Ultimate magazine theme for WordPress.

آپ کو مایوس ہونا چاہیے یا پرامید؟ – Hopeless is Sin

159

دنیا کے اکثر علاقوں میں مہلک وائرس سے بچاو کیلئے کوششیں جاری ہیں۔ بچاو کے ساتھ ویکسین کے تیاری اور بروقت دستیابی کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ Hopeless is Sin

کم و بیش سال بھر پہلے صورتحال ایسی نہ تھی۔ ایک سال پہلے جب اِس مہلک وبا نے عالمی وبا کا روپ دھارا تو ساری دنیا کی طرح پاکستان پر بھی اس کا اثر پڑا۔

اس موضوع پر پاکستان کے معروف ٹرینر اور موٹیویشنل اسپیکر سر مصطفے صفدر بیگ کی سیر حاصل گفتگو سننے کیلئے درج ذیل لنک پر کلک کریں Hopeless is Sin

سال پہلے کی مایوس کن صورتحال

گلیاں سنان ہونے لگی، بازار ویران ہوگئے۔ دکانیں بند ہوگئیں، کاروباد ٹھپ ہوگئے، آنے والے کل کا کسی کو کچھ پتہ نہیں تھا۔

کوئی مایوسی سی مایوسی تھی۔ کوئی ناامیدی سی ناامیدی تھی۔ امید کے چراغ، چراغ آخر شب کی طرح بجھ رہے تھے اور یاس و حسرت کے الاو بھڑک رہے تھے۔

زندگی کے بازار میں ناامیدی کا سودا خوب بک رہا تھا، اور امید کا بھاو آخری حد تک گھر چکا تھا۔ آس اور امید کے بازار میں مندی چل رہی تھی۔ لوگ پوچھ رہے تھے کہ کیا یہی دنیا ہے؟ اور کیا یہی انسان کا ماضی ہے اور یہی انسان کی تاریخ ہے؟

کیا دنیا مایوسی کا نام ہے؟

امید کا دامن تھامنے والوں نے تب بھی کہا تھا کہ "نہیں بالکل بھی نہیں، دنیا مایوسی کا نام نہیں ہے، دنیا ناامیدی کا نام نہیں ہے، یہ دنیا نامراد ہونے کا نام بھی نہیں ہے”۔

دنیا اگر مایوسی یا نامرادی کا نام ہوتی تو یہ دنیا کب کی ختم ہوچکی ہوتی۔ دنیا اگر ناکامی کا نام ہوتی، تو ہزاروں سال پہلے قیامت برپا ہوچکی ہوتی۔ یہ دنیا اجڑ چکی ہوتی، برباد ہوچکی ہوتی۔

دنیا امید کا نام ہے

دوستو! یہ دنیا اگر مایوس ہونے یا ناکامی کا احساس پالنے کا نام تو نہیں پھر کیا ہے، یو یاد رکھیں کہ
یہ دنیا ناکام ہونے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ دنیا آگے بڑھنے کا نام ہے

  • مایوسی کے تھپیڑے کھاکر آگے بڑھنے کا نام۔
  • رکاوٹوں کو کندھے مار مار کر آگے بڑھنے کا نام
  • ٹھوکروں کو پاوں تلے کچل کر آگے بڑھنے کا نام۔
  • پریشانی کا چوغہ اتاکر آگے بڑھنے کا نام۔
  • اطمینان قلب اور ذہنی سکون کا لبادہ اوڑھ کر آگے بڑھنے کا نام۔
  • اور یہ دنیا ابہام سے یقین تک کے سفر کا نام ہے۔

انسان کا اصل مسئلہ مایوسی ہے

لیکن انسان کا مسئلہ یہ ہے کہ کوئی کام اس کی مرضی کے مطابق نہ ہو تو یہ مایوس ہونے لگتا ہے، امید کا دامن ہاتھ سے چھوڑنے لگتا ہے، اور بے یقینی کے سمندر میں غوطے کھانے لگتا ہے۔

لیکن یاد رکھیں ہر کام انسان کی مرضی کے مطابق نہیں ہوتا، یہ دنیا انسان کی مرضی کے مطابق نہیں چلتی۔ بلکہ یہ دنیا اپنے خالق کی مرضی کے تابع ہے۔ انسان، چرند پرند اور دنیا میں موجود ہر چیز اپنے خالق کی مرضی کے تابع ہے۔

 

دوستو! اگر آپ بھی اپنی مرضی کو خالق کائنات کی مرضی کے تابع کردیں تو مایوسی آپ سے دور بھاگنے لگے گی۔ اگر آپ بالکل ویسا بن جائیں جیسا مالک کائنات آپ کو دیکھنا چاہتا ہے، تو پھر

  • یہ غم و الم کے تھپیڑے، خوشی اور مسرت کے جھونکے بن جائیں گے۔
  • رکاوٹیں کامیابی کی سنگ میل بن جائیں گی۔
  • پریشانی کی اوٹ سے سکون جھانکتا محسوس ہوگا۔
  • اور ناکامی کی چلمن سے کامیابی اپنا چہرہ دکھانے لگے گی۔
  • مالک کائنات کی مرضی پر چلنے کا طریقہ

دوستو! خود کو مالک کائنات کی مرضی کے تابع کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ مایوس ہونا چھوڑ دیں۔ یاد رکھیں کہ جس دن آپ مایوسی کو چھوڑدیں گے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ نے کفر کو چھوڑ دیا۔

یہ بھی یاد رکھیں کہ مالک کائنات نے آپ کو اس دنیا میں ناکام ہونے کیلئے نہیں بھیجا بلکہ آپ کو کامیاب ہونے کیلئے بھیجا گیا ہے۔ کامیابی کا یہ یقین ہی آپ کو کامیابی کی اصل منزل تک پہنچائے گا۔

یقین رکھیں

یقین رکھیں کہ پہلے کی طرح آئندہ بھی بیماریوں اور وباؤں کے علاج دریافت ہوتے رہیں گے۔

  • یہ بازار پھر آباد ہوں گے۔
  • گلیوں میں اسی طرح چہل پہل ہوگی۔
  • دکانوں پر پھر ویسا ہی رش دکھائی دے گا۔
  • کاروبار میں پھر پہلے جیسی تیزی آئے گی۔
  • اور ہر کسی کے گھر کا چولہا پھر جلے گا۔

دوستو! اگر آپ یقین کے ساتھ کامیابی کی اس منزل تک پہنچنا چاہتے ہیں اور اگر اس سلسلے میں آپ کو راہنمائی درکار ہے تو درج ذیل ویڈیو لنک کو ضرور کلک کریں۔

ایک اہم بات

اور آخر پر ایک اہم بات یہ کہ اگر آپ کو یہ بلاگ مفید اور اچھا لگا ہو تو اِسے اپنے حلقہ احباب میں یعنی فیس بُک اور وٹس ایپ پیجز اور گروپس پر شیئر کردیں۔ ممکن ہے اِس طرح اُن میں سے کسی کا بھلا ہوجائے گا، اور آپ کا ایک شیئر ہی آپ کیلئے صدقہ جاریہ بن جائے۔

ہماری دُعا ہے کہ اللہ تعالی آپ کیلئے آسانیاں پیدا فرمائیں اور آپ کو دوسروں میں آسانیاں بانٹنے والا بنائیں، آمین۔

Earn Million

Leave A Reply

Your email address will not be published.