھاندلی کا الزام عاید کردیا اور پھر مسلسل اپنے الزامات کو دہراتے رہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جیت کے دعوؤں کے بعد ٹرمپ کے حمایتیوں نے مشتعل ہوکر کانگریس کی عمارت پر بھی دھاوہ بول دیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کے اِس بلوے میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ان ہنگاموں کے بعد امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ صدر ٹرمپ کا مواخذہ ہوسکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اب وہ اپنی ہار تسلیم کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

PDM

Leave A Reply

Your email address will not be published.