Ultimate magazine theme for WordPress.

کورولش عثمان قسط نمبر 39: ارطغرل غازی کا جرگے سے آخری خطاب

390

سلطنت عثمانیہ کے بانی عثمان اول کے والد اور قائی قبیلے کے سردار ارطغرل غازی کو احساس ہوگیا تھا کہ اُن کے ”کوچ“ کا وقت قریب آن پہنچا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بستر علالت اُٹھ کر سردار ارطغرل غازی نے جو پہلا کام کیا، وہ یہ کیا کہ تمام قائی سرداروں کا گرینڈ جرگہ طلب کرلیا، تاکہ کچھ اہم فیصلے کیے جاسکیں۔ کورولش عثمان قسط نمبر 39

ترک ٹی وی ٹی آر ٹی ون کی تاریخی ڈرامہ سیریز "کورولش عثمان کی 39 ویں قسط میں دکھایا گیا ہے کہ اس جرگے کی صدارت خود ارطغرل غازی نے کی۔

جرگے کا بنیادی مقصد قائی قبیلے کے نئے سردار کو نامزد کرنا اور آنے والے خطرات کی پیش بندی کرنا تھا۔ یہ قائی سرداروں کا بڑا پرشکوہ جرگہ تھا، جس میں سبھی سرداروں نے روایتی انداز میں شرکت کی۔

ارطغرل غازی کا ولولہ انگیز خطاب

قائی سرداروں سے خطاب میں سردار ارطغرل غازی نے زور دیا کہ ”باہمی اختلافات بھلادیں اور آپس میں متحد ہوجائیں، کیونکہ اس موقع پر ہمیں ایک ایسا سردار چاہیے، جو پوری قوم کو ایک جھنڈے تلے جمع کرسکے“۔

ارطغرل غازی بولے ”سردارو! مشکل وقت میں ہمیشہ پرعزم رہو، کیونکہ ایک سپاہی کا رویہ ہی یہ طے کرتا ہے کہ وہ کمانڈر بننے کے لائق ہے یا نہیں؟ یہ بھی یاد کھو کہ جو خرابی پیدا کرتا ہے، وہ ہمیشہ ناامید بھی رہتا ہے“۔

ارطغرل غازی نے یاد دلایا کہ ”یہ سرزمینیں غازیوں کی کوششوں اور شہداءکے خون سے فتح ہوئی ہیں، وہ لوگ جو بابرکت جنگ کیلئے ہتھیاروں سے لیس ہوئے، اور غیرت کا عمامہ باندھا، وہ اللہ کے انعام تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ اُن عظیم غازیوں میں سے اِس وقت بامسی اور عبدالرحمن غازی حیات ہیں۔ میرے یہ ساتھی آپ کیلئے میری میراث ہیں۔ جیسے آپ میری عزت کرتے ہیں، اِن کی بھی عزت کرتے رہیں گے“۔

ریاست کیسے قائم ہوتی ہے؟

میرے بیٹو! میرے سردارو! میں ارطغرل غازی بن سلیمان شاہ غازی! اپنی جان اُس کے امانت دار کو لوٹانے والا ہوں۔ یہ آپ کیلئے میرے آخری الفاظ ہیں، اور یہ میرا آخری جرگہ ہے۔ اپنے کانوں کو کھول لو اور میری بات کو دھیان سے سنو! ریاست کا مطلب مقصد کا مجسمہ ہوتا ہے۔

یاد رکھو! یہ لوگوں کی رضامندی ہے جو ایک ریاست کو قائم کرتی ہے۔ یہ ایک ایسا قدم ہے جو لوگوں کے وقار کا تحفظ کرتا ہے، لوگوں کی آزادی اور اُن کی خوشحالی کا وعدہ کرتا ہے۔ ان سب سے بڑھ کریہ ریاست ایک ترک کیلئے ایک نظریہ ہے۔

یہ خیال مذہب یا زبان کا خیال کیے بغیرتمام مظلوم لوگوں کی تمام ظالموں سے حفاظت کرتا ہے۔ اس کا مطلب انصاف کے ساتھ حکمرانی کرنا اور قانون کا زندہ رکھنا ہے۔

یاد رکھو! مظلوم کی نظریں تم پر لگی ہیں۔ اُن کی دعائیں تمہارے ساتھ ہیں۔ اگر آپ غلامی کو قبول کرتے ہیں اور کسی ظالم کی ریاست کو خود پر سوار ہونے دیتے ہو، خواہ وہ رومی ہو یا منگول! تو پھر تم مظلوموں کی دعاو¿ں کو کس طرح پورا کرسکتے ہو؟

بتاؤ! پھر بھلا انصاف کس طرح قائم ہوسکتا ہے؟ قانون کو کس طرح زندہ رکھا جاسکتا ہے؟ اس لیے غلامی کی زنجیریں توڑ دو، چاہے اِس کے بدلے کچھ بھی ہوجائے، چاہے تمہیں کسی بھی چیز کا سامنا کرنا پڑے۔

ریاست کیسے مضبوط ہوتی ہے؟

یاد رکھو! قائی کا جھنڈا اللہ کے سوا دوسری کسی کے سامنے نہیں جھکنا چاہیے؟ کسی کے سامنے نہیں جھکنا چاہیے!جہاں بھی شرک کی طاقت مضبوط ہونے لگے، تو اس کے مقابلے کیلئے فوج کو اکٹھا کرو۔ قائیوں کا جھنڈا اور اس کے وفادار سپاہی اُس شرک کے خلاف کھڑے کرو۔

یاد رکھو! جولوگ اللہ کے فتح کے وعدے پر یقین نہیں رکھتے، وہ سچے اللہ کا انکار کرتے ہیں۔ اِ س لیے پہلے اچھے مسلمان بنو، پھر مقدس جنگ (جہاد) کیلئے اپنی تلواروں کو بلند کرو۔ آپ دیکھیں گے کہ فتح آپ کی ہی ہوگی۔ آپ جو کریں گے، وہ مقدس جنگ(جہاد) کیلئے ہوگا۔

یاد رکھو! اگر کاریگر اور سوداگر اپنا کام اچھی طرح سرانجام نہیں دیتے، اور اپنے کام کو جہاد کے شعور سے سرشار نہیں کرتے، تو غازیوں کی محنت ضایع ہوجائے گی۔پھر ریاست مضبوط نہیں ہوگی۔

جب آپ ہر صبح اپنا کام شروع کرتے ہیں تو اپنے آپ کو بتائیں کہ آپ دین کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یعنی آپ میں سے ہر کسی کو داود صاحب (اسلحہ ساز لوہار) کی طرح ہونا چاہیے۔

جرگے سے ارطغرل غازی کے سوالات

ارطغرل غازی نے جرگے کے شرکا سے پوچھا ”اے قائی سردارو! کیا میں نے اپنا فریضہ مناسب طریقے سے سرانجام دیا؟ “ تو سرداروں نے متفقہ طور پر کہا ” اے ہمارے سردار! ہم گواہی دیتے ہیں!“۔

ارطغرل غازی نے پھر سوال کیا ”کیا آپ میری سرداری سے راضی رہے ہیں؟“ اس پر بھی سرداروں نے متفقہ طور پر کہا ” اے ہمارے سردار! ہم راضی رہے ہیں!“

ارطغرل غازی نے کہا ”اگر میں اپنے وارث کے انتخاب کا اعلان کردوں تو کیا آپ اُس کی اُسی طرح عزت کریں گے، جیسے میری کرتے ہیں؟ اور اُس کے ہر حکم کی اُسی طرح اطاعت کریں گے جیسے میرے حکم کی اطاعت کرتے ہیں؟اِس پر بھی جرگے میں موجود تمام سرداروں نے متفقہ طور پر کہا ” اے ہمارے سردار! ہم بالکل اُسی طرح عزت اور اطاعت کریں گے، جس طرح آپ کی کرتے ہیں!“

اس موقع پر ارطغرل غازی نے سردار بامسے کی جانب دیکھا اور سرداروں سے دوبارہ مخاطب ہوکر بولے ”میرا وارث! میرے دل کی رضامندی سے، جس کیلئے میں اپنا یہ مقام چھوڑ رہا ہوں، آپ کا وہ نیا قائی سردار ہوگا، جس نے جہاد کی آگ کو کبھی بجھنے نہیں دیا، جس نے قائی پرچم کو ایک فتح سے دوسری فتح تک پہنچایا، جو غلامی کو قبول نہیں کرتا اور غلامی کی زنجیروں کو توڑتا ہے، وہ ہے میرا بیٹا …..!“

ارطغرل غازی کی رحلت، ایک عہد کا خاتمہ

 

اس سے پہلے کہ ارطغرل غازی اپنے وارث کا نام کا اعلان کرتے، ارطغرل غازی کی سانسیں اکھڑ گئیں، تلوار ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر گرنے لگتی ہے لیکن بامسے بیگ تلوار اور اپنے سردار ارطغرل غازی دونوں کو سنبھال لیتے ہیں۔

ارطغرل غازی اس موقع پر صرف کلمہ شہادت ہی پڑھ پاتے ہیں اور اپنی جان جاں آفریں کے سپرد کردیتے ہیں۔اس طرح ایک عہد کا خاتمہ ہوتا ہے۔ ایک ایسا عہد جس نے اسلام کو نئی بلندیوں کے سفر پر گامزن کیا ۔

Osman Kurlus Season 2

Leave A Reply

Your email address will not be published.