Ultimate magazine theme for WordPress.

پچاس پیسے منافع سے کروڑ پتی بننے کا راز Best Earning Secrets

135

کیا آپ اپنا منافع کم رکھ کر زیادہ پیسے کماسکتے ہیں؟ تو یاد رکھیں کہ اس کا جواب "ہاں” میں ہے۔ آپ بالکل ایسا کرکے کروڑ پتی بن سکتے ہیں، لیکن سوال ہے کہ کیسے؟ تو اس بلاگ میں آپ کو یہی راز اور گُر جاننے کا موقع ملے گا کہ فیصل آباد کی سوتر منڈی کے سینکڑوں تاجر Best Earning Secrets  پچاس پیسے منافع سے کروڑ پتی کیسے بنے؟

اس موضوع پر پاکستان کے معروف ٹرینر اور موٹیویشنل اسپیکر سر مصطفے صفدر بیگ کی گفتگو سننے کیلئے درج ذیل لنک پر کلک کریں۔

دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ کامیاب تو ہر کوئی ہونا چاہتا ہے، اور دولت بھی کمانا چاہتا ہے اور اس کیلئے ہر وقت اس کے ذہن میں بس یہی بات رہتی ہے اس نے کروڑ پتی بننا ہے۔

دولت کمانے کی یہ بات اس کے ذہن میں بھی آرہی ہوتی ہے جو کسی چھوٹی سی گلی میں بس چھوٹی سی دکان ڈال کر بیٹھا ہوتا ہے۔

یعنی ایک ایسا شخص جس کے گاہکوں کی تعداد صرف گنتی میں ہو، اور ہر شخص کو روزانہ سودا بھی محض سو روپوں کا دے رہا ہو، وہ بھی کروڑ پتی بننے کا ارمان دل میں پال کر بیٹھا ہوتا ہے، آپ کیلئے یہ بات حیران کن ہوگی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ بھی یقینا ڈھیروں دولت کماسکتے ہیں۔

زیادہ بِکری (سیل) یعنی زیادہ منافع

اگر آپ چھوٹی دکان پر بھی زیادہ پیسے کمانا چاہتے ہیں تو اپنی پراڈکٹس کی بِکری (یعنی سیلز) بڑھائیں، اور بکری اس وقت بڑھے گی، جب آپ اپنے گاہکوں کی تعداد بڑھائیں گے۔

یہاں میں فیصل آباد کی مشہور سوتر مندی کی ایک مثال دوں گا، آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی، وہاں کپڑے کا سودا کرنے والے تاجر کا فی میٹر منافع عموما پانچ پیسے سے شروع ہوکر پچاس پیسے پر ختم ہوجا تا ہے۔

آپ پوچھیں گے کہ پھر وہاں کا ہر تاجر کم از کم کروڑ پتی کیوں اور کیسے ہوتا ہے تو اس کا سادہ سا جواب ہے کہ بے شک اس تاجر کا فی میٹر منافع پانچ پیسے ہوتا ہے، لیکن اس کی سیل روزانہ لاکھوں میٹر کپڑے پر مشتمل ہوتی ہے۔

تھوک میں سیلز زیادہ تو کمائی بھی زیادہ

اب اگر ایک تاجر روزانہ ایک سودے میں ایک لاکھ میٹر کپڑا بھی آگے بیچتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ پانچ پیسے منافع کے لحاظ سے بھی کم از کم پانچ ہزار روپے کی دیہاڑی لگاتا ہے۔

اسی طرح اگر اس کا منافع پچاس پیسے فی میٹر ہے تو وہ پچاس ہزار روپے کی کم از کم دیہاڑی لگا لیتا ہے۔
یوں اس کی روزانہ کی کمائی پانچ ہزار روپے سے لے کر پچاس ہزار روپے تک بنتی ہے یعنی وہ ماہانہ ڈیڑھ لاکھ روپے سے لے کر پندرہ لاکھ روپے تک آسانی سے کمالیتا ہے۔

یاد رکھیں کہ یہ کم از کم کمائی ہے، حالانہ سوتر منڈی میں بیٹھا تاجر روزانہ کئی کئی لاکھ میٹر کپڑا بیچتا ہے۔

پرچون میں سیلز کم تو کمائی بھی کم

سوتر منڈی کے تھوک کے کاروبار کے مقابلے میں عام مارکیٹ میں ایک دکاندار اسی کپڑے پر پرچون میں فی میٹر پانچ روپے سے پچاس روپے تک کم از کم منافع کماتا ہے۔

لیکن چونکہ وہ دکاندار پرچون میں چونکہ روزانہ صرف چند میٹر کپڑا ہی بیچ پاتا ہے، اس لیے اس کی کمائی سینکڑوں روپے یا زیادہ سے زیادہ ہزاروں روپے ہوتی ہے، یوں وہ ہزاروں روپے تو کمالیتا ہے، لیکن کروڑوں روپے نہیں کما پاتا۔

زیادہ سیلز کیلئے زیادہ گاہک

زیادہ پیسے کمانے کیلئے گُر کی بات یہ ہے کہ آپ اپنا منافع کم رکھ کر بس گاہکوں کی تعداد (یعنی اپنی سیلز) بڑھائیں، زیادہ گاہک سے زیادہ سیل ہونے کا مطلب ہوگا کہ آپ زیادہ کمائی کررہے ہیں۔

جس دن آپ ایک لاکھ روپے کمانے کی بجائے ایک لاکھ لوگوں کو اپنی خدمات فراہم کرنے کا سوچ لیں گے، اس دن آپ کروڑ پتی بننے کی جانب پہلا ٹھوس قدم بھی اٹھالیں گے۔ یقین مانیں کہ اس دن دنیا کی کوئی طاقت آپ کو کروڑ پتی بننے سے نہیں روک سکے گی۔

اس لیے آج سے ایک لاکھ لوگوں کو اپنی خدمات یعنی سروسز فراہم کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد شروع کردیں۔ آپ کی خدمات بھی ایسی ہونی چاہئیں کہ اس جیسی خدمات کوئی دوسرا فراہم نہ کررہا ہو، بس پھر دیکھیں کہ دولت کی دیوی آپ پر کیسے عاشق ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں اگر آپ کو راہنمائی درکار ہے تو درج ذیل ویڈیو لنک کو ضرور کلک کریں۔

ایک اہم بات

اور آخر پر ایک اہم بات یہ کہ اگر آپ کو یہ بلاگ مفید اور اچھا لگا ہو تو اِسے اپنے حلقہ احباب میں یعنی فیس بُک اور وٹس ایپ پیجز اور گروپس پر شیئر کردیں۔ ممکن ہے اِس طرح اُن میں سے کسی کا بھلا ہوجائے گا، اور آپ کا ایک شیئر ہی آپ کیلئے صدقہ جاریہ بن جائے۔

ہماری دُعا ہے کہ اللہ تعالی آپ کیلئے آسانیاں پیدا فرمائیں اور آپ کو دوسروں میں آسانیاں بانٹنے والا بنائیں، آمین۔

Business ideas in Pakistan

Leave A Reply

Your email address will not be published.